- فتوی نمبر: 31-316
- تاریخ: 15 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تعلیق طلاق
استفتاء
اگر کسی مرد کی توجہ بیوی سے ہٹ کر ادھر ادھر جاتی ہو اور جن سے اس نے تعلق قائم کیا ہو اسکے شواہد اسکی بیوی کے پاس موجود ہوں ،بات کھلنے پر مرد کہے کہ میں نے توبہ کی ہے آئندہ ایسا نہیں کروں گا لیکن بدنظری سے پھر بھی نا بچے اور کسی کے نظر آجانے پر فورا اسکی طرف توجہ عجیب سی ہوجائے تو بیوی کے ہلکاساکچھ کہنے پر بڑھ کر کہہ دے کہ آئندہ اگر مجھے شک کی نگاہ سے دیکھا تو تمہیں طلاق اور عورت کہتی ہے کہ یہ سامنے ہی ایسا کریں گے تو لامحالہ شک جائے گا تو ایسی صورت میں کیا حکم ہوگا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں آئندہ اگر بیوی خاوند کو شک کی نگاہ سے دیکھے گی تو ایک طلاق رجعی واقع ہو جائے گی تاہم عدت کے اندر خاوند رجوع کر سکتا ہے اور آئندہ کے لیے خاوند کو دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا اور ایک دفعہ کے بعد دوبارہ شک کی نگاہ سے دیکھنے کی صورت میں طلاق واقع نہ ہوگی البتہ شک کی نگاہ سے دیکھا ہے یا نہیں؟ اس کا پتہ لگانے کے لیے بیوی سے پوچھا جائے گا کہ آپ کا یہ دیکھنا شک کی نگاہ سے تھا یا نہیں؟ جواب میں بیوی اگر “ہاں” کہہ دے یا بیوی خود ہی بتادے کہ میں نے شک کی نگاہ سے دیکھا ہے تو طلاق واقع ہوگی ورنہ طلاق واقع نہ ہوگی۔
توجیہ: خاوند نے طلاق کو ایسے امر مخفی پر معلق کیا ہے جس کے پائے جانے کا علم بیوی کے بتانے سے یا تصدیق کرنے سے ہی ہو سکتا ہے لہذا جب تک بیوی خود نہ بتائے کہ میں نے شک کی نگاہ سے دیکھا ہے تب تک طلاق واقع نہ ہوگی اور مذکورہ صورت میں چونکہ”اگر”کے الفاظ کے ساتھ طلاق معلق کی ہے جوکہ “ان “کے معنیٰ میں ہے لہذا ایک دفعہ طلاق واقع ہونے کے بعد دوبارہ شک کی نگاہ سے دیکھنے کی صورت میں مزید طلاقیں واقع نہ ہوں گی۔
ہندیہ(1/420) میں ہے:
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق
عالمگیری (1/470) میں ہے:
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.
عالمگیری (1/ 415)میں ہے:
ألفاظ الشرط إن وإذا وإذما وكل وكلما ومتى ومتى ما ففي هذه الألفاظ إذا وجد الشرط انحلت اليمين وانتهت لأنها لاتقتضي العموم والتكرار فبوجود الفعل مرة تم الشرط وانحلت اليمين فلا يتحقق الحنث بعده إلا في كلما لأنها توجب عموم الأفعال.
بدائع الصنائع (3/204) میں ہے:
والاصل انه متى علق الطلاق بشئ لا يوقف عليه الا من جهتها يتعلق باخبارها عنه
البحر الرائق (4/44) میں ہے:
فلما لم يوقف عليها تعلق الحكم باخبارها لانه دليل عليها لان احكام الشرع لا تناط باحكام خفية.
شامی (4/604) میں ہے:
(وما لم يعلم) وجوده (الا منها صدقت فى حق نفسها خاصة) استحسانا بلا یمین ……….. (كقوله ان حضت فانت طالق وثلاثة او ان كنت تحبين عذاب الله فانت كذا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved