• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

تین طلاقوں کے بارے میں میاں بیوی کے اختلاف کا حکم

استفتاء

شوہر کا بیان:

میں  زید ولد خالد اللہ  کو حاضر ناظر جانتے ہوئے  اپنی بیگم کو دی گئی دو طلاقوں کا بیان دے رہا ہوں۔ جو درج ذیل ہے:

پہلی طلاق:

آج سے تقریباً 8 یا 9 سال پہلے کسی جھگڑے کی بنیاد پر طلاق دی   جس کی تفصیل یہ ہے کہ میں رات کے  وقت سو رہا تھا اور بیگم نے اٹھا کر مسئلے کو ختم کرنے کا بولا،  میں نے نیند سے اُٹھ کر طلاق کا لفظ ادا کر دیا کہ”میں نے تجھے طلاق دی” اس وقت کمرے میں کوئی تیسرا شخص موجود نہیں تھا۔ اس کے بعد ہماری صلح ہو گئی  اور ہم میاں بیوی کی طرح رہتے رہے۔

دوسری طلاق:                                    

رواں سال رمضان کے آخری عشرے میں، میں نے فون کال پر طلاق دی،  اس طلاق سے پہلے میں اُن کو گھر واپسی کے لیے منا رہا تھا، جس پر وہ خفا تھیں اور  میں ناراضگی کا اظہار کر رہا تھا،  مگر میری زبان سے طلاق کالفظ ادا ہوگیا کہ”میں طلاق دیتا ہوں”

اب مسئلہ یہ ہے کہ میں ان دو دی گئی طلاقوں کا اقرر کرتا ہوں مگر میری بیگم کا کہنا ہے کہ ان دو طلاقوں کے علاوہ آپ نے تیسری طلاق مجھے کسی زمانے میں تحریری میسج  کے ذریعے دی ہے، جب کہ میں حلف اٹھاتا ہوں کہ میں نے ایسا کوئی تحریری میسج نہیں کیا،  اور جب میں بیگم کو کہتا ہوں کہ وہ تحریری میسج دکھائیں تو وہ کہتی ہیں کہ میرے پاس   تحریری میسج نہیں ہے ۔

میں ایک مسلمان ہونے کے ناطے، ایک  کلمہ گو ہوتے ہوئے اللہ کو حاضر ناظر جانتے ہوئے حلف اٹھاتا ہوں کہ میں نے دو طلاقوں کے علاوہ  اور کوئی طلاق نہیں دی۔ مذکورہ صورتحال میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟

بیوی کا بیان:

شادی کے ایک ماہ بعد مجھے انہوں نے ایک عیسائی لڑکی کے ساتھ اپنی محبت کا بتایا اور ثبوت کے طور پر ایک تصویر بھی دکھائی جو نامناسب تھی اور میرے ساتھ اس لڑکی کے کہنے پر تعلق ختم کیا ۔ ہم اجنبیت کی زندگی گزار رہے تھے اور وہ اس لڑکی سے ملنے بھی جاتے اور ہر وقت اس سے میرے سامنے باتیں بھی کرتے۔ شادی کو تین ماہ گزر گئے اور ایک رات اسی طرح باتیں کرتے کرتے جب صبح ہوئی اور یہ سونے لگے تو میں نے ان سے باز پرس کی اور ان کو جاگنے کو کہا کہ بات کریں اور معاملہ سلجھائیں تو انہوں نے مجھے  غصے میں کہا جا بے غیرت عورت”میں نے تجھے طلاق دی”۔ میرے لئے یہ ایک شاک (جھٹکا) تھا۔ مجھے اس کے آگے یا  پیچھے کہے گئے الفاظ یاد نہیں کہ کہے بھی گئے تھے یا نہیں۔

پہلی طلاق کے بعد ان کے معافی مانگنے کے بعد ہم دونوں میں باہمی صلح ہوئی مگر معاملات ٹھیک نہ ہوئے بلکہ اور بھی بُرے ہوگئے۔ میری نظروں سے ان کے  اس  لڑکی کے ساتھ جسمانی تعلق کی ایک ویڈیو گزری اُس کے بار ے میں، میں نے ان کے گھر والوں کو بتایا اور ساتھ پہلی طلاق کا بھی بتایا، پہلی طلاق اور اس بات میں تقریباً ایک ماہ کا وقفہ ہے، اسی دوران اس لڑکی کے کہنے پر انہوں نے تقریباً ایک پورا پتہ نیند کی گولیاں کھائیں جس کی وجہ سے ان کی حالت خراب رہی اور بے سدھ رہے اس کے بعد ان کو اپنے اردگرد کے بارے میں علم نہیں تھا، اگلے دن تھوڑی بے ہوشی اتری تو اپنی ساس کی ہدایت کے مطابق میں نے ان کو کچھ بھی یاد نہیں دلایا کہ کل کیا ہوا تھا۔ میرے سسر ان تمام واقعات کے گواہ ہیں اور میری نند بھی۔ میں نے اس لڑکی سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ اس کے ساتھ یہ کیا کیا ہے؟  تو وہ لڑکی کہنے لگی کہ اگر تم نے مروانا ہے تو بتا دو میں سپاری دلوا دیتی ہوں۔ مجھے اس لفظ کا مطلب نہیں معلوم تھا میں نے کہا کہ بس اس کا پیچھا چھوڑ دو تو اس نے کہا کہ اچھا ابھی مرا نہیں کیا؟ یہ بات میرے شوہر کو جب معلوم ہوئی کہ میں نے لڑکی سے رابطہ کیا ہے  تو انہوں نے مجھ سے کال پر تصدیق کی اور فون رکھ دیا۔ تھوڑی دیر بعد میسج کیا کہ”میری طرف سے تمہیں طلاق ہےیا میں تمہیں طلاق دیتا ہوں”۔ یہ میسج ان کے گھر والوں اور اپنے گھر والوں کو بھی دکھایا گیا، ان کے ماموں نے میرے والد اور بھائی کو واپس بھیجا کہ ہم خود مصالحت کراتے ہیں یہ میری بیٹی ہے میں باپ بن کر ہی فیصلہ کروں گا۔ میرے والد مجھے ان کے سپرد کرکے چلے گئے۔ میری ساس،  ان کے ماموں، ممانی اور ماموں کی بہو کی موجودگی میں انہوں نے معافی مانگی، میرے والدین  کو بتایا گیا   کہ آئندہ ایسا کچھ نہیں ہوگا، اور پھر صلح ہوئی تین حیض گزرنے سے پہلے ہماری صلح ہوگئی۔

اس کے بعد یہ  لیبیا چلے گئے، میں اس دوران  ان کو ضرورت کے لیے پیسے دیتی رہی،  بعد میں علم ہوا کہ یہ پیسے انہوں نے  اُسی لڑکی کو دیئے تھے، گھر بچانے کے لیے میں نے کافی تگ و دو کی یہ ایک الگ گفتگو ہے۔ ضرورت پڑنے پر بیان کی جاسکتی ہے۔ بہرحال اس تمام عرصے میں وہ لڑکی دو سال کے بعد اچانک غائب ہو گئی جس کا انہوں نے کافی اثر لیا۔ پھر بعد میں ایک کے بعد دوسری اور پھر تیسری لڑکی سے دل بہلانے کا سلسلہ جاری رہا، اتنے سال میں کبھی میں نے اپنے گھر والوں کو بات کرنے  کے لئے نہیں  بلایا کہ میرا گھر خراب نہ ہو، مگر اب میری برداشت کی انتہاء تھی، مجھ  سے بار بار کئے  گئے وعدے جھوٹے تھے، جھوٹ بہت زیاہ بولتے ہیں، معلوم نہیں ہوتا کب سچ بولتے ہیں کب نہیں۔ پچھلےایک سال میں اکثر کہتے کہ جتنا رہنا تھا رہ لیا آپ کے ساتھ مزید نہیں رہا جاسکتا کیونکہ یہ میری نیچر ہے، بچوں کا بھی احساس نہیں کیا،آج کل جس عورت کے پیچھے تھے اس نے مجھ سے ان کے بارے میں باز پرس کی تو میں نے اس کو بتایا کہ میں ان کے دو بچوں کی ماں ہوں تو یہ ناراض ہوئے اور مجھے کہا میں نے آپ کو دل میں طلاق دی ہوئی   ہے، جب ان کی پکڑ اور بار بار یقین دہانی پر کسی صورت بھی معاملہ ٹھیک نہ ہوا تو میں نے اپنے والدین کو بلایا اور پھر میں اپنے سسر اور والدین کے باہمی مشورہ سے اپنے والدین کے گھر آگئی، اگلے دن انہوں نے مجھے فون کیا اور مجھے فون پر ایک مرتبہ کہا کہ “میں آپ کو طلاق دیتا ہوں”۔ان کا بلکہ پوری فیملی کا ہی دینی رجحان بہت کم ہے، بہت بار سمجھانے پر بھی وہ دین کی طرف مائل نہیں ہوئے بلکہ میرے سر پر دوپٹہ  لینے  پر ناراض ہوجاتے تھے کیونکہ اکثر ہر مذہب کا مطالعہ رکھتے ہیں، تھوڑا بہت بین المذاہب لوگوں سے ملنا جلنا رہا ہے تو ان کا  اپنا عقیدہ تھوڑا کمزور محسوس ہوتا ہے۔  اس صورتحال میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں ؟ کیا ایسے شخص کے ساتھ رہا جاسکتا ہے؟ چاہے بچوں کے لیے ہی سہی۔

تنقیح: میسج کرنے سے پہلے جب شوہر نے فون کیا تھا تو فون پر ہمارا بحث ومباحثہ چل رہا تھا  اور وہ غصے میں تھے اس کے بعد  انہوں نے غصہ میں طلاق کا میسج کیا تھا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں بیوی کے حق میں   تینوں  طلاقیں واقع ہو گئی ہیں ، جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہوگئی ہے، لہذا اب رجوع یا صلح کی گنجائش باقی نہیں رہی۔

توجیہ: مذکورہ صورت میں جب شوہر نے آٹھ یا نو سال پہلے اپنی بیوی کو یہ الفاظ کہے کہ”میں نے تجھے طلاق دی” تو ان الفاظ سے ایک رجعی طلاق واقع ہوگئی پھر چونکہ میاں بیوی اکٹھے رہتے رہے لہذا  رجوع ہوگیا اور نکاح باقی رہا ، اس واقعہ کے بعد بیوی کا چونکہ یہ دعوی ہے  کہ شوہر نے مجھے یہ میسج  کیا ہے کہ “میری طرف سے تمہیں طلاق ہےیا میں تمہیں طلاق دیتا ہوں”   اور ہماری تحقیق میں میسج کی تحریر کتابت مستبینہ غیر مرسومہ ہے اور کتابت مستبینہ غیر مرسومہ سے شوہر کی طلاق کی نیت ہو یا شوہر نے غصہ یا مذاکرہ طلاق میں طلاق لکھی ہو تو طلاق واقع ہو جاتی ہے اور مذکورہ صورت میں شوہر نے چونکہ غصہ میں میسج کیا ہے لہذا اس سے ایک رجعی طلاق  واقع ہوگئی اور عدت کے اندر رجوع کرلینے کی وجہ  سے نکاح باقی رہا  کیونکہ اگرچہ شوہر میسج کا منکر ہے لیکن طلاق کے معاملے میں بیوی کی حیثیت قاضی کی طرح   ہوتی ہے اور وہ اپنے علم پر عمل کرنے کی پابند ہوتی ہے لہذا بیوی کے حق میں مذکورہ میسج سے ایک رجعی طلاق واقع ہوگئی ، پھر چونکہ شوہر نے عدت کے اندر رجوع کرلیا تھا لہذا نکاح باقی رہا، پھر  اس کے کچھ عرصہ بعد جب شوہر نے  فون پر اپنی بیوی کو یہ الفاظ کہے کہ”میں آپ کو طلاق دیتا ہوں”  تو ان الفاظ سے  تیسری  طلاق واقع ہو گئی، جس کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہوگئی۔

واضح رہے کہ مستبینہ غیر مرسومہ طلاق اگرچہ الفاظ کے لحاظ سے صریح ہے مگر کتابت اور پھر غیر مرسومہ ہونے کی وجہ سے نیت کے حق میں ملحق بالکنایہ ہے  جس سے نیت کے ساتھ تو طلاق  ہو ہی جاتی ہے لیکن دلالت حال معتبر ہوگی یا نہ ہوگی؟ اس بارے میں کوئی صریح جزئیہ نہیں ملا مگر درج ذیل جزئیات سے معلوم ہوتا ہے کہ دلالت حال معتبر ہوگی۔ کیونکہ ان جزئیات میں موجود الفاظ بھی نہ تو صریح ہیں اور نہ کنایہ ہیں۔ اپنے مادے کے لحاظ سے صریح ہیں اور صورت کے لحاظ سے صریح نہیں ہیں۔ اسی طرح ہمارے زیر نظر طلاق مستبین غیر مرسوم میں الہفاظ صریح ہیں مگر طریقہ غیر مرسوم ہے اس لیے یہ بھی اسی فہرست میں شامل ہونا چاہیے اور یہاں بھی دلالت حال معتبر ہونی چاہیے۔

درمختار مع ردالمحتار (455/4) میں ہے:

وكذا يا طال بكسر اللام وضمها لأنه ترخيم أو أنت طال بالكسر وإلا توقف على النية،

(قوله وإلا توقف على النية) أي وإن لم يكسر اللام في غير المنادى توقف الوقوع على نية الطلاق: أي أو ما في حكمها كالمذاكرة والغضب كما في الخانية. وفي كنايات الفتح أن الوجه إطلاق التوقف على النية مطلقا لأنه بلا قاف ليس صريحا بالاتفاق لعدم غلبة الاستعمال ولا الترخيم لغة جائز في غير النداء، فانتفى لغة وعرفا فيصدق قضاء مع اليمين إلا عند الغضب أو مذاكرة الطلاق فيقع قضاء أسكنها أو لا، وتمامه فيه.

فتح القدیر(4/60)میں ہے:

وأما طال بلا قاف فأطلق بعضهم الوقوع به وفصل بعضهم فقال مع إسكان اللام: يحتاج الى النية ومع كسرها يقع بلا نية والوجه إطلاق التوقف علي النية مطلقا لأنه بلا قاف ليس صريحا لعدم غلبة الاستعمال ولا الترخيم لغة جائز في غير النداء فانتفى لغة وعرفا فيصدق قضاء مع اليمين، هذا في حالة الرضا وعدم مذاكرة الطلاق، أما في أحدهما فيقع قضاء أسكنها أو لا۔

عالمگیری(1/357)میں ہے:

ولو حذف القاف من طالق فقال أنت طال فان كسر اللام وقع بلا نية وإلا فإن كان في مذاكرة الطلاق أو الغضب فكذالك وإلا توقف على النية۔

درمختار مع ردالمحتار (455/4) میں ہے:

(و) يقع (بباقيها) أي باقي ألفاظ الكنايات المذكورة، فلا يرد وقوع الرجعي ببعض الكنايات أيضا نحو: أنا بريء من طلاقك وخليت سبيل طلاقك وأنت مطلقة بالتخفيف، وأنت أطلق من امرأة فلان، وهي مطلقة، وأنت ط ا ل ق وغير ذلك مما صرحوا به (خلا اختاري) فإن نية الثلاث لا تصح فيه أيضا ولا تقع به ولا بأمرك بيدك ما لم تطلق المرأة نفسها كما يأتي (البائن إن نواها أو الثنتين)

(قوله بالتخفيف) أي تخفيف اللام، أما بالتشديد فهو صريح يقع به بلا نية كما مر في بابه (قوله وأنت أطلق من امرأة فلان) فإن كان جوابا لقولها إن فلانا طلق امرأته وقع ولا يدين لأن دلالة الحال قائمة مقام النية؛ حتى لو لم تكن قائمة لم يقع إلا بالنية نهر في باب الصريح عن الخلاصة فليس من الصريح وإلا لم يتوقف على النية، وعلله في الفتح بأن أفعل التفضيل ليس صريحا فافهم (قوله وهي مطلقة) أي والحال أن امرأة فلان مطلقة وإلا فلا يقع، وهذا القيد ذكره في البحر، لكن في الفتح في أول باب الصريح أنه لا فرق بين كونها مطلقة أو لا. قال: والمعنى عند عدم كونها مطلقة لأجل فلانة، يعني أن (من) في قوله من امرأة فلان للتعليل (قوله وأنت ط ل ق) قدمنا في باب الصريح عن الذخيرة تعليله بأن هذه الحروف يفهم منها ما هو المفهوم من صريح الكلام إلا أنها لا تستعمل كذلك، فصارت كالكناية في الافتقار إلى النية.:

درمختارمع ردالمحتار (443/4)میں ہے:

(صريحه مالم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة)……….. (ويقع بها) أى: بهذه الفاظ وما بمعناها من الصريح…….. (واحدة رجعية، وإن نوى خلافها)

فتاوی عالمگیری (407/1)میں ہے:

وإذا طلق الرجل إمرأته تطليقة أو تطليقتين رجعيتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذالك أو لم ترض كذا في الهداية.

ردالمحتار (442/4)میں ہے:

قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب الى الغائب وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا وهو على وجهين: مستبينة وغير مستببنة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والارض على وجه يمكن فهمه وقراءته وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكن فهمه وقراءته ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى وان كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا لا.

ہدایہ (67/4) میں ہے:

وفي كل موضع يصدق الزوج على نفي النية إنما يصدق مع اليمين لأنه أمين في الإخبار عما في ضميره والقول قول الأمين مع اليمين

بنایہ شرح ہدایہ (372/5) میں ہے:

م: (ثم في كل موضع يصدق الزوج على نفي النية) ش: أي يصدق م: (وإنما يصدق مع اليمين لأنه أمين في الإخبار عما في ضميره، والقول قول الأمين مع اليمين) ش: لنفي التهمة عنه، وبه قال الشافعي، وقال مالك وأحمد في الكنايات الخفية كذلك لا في الظاهر، واشتراط اليمين لأن في قوله إلزامًا على الغير وفيه ضعف، فاحتيج إلى المؤكد وهو اليمين

فتح القدیر (65/4)میں ہے:

(قوله: وفي كل موضع يصدق الزوج في نفي النية إنما يصدق مع اليمين إلخ) قدمنا بيانه ونقله من الكافي للحاكم ولزوم اليمين لما فيه من الإلزام على الغير بعد ثبوت احتمال نفيه بالكناية فيضعف مجرد نفيه فيقوى باليمين، والأقرب أنه لنفي التهمة أصله حديث تحليف ركانة المتقدم.

بحرالرائق (529/3) میں ہے:

وفي الهداية: وفي كل موضع يصدق الزوج على نفي النية إنما يصدق مع اليمين لأنه أمين في الإخبار عما في ضميره، والقول قول الأمين مع اليمين اهـ وسيأتي إن شاء الله تعالى في الاستحلاف أن القول له مع اليمين إلا في عشر مسائل لا يمين على الأمين وهي في القنية

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved