• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

تقسیم میراث کے ذیلی مسائل

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ  میرے والد صاحب کی وفات 2021ء میں ہوئی ان کی ایک بیوہ 3بیٹے 2بیٹیاں  تھیں اوران کے والدین (میرے دادا دادی) ان کی وفات سے پہلے ہی وفات پاچکے تھے۔ ان 3 بیٹوں میں سے ایک بیٹا 2016ء میں گھر سے چلا گیا تھا اس کا معلوم نہیں والد کا ایک مکان ہے جس میں والدہ اور 2بھائی رہتے  تھے والدہ کا بھی کچھ ذاتی سامان موجود ہے۔ پھروالدہ کی وفات2021ء میں ہوئی ، اس مکان میں اب صرف2بھائی اور ان کی فیملی رہتی ہے وراثت کی تقسیم کس کی ذمہ داری ہے اور کس حساب سے ہوگی ؟ گم ہونے والے بھائی کے حصے کا کیا ہوگا ؟ بھائی مکان فروخت نہیں کرنا چاہتے اور ان کے پاس اتنی رقم نہیں کہ وہ بہنوں کو حصہ دیں ان کی باتوں سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ بہنوں کو حصہ دینا ہی نہیں چاہتے۔ کسی سے سنا ہے کہ اگر والد اور والدہ کے کل مال میں سے کچھ رقم کا سامان لے لوں تو میرا حصہ مجھے دیا جانا تصور ہوگا مثال کے طور پر کل حصہ 3لاکھ بنتا ہے اور میں کچھ ہزار کا سامان لے لوں تو کیا وراثت تقسیم کرنے والے بھائی بری الذمہ ہوجائے گا گناہگار تو نہ ہوگا ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1)مذکورہ صورت میں اس لاپتہ بھائی کے حصے کو محفوظ رکھا جائے گا۔ اگر وہ بھائی اس  کے ہم عمر  لوگوں کے مرنے سے پہلے واپس آجائے تواس کا حصہ اس کو دے دیا جائے گا۔ اور اگر وہ اس کے ہم عمر لوگوں کے مرنے تک واپس نہ آئے تو عدالت میں درخواست دے کر اس کی موت کو حکم حاصل کیا جائے گا، اسی میں احتیاط ہے۔ اور اگر عدالتی کاروائی میں دشواری ہو تو عدالتی کاروائی کے بغیر ہی جو حصہ اس کےلیے محفوظ رکھا گیا تھا وہ والد کی وفات کے وقت جو ورثاء موجود تھے اس کے ورثاء کو ان کے شرعی حصوں کےبقدر دے دیا جائے گا۔ اس  کے بعد اگر وہ لاپتہ بھائی آگیا تواس کے حصوں میں سے جو کچھ خرچ ہوچکاہوگا اس کا مطالبہ نہ ہوگااور جو باقی ہوگا وہ اسے واپس دے دیا جائے ۔

(2اگر ورثاء فوری تقسیم کا تقاضہ کررہے ہوں تومیت کے ترکہ کو میراث کے اصولوں کے تحت تقسیم کرنا لازمی ہے اگرچہ مکان کو بیچنے کی نوبت آجائے۔اس صورت میں جوبھائی مکان پر قبضہ کیےہوئے ہیں اورمکان بیچ نہیں رہے دوسرے ورثاء کا حصہ مانگنے کے باوجو وہ میت کےترکہ کوتقسیم نہ کرنےکی وجہ سےگناہ گار ہوں گے۔میت کے ورثاء میں سے جو وارث اپنے حصے کے بقدر  یا کم مال لے کر دست بردار ہوجائے تو اس کی گنجائش ہے۔لہٰذا کل ترکہ کے64 حصے کیے جائیں گے جن میں سے8 حصے میت کی بیوہ کو اور 14-14حصے میت تینوں بیٹوں کودیے جائیں گے(گم شدہ بھائی کے حصے کو محفوظ کرکے رکھاجائے گا) اور 7-7حصے میت کی دونوں بیٹیوں کو دیےجائیں گے۔

سراجی(ص:54) میں ہے:

. المفقود حي في ماله حتى لا يرث منه أحد وميت في مال غيره حتى لا يرث من احد ويوقف ماله حتى يصح موته او تمضي عليه مدة، واختلف الرويات في تلك المدة ففي ظاهر الرواية انه اذا لم يبق احد من اقرانه حكم بموته ……………فاذامضت المدة…………..وما کان موقوفا لاجله یرد الی وارث مورثه الذی وقف ماله

وفي حاشيته تحت قوله(ويوقف ماله………الى آخره) لما كان قوله فيما سبق “لايرث من احد” يوهم نفي توريث المفقود اصلا فسره بقوله :ويوقف ………الى آخره أي يبقى حظه موقوفا الى ان تيقن بموته او تمضي عليه مدة

فتاوی شامی(456/6) میں ہے:

قلت وفي واقعات المفتين لقدري أفندي معزيا للقنية أنه إنما يحكم بموته بقضاء لأنه أمر محتمل فما لم ينضم إليه القضاء لا يكون حجة ( فإن ظهر قبله ) قبل موت أقرانه ( حيا فله ذلك ) القسط.

وفي الشامية تحته:قوله: (بقضاء الخ) هو أحد قولين.قال القهستاني وفي الفاء من قوله فتعتد عرسه دلالة على أنه يحكم بموته بمجرد انقضاء المدة فلا يتوقف على قضاء القاضي كما قال شرف الأئمة وقال نجم الأئمة القاضي عبد الرحيم نص على أنه يتوقف عليه كما في المنية اه وما قاله شرف الأئمة موافق للمتون سائحاني قلت لكن المبتادر من العبارة أن المنصوص عليه في المذهب الثاني ثم رأيت عبارة الواقعات عن القنية أن هذا أي ما روى عن أبي حنيفة من تفويض موته إلى رأي القاضي نص على أنه إنما يحكم بموته بقضاء الخ قوله ( فإن ظهر قبله ) هذه القبلية لا مفهوم لها وإن ذكرها الكثيرون سائحاني ولذا قال في البحر وإن علم حياته في وقت من الأوقات يرث من مات قبل ذلك الوقت من أقاربه اه  لكن لو عاد حيا بعد الحكم بموت أقرانه قال ط ثم بعد رقمه رأيت المرحوم أبا السعود نقله عن الشيخ شاهين ونقل أن زوجته له والأولاد للثاني اه……. تأمل

امدادالاحکام (578/4) میں ہے:

“صورت مسئولہ میں بعدِ موتِ اقران کے بدونِ قضاء قاضی کے ورثہ کا مال مفقود پر قبضئہ مالکانہ کرلینا جائز ہے۔ علی قول شرف الأئمة واخترناه فی حق الاموال تیسیراً واما فی الزوجة فنختار قول نجم الائمة احتیاطاً فی باب الفروج”

الدرالمختار(2/642) میں ہے:

فصل في التخارج  ( أخرجت الورثة أحدهم عن ) التركة وهي ( عرض أو ) هي ( عقار بمال ) أعطاه له ( أو ) أخرجوه ( عن ) تركة هي ( ذهب بفضة ) دفعوها له ( أو ) على العكس أو عن نقدين بهما ( صح ) في الكل صرفا للجنس بخلاف نسبه ( قل ) ما أعطوه ( أو كثر ) لكن بشرط التقابض فيما هو صرف ( وفي ) إخراجه عن ( نقدين ) وغيرها بأحد النقدين لا يصح إلا أن يكون ما أعطى له أكثر من حصته من ذلك الجنس ) تحرزا عن الربا ولا بد من حضور النقدين عند الصلح وعلمه بقدر نصيبه شرنبلالية وجلالية ولو بعرض جاز مطلقا لعدم الربا كذا لو أنكروا إرثه لأنه حينئذ ليس ببدل بل لقطع المنازعة ( وبطل الصلح إن أخرج أحد الورثة وفي التركة ديون بشرط أن تكون الديون لبقيتهم) لأن تمليك الدين من غير من عليه الدين باطل ثم ذكرلصحته حيلافقال( وصح لو شرطوا إبراء الغرماء منه ) أي من حصته لأنه تمليك الدين ممن عليه فيسقط قدر نصيبه عن الغرماء ( أو قضوا نصيب المصالح منه ) أي الذين (تبرعا(منهم (وأحالهم بحصته أو أقرضوه قدر حصته منه مصالحوه عن غيرهم ) بما يصلح بدلا ( وأحالهم بالقرض على الغرماء ) وقبلوا الحوالة وهذه أحسن الحيل۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved