- فتوی نمبر: 26-391
- تاریخ: 01 جولائی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > طلاق کے بعد رجوع کے احکام
استفتاء
کیا فرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں میرا بیٹا ابوظہبی میں ہوتا ہے، اس کی بیوی ناراض ہوکر میکے میں رہتی ہے، اس وقت وہ چھٹی پر آیا ہوا تھا، اس کے منع کرنے کے باوجود وہ میکے چلی گئی تھی تو بعد میں اس کی بیوی اس کو تنگ کرتی تھی کہ مجھے طلاق دو، اس کو طعنے دیتی تھی، اس نے اس کے کہنے پر اس کو فون پر ایک طلاق دیدی، اس بات کو ڈیڑھ سال یا 2سال ہوگئے ہیں، اب وہ چھٹی پر آرہا ہےاور ہم کوشش کررہے ہیں کہ راضی نامہ ہوجائے، اس طلاق کو کافی وقت ہوگیا ہے، اب اس کا حل معلوم کرنا ہے کہ کیا نکاح کی تجدید کروانی پڑے گی؟ یا تجدید کے بغیر میاں بیوی کا رجوع ہوجائے گا؟
شوہر کا بیان:
دارالافتا کے نمبر سے شوہر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے یہ بیان دیا کہ “میں نے ایک بار فون کال پر طلاق دی تھی جس کے الفاظ یہ تھے کہ “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” اس کے چند دن بعد ایک مرتبہ میسج پر ہماری بات ہوئی تھی، میں نے “سوری” لکھ کر میسج بھیجا، میری بیوی نے “عید مبارک” کا میسج بھیجا، میں نے جواب میں کہا کہ “خیر مبارک” بس یہی بات ہوئی تھی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں ایک رجعی طلاق واقع ہو گئی ہے اور عدت کے اندر رجوع نہ کرنے کی وجہ سے رجعی طلاق بائنہ بن گئی ہے، لہذا اگر میاں بیوی دوبارہ اکٹھے رہنا چاہیں تو کم از کم دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہو گا۔
نوٹ: دوبارہ نکاح کرنے کے بعد آئندہ کے لیے شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا حق باقی ہو گا۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں شوہر نے میسج کے ذریعے بیوی سے معافی مانگی ہے اور معافی مانگنا طلاق سے رجوع کے لیے نہ صریح ہے اور نہ کنایہ، لہذا مذکورہ صورت میں رجوع ثابت نہیں ہوا۔
بدائع الصنائع (283/3) میں ہے:
أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد، فأما زوال الملك، وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال، وإنما يثبت في الثاني بعد انقضاء العدة، فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت.
درمختار (5/42) میں ہے:
(وينكح) مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع.
امداد الفتاوی (505/2) میں ہے:
سوال: ایک شخص نے ایک عورت کو طلاق دی اس کے بعد جب نادم ہوا اور عورت گھر سے خفا ہو کر جانے لگی تو عورت سے کہا “معاف کرو جانے دو” چناچہ وہ ٹھہر گئی، اب عدت ختم ہو گئی اور سوا ان الفاظ کے اور کچھ نہیں کہا، اب عدت ختم ہو گئی، جدید نکاح کی ضرورت ہے یا یہ الفاظ کنایہ رجعت ہو سکتے ہیں؟
الجواب: مسئلہ جزئیہ تو نظر سے نہیں گزرا باقی جو کنایات رجعت کے فقہاء نے لکھے ہیں “انت عندی کما کنت، و انت امرأتی” جو کہ نیت سے موجب رجعت ہیں، “معاف کر دو جانے دو” ان کے مشابہ نہیں ہے لہذا کنایہ نہ ہوگا، تجدید بتراضی طرفین کی ضرورت ہوگی، وجہ عدم تشابہ ظاہر ہے کہ کنایات مذکورہ اقتضاء دال ہیں بقاء نکاح پر بخلاف ان الفاظ کے کہ محض طلب رضاء کے لئے ہیں جس کو رجعت میں اصلا دخل و تعلق نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved