- فتوی نمبر: 32-101
- تاریخ: 20 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تعلیق طلاق
استفتاء
میرے والد صاحب اپنے بھتیجے کی شادی میں ان کے گھر گئے وہاں ایک آدمی جو ہمارا رشتہ دار ہے اس کے بارے میں ہمارے والد صاحب نے بتایا کہ اس نے مجھ پر الزام لگایا ہے کہ یہ عورتوں کو دیکھتا ہے جس پر دونوں فریقین میں بحث ہو گئی ہمارے رشتہ دار نے کہا کہ میں نے یہ نہیں کہا اور والد صاحب بضد تھے کہ اس نے یہ کہا ہے تو خاندان کے کچھ لوگوں کے درمیان دونوں نے تین پتھر پھینکے اور ہمارے رشتہ دار نے یہ کہا کہ “اگر میں نے یہ کہا ہو تو میرے اوپر میری بیوی تین شرطیں طلاق ہے” اور میرے والد صاحب نے کہا کہ “تم نے یہ الفاظ بولے ہیں، میرے اوپر تین شرطیں طلاق اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں”پتھر پہلے میرے والد صاحب نے پھینکے بعد میں دوسرے فریق نے اور اب دونوں حلف اٹھانے کے لیے تیار ہیں کہ میں سچا ہوں۔
جو لوگ شادی میں پاس تھے وہ لوگ کہتے ہیں کہ تمہارے والد صاحب کو غلط فہمی ہوئی تھی اور جو گواہ ہیں وہ بھی کہتے ہیں کہ ہم نے کوئی بھی ایسی بات نہیں سنی۔ اب برائے کرم قرآن و سنت کے مطابق آپ ہماری رہنمائی فرمائیں کہ دونوں کی بیویوں کو طلاق ہو گئی یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں آپ کے والد اور آپ کے رشتہ دار میں سے کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے؟ یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے لہذا اگر واقعتاً آپ کے رشتہ دار نے آپ کے والد پر الزام لگایا ہے تو آپ کے رشتہ دار کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں اور اگر واقعتاً اس نے الزام نہیں لگایا تو آپ کی والدہ پر تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔
ہندیہ (1/420) میں ہے:
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا
بدائع الصنائع (3/187) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}وسواء طلقها ثلاثا متفرقا او جملة واحدة.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved