- فتوی نمبر: 26-287
- تاریخ: 30 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > میاں بیوی کا طلاق میں اختلاف
استفتاء
بیوی کا بیان:
مفتی صاحب میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے شوہر نے14-11-2021 کو مجھ سے نکاح کیا اور جھوٹ بولا کہ ان کی پہلی بیوی زندہ نہیں ہے فوت گئی ہے جبکہ ان کی پہلی بیوی اور بچے موجود تھے، انہوں نے نکاح نامہ بھی رجسٹر نہیں کروایا کیونکہ ان کے پاس نہ تو پہلی بیوی کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ تھا اور نہ ہی دوسرے نکاح کا اجازت نامہ تھا، انہوں نے نکاح نامے میں حق مہر میں پانچ مرلے کا پلاٹ اور دس ہزار روپے مقرر کیے، انہوں نے دس ہزار روپے تو دے دیے تھے لیکن پلاٹ ابھی تک نہیں دیا تھا، نکاح کے بعد ان کی پہلی بیوی نے ان سے جھگڑا شروع کیا تو 27-12-2021کو انہوں نے مجھے میرے بچوں کے ساتھ امی کے گھر لاہور بھیج دیا۔ وہ ملتان میں رہتے ہیں، میں اپنے بچوں کے ساتھ لاہور آ گئی، انہوں نے مجھ سے یہ کہا ہے کہ میں بھی لاہور شفٹ ہو رہا ہوں، آپ گھر کا سامان لے کر جائیں میں بھی اتوار کو آ جاؤں گا، لیکن اتوار سے پہلے ہی ہفتے کی صبح انہوں نے فون کیا اور کہا کہ تم اپنی ماں کے گھر ہو وہیں بیٹھی رہو، میں تمہیں فارغ کر دیتا ہوں، تم کپڑے صاف نہیں دھوتیں، ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے فون بند کر دیا، اب طلاق کے بعد پلاٹ دینے کی بات ہوئی ہے تو وہ مکر گئے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں نے طلاق نہیں دی، کیا مذکورہ صورت میں طلاق ہو گئی ہے؟ اب میرے لیے کیا حکم ہے؟
شوہر (زید) کا بیان حلفی:
میں مسمی زید عفی عنہ، اللہ تعالی کو حاضر ناظر جان کر یہ کہہ رہا ہوں کہ میں نے اپنی بیوی فائزہ کو بالکل بھی طلاق نہیں دی، اور تین طلاق تو دور، میں نے ایک بھی نہیں دی، یہ بالکل غلط بیانی کر رہی ہے، الحمد للہ میں خود عالم ہوں، میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں بیوی کے حق میں تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں، جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے، لہذا اس کے لیے شوہر کے پاس بیوی کی حیثیت سے رہنا جائز نہیں ۔
توجیہ: طلاق کے معاملے میں عورت کی حیثیت قاضی کی طرح ہوتی ہے لہذا اگر وہ خود شوہر کو طلاق دیتے ہوئے سن لے تو اس کے لیے اس پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے، مذکورہ صورت میں بھی چونکہ بیوی کا دعوی یہ ہے کہ اس نے شوہر سے ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں‘‘ کے الفاظ سنے ہیں لہذا بیوی کے حق میں تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں، جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے۔
فتاوی شامی (449/4) میں ہے:
والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه.
درمختار مع ردالمحتار (4/509) میں ہے:
كرر لفظ الطلاق وقع الكل.
(قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق.
بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر، لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.
امداد الاحکام (561/2) میں ہے:
قال فى عدة ارباب الفتوى : وما لا يصدق فيه المرء عند القاضى لايفتى فيه كما لا ىقضى فيه و قال فى شرح نظم النقاية و كما لايدينه القاضى كذالك اذا سمعته منه المرأة أو شهد به عندها عدول لا يسعه ان تدينه لانها كالقاضى لا تعرف منه الا الظاهر انتهى.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved