• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

طلاق بائن کے بعد دوسری بائنہ طلاق کے عدم لحوق پر اعتراض کا جواب

استفتاء

حضرات فقہاء کرام نے ذکر کیا ہے کہ طلاق بائن طلاق بائن سے ایسی صورت میں لاحق نہیں ہوتی کہ جس صورت میں وہ سابق طلاق کی خبر بن سکے۔ اب سوال یہ ہے کہ ہر لغت میں اسی کے استعمال کو دیکھا جا تا ہے کہ یہ لفظ کس غرض کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور ہماری لغت میں دوسری،  تیسری طلاق بائن  کا استعمال خبر کے لیے نہیں ہوتا صرف انشاء ہی کی  غرض سے اس کا استعمال ہوتا ہے جس کا قرینہ یہ ہے کہ کہنے والا اس کے خبر بننے سے واقف ہی نہیں ہوتا تو آیا اس  صورت میں بھی ہم کہیں گے کہ بوجہ خبر  بننے کے ، بائن بائن سے لاحق نہ ہوگی جبکہ ہماری لغت  میں خبر بننے کی صورت مفقود ہے ؟

تنقیح : سائل اسی ادارہ کا سابقہ متخصص ہے ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

فقہاء کرام کا مذکورہ ضابطہ “کہ دوسری  بائنہ طلاق  جب تک پہلی بائنہ طلاق کی خبر بن سکتی ہو اس وقت تک دوسری بائنہ طلاق   سے نئی طلاق واقع نہیں ہوگی ”   اس ضابطہ کا تعلق لوگوں کے عرف سے نہیں ہے بلکہ اس بات کے امکان سے ہے کہ دوسری طلاق کو پہلی کی خبر بنانا ممکن ہے یا نہیں۔  لہٰذا جب تک دوسری طلاق کو پہلی کی خبر بنانا ممکن ہو  اس وقت تک دوسری  طلاق سے انشاء طلاق مراد لینا درست نہیں  بلکہ وہ پہلی طلاق ہی کی خبر بنے گی  چاہے متکلم نے اخبار کی نیت نہ بھی کی ہو  ۔ البتہ جب لفظوں میں ہی اس کی گنجائش نہ ہو کہ دوسری طلاق پہلی کی خبر بن سکے تب دوسری طلاق انشاء کے لیے ہوگی   جس کی مثال کتب  فقہ میں یہ مذکور ہے کہ شوہر پہلے بائنہ طلاق دینے کے بعد یوں کہے ابنتك باخرى۔ نیز سائل کا یہ  دلیل  دینا ”  کہ  چونکہ متکلم عموما ان الفاظ کے  خبر بننے سے واقف نہیں ہوتا لہٰذا اس سے انشاء مراد لیا جائے ”   درست نہیں  کیونکہ عوام کو  توخبر و انشاء کا ہی فرق معلوم نہیں  ہے چہ جائیکہ وہ انشاء کی نیت کرتے ہوں اور خبر کی نیت نہ کرتے ہوں ۔

فتاوی شامی طبع جدید (340/9) میں ہے :

(لا) يلحق البائن (البائن)  اذا امکن جعله اخبارا عن الاول كأنت بائن بائن، أو أبنتك بتطليقة فلا يقع لأنه إخبار فلا ضرورة في جعله إنشاء، بخلاف أبنتك بأخرى (قوله لا يلحق البائن البائن) المراد بالبائن الذي لا يلحق هو ما كان بلفظ الكناية لأنه هو الذي ‌ليس ‌ظاهرا ‌في ‌إنشاء الطلاق كذا في الفتح» .

(قوله إذا أمكن إلخ) قيد في عدم لحاق البائن البائن، ومحترزه ما أفاده بقوله بخلاف أبنتك بأخرى إلخ ط.

قال في البحر: وينبغي أنه إذا أبانها ثم قال لها أنت بائن ناويا طلقة ثانية أن تقع الثانية بنيته لأنه بنيته لا يصلح خبرا، فهو كما لو قال أبنتك بأخرى، إلا أن يقال إن الوقوع إنما هو بلفظ صالح له وهو أخرى بخلاف مجرد النية. اهـ. وفيه أن اللفظ الثاني صالح، ولو أبدل صالحا بمعين له لكان أظهر ط.

أقول: ويدفع البحث من أصله ‌تعبيرهم ‌بالإمكان، وبأنه لا حاجة إلى جعله إنشاء متى أمكن جعله خبرا عن الأول لأنه صادق بقوله أنت بائن على أن البائن لا يقع إلا بالنية، فقولهم البائن لا يلحق البائن لا شك أن المراد به البائن المنوي، إذ غير المنوي لا يقع به شيء أصلا ولم يشترطوا أن ينوي به الطلاق الأول.

فعلم أن قولهم إذا أمكن إلخ احتراز عما إذا لم يمكن جعله خبرا كما في أبنتك بأخرى، لا عما إذا نوى به طلاقا آخر فتدبر.

فقہ اسلامی (129) میں ہے :

طلاق بائن کے بعد طلاق بائن دی جائے تو اگر دوسری پہلی  کی خبر بن سکتی ہو تو دونوں نہ ملیں گی بلکہ صرف پہلی ہی رہے گی ۔اور دوسری پہلی کی خبر  نہ بن سکتی ہو تو  دونوں مل کر دو طلاقیں ہوں گی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved