• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

سورۃ الفاتحہ اور سورت کے درمیان بسم اللہ پڑھنا

استفتاء

نماز میں سورت  فاتحہ کے بعد سورت  شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھنا ضروری ہے؟  اگر کوئی نہ  پڑھے تب بھی درست ہے ؟ اکثر علماء کو میں نے دیکھا ہے کہ  بغیر بسم اللہ سورت  شروع کرتے ہیں ۔مولانا رفعت قاسمی صاحب نے اپنی کتاب نماز کے مسائل میں لکھا ہے بسم اللہ نہ پڑھنا بہتر ہے۔چنانچہ  مدلل نماز (ص :319 ) میں ہے :

اور سورت فاتحہ کے بعد کوئی سورت  پڑھنے کے وقت (نماز میں) بسم اللہ الخ پڑھنا مکروہ تو نہیں لیکن بہتر یہی ہے کہ نہ  کہی جائے۔(نہ پڑھی جائے)نماز خواہ سری ہو یا جہری سب کا یہی حکم ہے۔( کتاب الفقہ ص407 ج 1)

اور  مفتی شفیع صاحب ؒمعارف القرآن میں فرماتے ہیں کہ سورت  فاتحہ اور سورت  کے درمیان بسم اللہ نہیں پڑھنا چاہیے۔ معارف القرآن (1/77)  میں ہے:

مسئلہ : نماز میں سورت  فاتحہ کے بعد سورت شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ نہیں پڑھنا چاہیے  ، خواہ جہری نماز ہو یا سری۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین سے ثابت نہیں ہے ، شرح منیہ میں اس کو امام اعظم ؒاور ابو یوسف ؒ کا قول لکھا ہے اور شرح منیہ ، در مختار برہان وغیرہ میں اس کو ترجیح دی ہے ، مگر امام محمدؒ  کا قول یہ ہے کہ سری نمازوں میں پڑھنا بہتر ہے بعض روایات میں یہ قول ابو حنیفہؒ کی طرف بھی منسوب کیا گیا ہے ، اور شامی نے بعض فقہاء سے اس کی ترجیح بھی نقل کی ہے بہشتی زیور میں بھی اس کو اختیار کیا گیا ہے ، اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ کوئی پڑھ لے تو مکر وہ نہیں ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

فاتحہ اور سورت کے درمیان بسم اللہ پڑھنا ضروری تو  نہیں ہے البتہ بہتر ہے ۔

توجیہ:نماز میں سورت  فاتحہ اور سورت کے درمیان  بسم اللہ پڑھنا   شیخین ؒ کے نزدیک سنت نہیں ہے اور امام محمد ؒ کے نزدیک سری نمازوں میں  سنت ہے البتہ کسی کے نزدیک بھی  سورت  فاتحہ اور سورت کے درمیان  بسم اللہ پڑھنا    مکروہ نہیں ہے ۔ اور امام محمد ؒ کے نزدیک پڑھنا اولی ہے اور امام ابو حنیفہ ؒ بھی اس مسئلہ میں امام محمدؒ کے ساتھ ہیں اور ایک قول کے مطابق تو اولویت میں کسی کا اختلاف نہیں  لہذا  فاتحہ اور سورت کے درمیان بسم اللہ پڑھنا  اولی ہے۔

باقی مولانا رفعت قاسمی  صاحب نے اپنی اسی کتاب میں “مسائل امامت “میں بسم اللہ پڑھنے کو مستحب لکھا ہے  اور  مفتی شفیع صاحب ؒ نے  امداد المفتین میں معارف القرآن کی عبارت کی یہ توجیہ کی ہے کہ وہاں  ” نہیں پڑھنا چاہیے  ” کا مطلب یہ ہے کہ سنت نہیں ہے ۔

النہر الفائق شرح كنز الدقائق  (1/ 210) میں ہے:

ودل كلامه أنه لا يسمي بين الفاتحة والسورة وهو قولهما وقال محمد ليس في السرية وجعله في (الخلاصة) رواية الثاني عن الإمام وفي (المستصفى): وعليه الفتوى وفي (البديع): الصحيح قولهما وفي (العتابية) و (المحيط): قول محمد هو المختار، ونقل ابن الضياء في (شرح  الغزنوية) عن (شرح عمدة المصلي) إنما اختير قول أبي يوسف هذا لأن لفظة الفتوى آكد وأبلغ من لفظة المختار ولا خلاف أنه لو سمى كان حسنًا

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (1/ 330) میں ہے:

وقوله في كل ركعة أي في ابتداء كل ركعة فلا تسن التسمية بين الفاتحة والسورة مطلقا عندهما، وقال محمد تسن إذا خافت لا إن جهر وصحح في البدائع قولهما، والخلاف في الاستنان أما عدم الكراهة فمتفق عليه، ولهذا صرح في الذخيرة والمجتبى بأنه إن سمى بين الفاتحة والسورة كان حسنا عند أبي حنيفة سواء كانت تلك السورة مقروءة سرا أو جهرا ورجحه المحقق ابن الهمام وتلميذه الحلبي لشبهة الاختلاف في كونها آية من كل سورة،

درر الحكام شرح غرر الأحكام  (1/ 69) میں ہے:

«(قوله أي لا يسمي في سورة بعدها) أقول أي في الركعة الواحدة والمراد نفي سنية الإتيان بها بعد الفاتحة وهذا عندهما.

وقال محمد يسن الإتيان بها في السرية بعد الفاتحة أيضا للسورة واتفقوا على عدم كراهة الإتيان بها بل إن سمى بين الفاتحة والسورة كان حسنا سواء كانت الصلاة جهرية أو سرية وأشرنا بما قدمناه إلى سنية الإتيان بها عند أبي حنيفة كما رواه المعلى عن أبي يوسف قبل الفاتحة في كل ركعة وسيصرح به المصنف احترازا عما روى الجن أن محلها أول الصلاة فقط عند أبي حنيفة اهـ»

المحیط البرہانی  (1/ 359) میں ہے:

وذكر الفقيه أبو جعفر عن أبي حنيفة: أنه إذا قرأها مع كل سورة فحسن.

وروى ابن أبي رملة عن محمد أنه يأتي بالتسمية عند افتتاح كل ركعة، وعند افتتاح السورة أيضا، إلا أنه إذا كان صلاة يجهر فيها بالسورة.

لا يأتي بالتسمية بين الفاتحة والسورة، وعند الشافعي يأتي بالتسمية في كل ركعة، ويأتي بها أيضا في رأس السورة، سواء كان صلاة يجهر فيها بالقراءة أو يخافت، وذكر أبو علي الدقاق أنه يقرأ قبل فاتحة الكتاب في كل ركعة، قال: وهو قول أصحابنا ورواية أبي يوسف عن أبي حنيفة، وهو قول أبي يوسف أحوط؛ لأن العلماء اختلفوا في التسمية أنها هل هي من الفاتحة أم لا؟

بدائع الصنائع (1/ 204) میں ہے:

«وأما عند رأس كل سورة في الصلاة فلا يأتي بالتسمية عند أبي حنيفة وأبي يوسف، وقال محمد يأتي بها احتياطا كما في أول الفاتحة، والصحيح قولهما؛ لأن احتمال كونها من السورة منقطع بإجماع السلف على ما مر وفي أنها ليست من الفاتحة لا إجماع فبقي الاحتمال فوجب العمل به في حق القراءة احتياطا، ولكن لا يعتبر هذا الاحتمال في حق الجهر؛ لأن المخافتة أصل في الأذكار والجهر بها بدعة في الأصل فإذا احتمل أنها ذكر في هذه الحالة واحتمل أنها من الفاتحة كانت المخافتة أبعد عن البدعة فكانت أحق.

وروي عن محمد أنه إذا كان يخفي بالقراءة يأتي بالتسمية بين الفاتحة والسورة؛ لأنه أقرب إلى متابعة المصحف وإذا كان يجهر بها لا يأتي؛ لأنه لو فعل لأخفى بها فيكون

سكتة له في وسط القراءة وذلك غير مشروع ثم يقرأ بفاتحة الكتاب والسورة وقد بينا أصل فرضية القراءة وقدرها ومحل القراءة المفروضة في بيان أركان الصلاة.

فتاوی شامی ( 1/490) میں ہے:

(لا) تسن (بين الفاتحة والسورة مطلقاً) ولو سريةً، ولاتكره اتفاقاً۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (قوله لا تسن) مقتضى كلام المتن أن يقال لا يسمي، لكنه عدل عنه لإیهامه الكراهة، بخلاف نفي السنية. ثم إن هذا قولهما وصححه في البدائع. وقال محمد: تسن إن خافت لا إن جهر بحر، ونسب ابن الضياء في شرح الغزنوية الأول إلى أبي يوسف فقط فقال: وهذا قول أبي يوسف. وذكر في المصفى أن الفتوى على قول أبي يوسف أنه يسمي في أول كل ركعة ويخفيها. وذكر في المحيط: المختار قول محمد، وهو أن يسمي قبل الفاتحة وقبل كل سورة في كل ركعة

مطلب قراءة البسملة بين الفاتحة والسورة حسن. (قوله: ولاتكره اتفاقاً) ولهذا صرح في الذخيرة والمجتبى بأنه إن سمى بين الفاتحة والسورة المقروءة سرًّا أو جهراً كان حسناً عند أبي حنيفة، ورجحه المحقق ابن الهمام وتلميذه الحلبي لشبهة الاختلاف في كونها آيةً من كل سورة، بحر”

بہشتی زیور (ص:83) میں ہے:

پھر اعوذ باللہ ، بسم اللہ پڑھ کر الحمد پڑھے اور “ولاالضالین” کے بعد آمین کہے۔ پھر بسم اللہ پڑھ کر کوئی سورت پڑھے پھر اللہ اکبر کہہ کے رکوع میں جائے ۔

احسن الفتاوی (3/74) میں ہے:

سوال:سورت کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا مستحب ہے  یا نہیں ؟ بہشتی زیور میں پڑھنے کو ترجیح دی ہے، مگر مستخلص میں نہ پڑھنے کو، عبارت یہ ہے:

واما عند رأس كل سورة فلا یاتی بها في الصلوة عند أبي حنيفة وابي يوسف رحمهما الله تعالى وقال محمد رحمه الله تعا يأتي بها احتياطاً والصحيح قولهما، بينوا توجروا

الجواب باسم ملہم الصواب :- سنیت میں اختلاف ہے، اور عدم سنیت راجح ہے مگر اولویت میں کوئی اختلاف نہیں، لہذا بہشتی زیور کا مسئلہ صحیح ہے۔

امداد المفتین (3/201) میں ہے:

سوال: کتب فقہ میں لکھا ہے سورہ فاتحہ اور سورت کے درمیان بسم اللہ پڑھنا حسن ہے، معارف القرآن ص : ۲۰ احکام و مسائل میں لکھا ہے کہ فاتحہ کے بعد سورت شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ نہیں پڑھنا چاہیے؟

جواب :  معارف القرآن میں جو لکھا ہے کہ فاتحہ اور سورت کے درمیان بسم اللہ نہیں پڑھنا چاہیے ، اُس کے آگے اس کی وجہ بھی تحریر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین سے ثابت نہیں، لہذا معارف القرآن” میں نہیں پڑھنا چاہیے” سے مراد یہ ہے کہ پڑھنا سنت نہیں ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ پڑھنا مکروہ ہے۔ اور فقہاء نے جو فاتحہ اور سورت کے درمیان بسم اللہ پڑھنے کو حسن فرمایا ہے، اس کی وجہ یہ نہیں کہ سنت سے ثابت ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ بسم اللہ ہر سورت کا جزو ہے یا نہیں، لہذا خروج عن الخلاف کے لئے احتیاطاً  بسم اللہ پڑھنے کو حسن فرمایا۔

 خلاصہ یہ کہ معارف القرآن کی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ سنت سمجھ کر نہیں پڑھنا چاہیے  ، اور فقہاء کی عبارات کا مطلب یہ ہے کہ بطور احتیاط پڑھ لینا اچھا ہے، لہذا دونوں باتوں میں تعارض نہیں، اگر چہ معارف القرآن کی ظاہر عبارت سے تعارض کا شبہ ضرور ہوتا ہے ۔

مسائل امامت ، مولانا رفعت قاسمی صاحب (ص: 140) میں  ہے :

رد المحتار (باب صفۃالصلوۃ 1/ 457 ) سے  معلوم ہوتا ہے کہ امام کو الحمد سے پہلے بسم اللہ کا پڑھنا سنت ہے اور بعض وجوب کے قائل ہیں اور سورت سے پہلے اگرچہ مسنون نہیں ہے لیکن مکروہ بھی نہیں ہے بلکہ مستحب اور بہتر ہے۔ (فتاویٰ دارالعلوم، 2/184)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved