• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ٹیکس ادا کیے بغیر اشیاء کی خرید وفروخت

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علماءکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آجکل ایرانی پیٹرول، ڈیزل پاکستان میں سستے ملتے ہیں جس کی وجہ ٹیکس نہ دینا ہے کیا اس کی خرید وفروخت جائز ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

شرعاً جائز ہے، تاہم قانون کے خلاف ہو تو اس کے آپ خود ذمہ دار ہیں۔

فتاویٰ عثمانی (88/3) میں ہے:

سوال: اسمگلنگ کی گھڑیاں جو آدھی قیمت پر فروخت کی جاتی ہیں، ان کی خرید کیسی ہے؟

جواب: اگر ان گھڑیوں کی خرید میں جھوٹ بولنا یا کسی اور گناہ کا ارتکاب نہ کرنا پڑے تو خریدنا جائز ہے۔

فتاوی رحیمیہ (9/218) میں ہے :

سوال:………… (3)ایک آدمی اسمگلنگ کر کے غیر ممالک سے چیزیں حاصل کرتا ہے۔ اور اسے فروخت کر کے نفع حاصل کرتا ہے ایسا شخص خیرات کر کے مسجد و مدرسہ میں کوئی رقم دے ۔ یا کوئی چیز خرید کر کے دے دے تو کیا یہ حلال ہے؟ اور وہ شخص اجرو ثواب کا حق دار ہے یا نہیں ؟

الجواب: ………. (3)جائز طریقہ سے کمایا ہوا مال حلال ہے اور اسے مدرسہ اور مسجد میں دینا موجب ثواب ہے مگر سرکاری قانون کی خلاف ورزی کر کے اپنے کو حکومت کا مجرم بنانے اور اس طور پر خود کو ذلیل کرنے کی بھی شرعاً اجازت نہیں لہذا یہ پیشہ قابل ترک ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved