- فتوی نمبر: 26-06
- تاریخ: 08 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کی ملکیت میں دس دیگیں تھیں،مرنے سے پہلے اس نے اپنے بچوں (تین بیٹے، چار بیٹیوں)کو وصیت کی کہ ان دس دیگوں کو میرے مرنے کے بعد آپس میں اس طرح تقسیم کرنا کہ ہر بیٹے کو دو اور ہر بیٹی کو ایک دیگ حصہ میں ملے، پس ہوا یوں کہ بڑے بیٹے نے تین دیگیں کسی کے حوالے کیں کہ وہ استعمال کرکے لوٹادے گا، مگر وہ دیگیں واپس نہ آئیں ،لہذا بڑے بیٹے نے والد کی حیات میں ان دیگوں سے حصہ لینے سے انکار کردیا اور کچھ عرصہ بعد والدکا انتقال ہوگیا مگر اس وقت وراثت تقسیم نہ ہوسکی اور مزید کچھ عرصہ بعد اس بڑے بیٹے کا بھی انتقال ہوگیا، اب اس بڑے بھائی کے بچوں نے الگ کرائے کے مکان میں رہنا شروع کردیا ہےجس کا کرایہ چچا اور تایا (اب تک تقسیم نہ ہونے والی وراثت کی رقم سے) ہر ماہ ادا کررہے ہیں، مرحوم بھائی کے بچے سابقہ گھر چھوڑتے وقت مزید ایک دیگ مال غنیمت سمجھ کر اپنے ساتھ لے گئے، سوال یہ ہے کہ
(۱)کیا اب باقی چھ دیگیں فروخت کرکے بھی اس مرحوم بھائی کی اولاد کو حصہ دیا جائے گا ؟یا اس ایک دیگ (جو مرحوم کے بچے بلااجازت اپنے ساتھ لے گئے تھے) کی رقم کاٹ کر باقی ادا کی جائے گی اور چھ کے بجائے سات شمار کی جائیں گی؟
(۲)یا اب ان دیگوں میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور ان کو کچھ نہ دیا جائے،اور چھ دیگیں فروخت کرکے دو بھائی اور چار بہنیں اپنے اپنے حصے بنالیں ؟
وضاحت مطلوب ہے کہ(۱) بھائی نے 3دیگیں والد صاحب کی اجازت سےدی تھیں؟(۲)بھائی کے الفاظ کیا تھے؟(۳)جب دیگیں کسی کو دیتے ہیں تو کیا سکیورٹی ہوتی ہے کہ واپس دے گا؟
جواب وضاحت:(۱)دیگوں کا کاروبار کرتے تھے جب گاہگ آتا تو بغیر اجازت دے دیتے تھے ،لیکن والد صاحب نے دیگوں کے گم ہوجانے کی وجہ سے بھائی کو بہت ڈانٹا تھاجس کی وجہ سے بھائی نے بھی کہا کہ میں ان دیگوں میں سے حصہ نہیں لوں گا۔
(۲)بھائی نے کہا تھا کہ میں باقی دیگوں میں سے اپنا حصہ نہیں لوں گا چاہے آپ اپنی زندگی میں ان کو ہدیہ کریں یا بعد میں تقسیم، کسی صورت میں ان میں سے حصہ نہیں لوں گا۔
(۳)بس جاننے والے کو دیتے ہیں یا اس کو دیتے ہیں جس کی جاننے والا ضمانت دے دے ورنہ نہیں،اور جس آدمی کو دیگیں دی تھیں وہ بھائی کا پرانا دوست تھا اور بہت دیر بعد ملا تھا اور یہ بھی نہیں معلوم کہ اس نے دیگیں کس نیت سے لی تھیں بھائی نے دوست جانتے ہوئے بغیر ضمانت کے دیگیں دے دیں جو واپس نہ آئیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(۲،۱)مذکورہ صورت میں موجودہ سات دیگیں تمام ورثاء( بشمول مرحوم بھائی) میں تقسیم ہونگی، ان سات دیگوں کی قیمت لگا کر جتنا حصہ مرحوم بھائی کا بنتا ہے اس میں سے اس دیگ کی قیمت کاٹ کر جو مرحوم بھائی کے بیٹے ساتھ لے گے تھے باقی جتنی قیمت ان کی بنتی ہو وہ ان کو دے دیں ۔اور اگر اس دیگ کی قیمت ان کے حصہ سے زیادہ بنتی ہوتو ان سے واپسی کا مطالبہ کرسکتے ہیں ۔
نوٹ: گم ہوئی دیگیں وراثت میں شامل نہ ہوں گی کیونکہ مرحوم بھائی نے بغیر کسی کوتاہی کے اصول کے مطابق جاننے والے کو دی تھیں جس بناء پر اس پر کوئی تاوان نہ آئے گااور اس بناء پر جو بھائی نے کہا تھا کہ “میں حصہ نہیں لوں گا”اس کہنے سے اس کا حق ختم نہ ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved