- فتوی نمبر: 26-324
- تاریخ: 30 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری والدہ محترمہ جن کا چند ایام پہلے انتقال ہوا ، ہم جس مکان میں رہتے ہیں وہ مکان میرے والد محترم کی وراثت نہیں، میری والدہ محترمہ کو ان کی نانی جان نے وہ مکان گفٹ کیا تھا اس صورت میں کہ میری والدہ محترمہ بتاتی تھیں کہ میرا مکان نہ ہونے کے برابر تھا اس لئے ان کی نانی جان نے والدہ محترمہ کو یہ مکان گفٹ کیا تھا ، میں نے امی کی زندگی میں دو تین بار یہ کہا ہے کہ اما جان یہ مکان آپ بیچ کر بہن بھائیوں کو حصہ دے دیں لیکن بر ملا ایک دفعہ نہیں بلکہ کئی دفعہ یہ کہہ کر بات کو ختم کر دیتی تھیں کہ یہ مکان تمہارے والد کی جائیداد نہیں ہے میں جس کو چاہوں دوں نہ دوں کیونکہ یہ تمہارے والد کی وراثت نہیں ہے ، ہمارے والد کا انتقال 27سال قبل ہوچکا ہے ، امی کی بات پر ہمارے پاس گواہ بھی موجود ہیں جن کی موجودگی میں انہوں نے کئی مرتبہ یہ کہا تھا کہ میں نے یہ مکان نہیں بیچنا ۔ میرا ایک بھائی میرے ساتھ رہتا ہے جو شادی شدہ ہے اس کی گھر والی سے والدہ بہت دکھی تھیں اس کی طرف سے یہ تقاضہ بار بار آرہا ہے کہ مجھے اس مکان میں سے حصہ دو جوکہ یہ مطالبہ بیوی کے کہنے پر کرتا ہے ، براہ کرم یہ واضح فرمادیں شریعت محمدﷺ کی رو سے کہ کیا اس میں میرے بہنوں اور بھائیوں کا حق بنتا ہے؟ تاکہ میں سرخ رو ہوجاؤں اور کسی حق تلفی نہ ہو۔
ہم ٹوٹل چھ بہن بھائی ہیں ، تین بھائی اورتین بہنیں، ایک بھائی غیر شادی شدہ ہے اور وہ نارمل نہیں ہے اور وہ میرے پاس رہتا ہے، اور امی بھی میرے پاس ہی رہی۔
وضاحت مطلوب ہے: کیا آپ کے نانا، نانی زندہ ہیں؟
جواب وضاحت : نہیں ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں والدہ کا مکان آپ کے تمام بہن بھائیوں میں تقسیم ہوگا ، مکان یا اس کی قیمت کے 9 حصے کیے جائیں گے ایک ایک حصہ ہر بہن کا ہوگا اور دودو حصے ہر بھائی کے ہوں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved