- فتوی نمبر: 26-119
- تاریخ: 20 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > متفرقات مالی معاملات
استفتاء
STC بیرون ممالک سے میڈیکل لیبارٹری سے متعلق سامان(مشین اور کیمیکل وغیرہ) گورنمنٹ اور پرائیویٹ اداروں کو امپورٹ کرکے دیتی ہے۔ گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو فروخت کرنے کے لیے STC ٹینڈر میں حصہ لیتی ہے۔ ٹینڈر میں ٹیکنیکل طور پر پاس(OK) ہونے کے بعد جن کمپنیوں کو آرڈر دیا جاتا ہے تو حکومتی قانون کے مطابق وہ کمپنی ٹینڈر میں جتنے فیصد حصہ لے رہی ہوتی ہے اس کی مالیت کا 2 تا 5 فیصد تک CDR (سکیورٹی) جمع کرواتی ہے جو کہ پروجیکٹ پورا ہونے کے بعد واپس کر دی جاتی ہے۔
اس طرح کرنے کی درج ذیل وجوہات ہو سکتی ہیں:
- کسٹمر چاہتا ہے کہ ہمارے پاس مالیاتی(Financialy) طور پر مضبوط(Strong) کمپنیاں آئیں، تاکہ آئندہ پروجیکٹ میں کام کو لٹکا کر نہ رکھیں۔
- کسٹمر یہ سمجھتا ہے کہ اگر ٹینڈر کو کھلا چھوڑ دیا تو زیادہ کمپنیاں آجائیں گی اور کاغذی کاروائی میں زیادہ وقت لگے گا، اس لیے یہ شق ڈالی جاتی ہے کہ تاکہ کم سے کم کمپنیاں ٹینڈر میں حصہ لیں اور آئندہ کے لائحہ عمل میں ان کے ساتھ معاملات کرنا آسان ہو۔ CDR جمع کروانے میں شرعاً کوئی قباحت تو نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
STC کا ٹینڈر میں CDR جمع کروانا شرعاً جائز ہے۔
فقہ البیوع(11/119) میں ہے:
قد جرت العادة في بعض المعاملات اليوم أن أحد طرفي العقد يطالب الآخر بدفع بعض المال عند الوعد بالبيع قبل انجاز العقد، و ذلک للتأکد من جديته في التعامل. و هذا کما يشترط طالب العروض في المناقصات(Tenders) أن يقدم صاحب العرض مبلغا يثبت جديتيه في التعامل، و کما جرت العادة في بعض البلاد أن المشتري يقدم مبلغا من الثمن الي البائع قبل انجاز البيع، و ذلک لتأکيد وعده بالشراء. و يسمي في العرف ’’هامش الجدية‘‘ أو ’’ضمان الجدية‘‘ (وان لم يکن ضمانا بالمعني الفقهي) فهذه الدفعات ليست عربونا ’’وانما هي أمانة بيد البائع تجري عليه أحکام الأمانات.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved