• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

تین افراد کی اجازت کے بغیر نکاح پر طلاق کو معلق کرنے کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ  زید کی شادی کے بعد کچھ مسائل کی وجہ سے ایک معاہدہ لکھا گیا جس میں  زید کی دوسری شادی کو تین افراد کی اجازت کے ساتھ مشروط کیا گیا، اب صور تحال یہ ہے کہ  زید  کی پہلی بیوی  فاطمہ  اس کے نکاح میں موجود ہے اور وہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہے، مندرجہ ذیل تین افراد میں سے دو افراد  عائشہ  اور  بکر  تو اجازت کیلئے تیار ہیں، لیکن  خالد  ہمارے چچا تیار نہیں ہیں اگر ایسی صورت میں  زید  دوسری شادی کر لیتا ہے تو کیا ہونے والی بیوی کو تین طلاقیں ہو جائیں گی؟

معاہدے کی عبارت:

میں  زید بن  عمر  اس بات کا حلف لیتا ہوں کہ اگر میں نے  فاطمہ کے سوا کسی عورت سے بھی نکاح کر رکھا ہے تو اس کو تین (3) طلاقیں، میری طرف سے اس کو تین طلاقیں، اور اگر مستقبل میں کبھی بھی کسی بھی عورت سے نکاح کروں ان افراد کی اجازت کے بغیر جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں: (1)  خالد  بن  ضیاء  (2)  عائشہ  زوجہ  صہیب (3)  بکر بن  صہیب تو نکاح کرتے ہی اس کو تین طلاق میری طرف سے،  زید  بن  عمر کی طرف سے، میری بیوی  فاطمہ کو اگر موت آجاتی ہے تو میں اس حلف سے باہر ہوں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں   زید  اگر  خالد  کی اجازت کے بغیر نکاح کرے گا تو نکاح کرتے ہی اس کی دوسری بیوی پر تین طلاقیں  واقع ہو جائیں گی اور بیوی شوہر پر حرام ہو جائے گی۔

توجیہ: مذکورہ صورت میں شوہر نے تین افراد کی اجازت کے بغیر نکاح کرنے پر تین طلاقوں کو معلق کیا ہے لہذا اگر کسی ایک کی بھی اجازت نہ ہوئی تو شرط پائی جائے گی اور تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی جن کی وجہ سے  بیوی شوہر پر حرام ہو جائے گی۔

عالمگیری (1/420) میں  ہے:

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.

بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:

وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله  عز وجل  {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.

فتاوی شامی (532/5) میں ہے:

في الحاوي الزاهدي عن الجامع: إن لم أكن ضربت هذين السوطين في دار فلان فعبدي حر فضرب أحدهما في دار غيره، أو قال إن لم أكلم فلانا وفلانا اليوم فأنت طالق فكلم أحدهما اليوم فقط يحنث……… لأن الحنث في اليمين إنما يتحقق إذا صدق ما دخل عليه حرف الشرط، ففي إن دخلت الدار إنما يحنث إذا صدق دخلت، وفي إن لم أدخل إنما يحنث إذا صدق لم أدخل، فإذا قال إن لم أدخل هاتين الدارين اليوم أو إن لم أكن ضربت هذين السوطين في دار فلان فحرف الشرط دخل على النفي وهو لم أكن دخلت أو ضربت هاتين وهو نفي لمجموع دخول الدارين وضرب السوطين ونفي المجموع يتحقق بنفي أحد أجزائه.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved