- فتوی نمبر: 32-238
- تاریخ: 02 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
زید وفات پاگئے ، مرحوم کی اولاد میں دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں ، ایک بیٹی کا انتقال والد کی زندگی میں ہوا ، اس بیٹی کی وفات کے بعد 2 بیٹے ، دو بیٹیاں حیات ہیں مرحوم کی دوسری منکوحہ بھی حیات ہیں جن کی زید سے کوئی اولاد نہیں ہے اور دوسری منکوحہ بھی ان کے ساتھ نہیں رہتی تھی، پہلی منکوحہ مرحوم کی وفات سے پہلے فوت ہوچکی ہیں۔ مرحوم نے کوئی وصیت نہیں کی اور نہ کوئی تحریر لکھ کر چھوڑی جبکہ مرحوم کے بھائی کہتے ہیں کہ بینک میں جو رقم (12 لاکھ روپے)ہے مرحوم کی خواہش تھی کہ وہ چھوٹی بیٹی کو ملے۔ شریعت مطہرہ کی روشنی میں اب ورثاء کو کیا کرنا چاہیے؟
وضاحت مطلوب ہے : (1) کیا زید کی وفات کے وقت ان کے والدین حیات تھے؟ (2) مرحوم کے بھائیوں کا رابطہ نمبر مہیا کیا جائے۔
جواب وضاحت : (1)زید کی وفات کے وقت والدین زندہ نہیں تھے۔ (2) بھائی خالد********
بھائی خالد سے یہ وضاحت مطلوب ہےکہ: آپ کس بنیاد پر کہہ رہے ہیں کہ بھائی نے یہ رقم چھوٹی بیٹی کو دینے کا کہا تھا؟
جواب وضاحت: بھائی نے مذکورہ رقم جہاں انویسٹ کی تھی وہاں فارم پُر کرتے وقت یہ لکھا تھا کہ مذکورہ رقم (12 لاکھ روپے) میری چھوٹی بیٹی فاطمہ کو میرے مرنے کے بعد دی جائے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کوئی وصیت یا تحریر نہیں لکھی تھی۔ مرحوم نے یہ رقم فاطمہ کو دینے کی مجھ سے زبانی خواہش ظاہر کی تھی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگر سب ورثاء عاقل، بالغ ہیں اور وہ اپنی خوشی سے اپنے والد کی وصیت کے مطابق مذکورہ کل رقم مرحوم کی چھوٹی بیٹی کو دینے پر تیار ہوں تو مذکورہ کل رقم مرحوم کی چھوٹی بیٹی کو ملے گی اور اگر بعض تیار ہوں اور بعض تیار نہ ہوں تو جو تیار ہیں ان کا حصہ بھی مرحوم کی چھوٹی بیٹی کو ملے گا اور اگر کوئی بھی تیار نہیں ہے یا کچھ تیار نہیں ہیں تو جو تیار نہیں ہیں ان کا حصہ انہی کو ملے گا مرحوم کی چھوٹی بیٹی کو نہیں ملے گا۔مذکورہ رقم میں مرحوم کے ورثاء کا حصہ مندرجہ ذیل ہے:
(12 لاکھ ) میں 150000 (ڈیڑھ لاکھ ) روپے مرحوم کی بیوی کا حصہ ہے اور350000 (تین لاکھ پچاس ہزار) روپے مرحوم کے ہر بیٹے کا حصہ ہے اور175000 (ایک لاکھ پچھتر ہزار) روپے مرحوم کی ہر بیٹی کا حصہ ہے۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
| بیوی | 2 بیٹے | 2 بیٹیاں |
| ثمن | عصبہ | |
| 1 | 7 | |
| 1×6 | 7×6 | |
| 6 | 42 | |
| 6 | 14+14 | 7+7 |
شامی(10/366) میں ہے:
(ولا لوارثه وقاتله مباشرة) لا تسبيبا كما مر (إلا بإجازة ورثته) لقوله عليه الصلاة والسلام “لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة” يعني عند وجود وارث آخر كما يفيده آخر الحديث وسنحققه (وهم كبار) عقلاء فلم تجز إجازة صغير ومجنون وإجازة المريض كابتداء وصية ولو أجاز البعض ورد البعض جاز على المجيز بقدر حصته.
امداد الفتاویٰ (4/329) میں ہے:
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی مورث نے وصیت کی ہو قبل تین دن موت کے حالت بے ہوشی میں اپنی کل جائیدادمنقولہ و غیر منقولہ کے بیچ تین وارث اور چو تھے محجوب الارث کے، یہ خلاف شرع محمدی کے اور انکار کیا ہو کسی وارث نے اس وصیت سے کہ جس کی حق تلفی ہوتی ہو بعد موت مورث کے اور پھر اقرار کرے وہی وارث بسبب جبر و دباؤ کے ، تو ایسی حالت میں کہ جب اُس نے پہلے انکار کیا ہووصیت سے تو ایسی حالت میں وصیت منسوخ ہو چکی یا نہیں ؟
جواب : اگر موصی وقت وصیت بالکل بے ہوش لا یعقل ہے تو وصیت صحیح نہیں کیونکہ موصی کا عاقل بالغ ہونا ضروری ہے،وشرائطها كون الموصى اهلا للتمليك درمختار۔اور اگر اس قدر ہوش ہوکہ قصد کر کے اور سمجھ کے کلام کرتا ہے، تو اگر کسی وارث کے لئے کچھ وصیت اس کے حق سے زیادہ کی ہےتو باطل ہے ہاں اگر سب ورثاء بالغ ہوں اور راضی ہو جاویں تو جائز ہےولا لوارثه وقاتله مباشرةإلا بإجازة ورثته وهم كبار، اور اگر بعض بالغ ہوں اور بعض نابالغ اور بالغین جائز رکھیں یا نا بالغین میں سے بعض جائز رکھیں ، بعض رد کر دیں تو بقدر حصہ بالغین و مجوزین کے جائز ہے، ولو أجاز البعض ورد البعض جاز على المجيز بقدر حصته.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved