- فتوی نمبر: 35-183
- تاریخ: 25 مئی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > کنائی الفاظ سے طلاق کا حکم
استفتاء
10 جنوری 2026 کو گھر میں لڑائی جھگڑے کی بناء پر میرے شوہر کا مجھے فون آیا کہ” تم میری طرف سے فارغ ہو، میرا تمہارا رشتہ ختم ہے، تم اپنے ماں باپ کے گھر چلی جاؤ اور بھائی سے کہو سامان اٹھا لیں” تمہارے پہنچنے سے پہلے تمہیں کاغذات مل جائیں گے اس بات کے بعد اب تک میرا میرے شوہر سے کوئی رابطہ نہیں ہے نہ انہوں نے کیا ہے 18 نومبر 2024 کو شوہر سعودی عرب گئے تھے ان کو گئے ہوئے ایک سال تین مہینے ہو گئے ہیں شریعت اور اسلام کے مطابق میرے لیے کیا حکم ہے؟ طلاق ہوگئی ہے یا نہیں؟ اور اگر ہوگئی ہے تو کتنی ہوئی ہیں؟
وضاحت مطلوب ہے: شوہر کا رابطہ نمبر ارسال کریں۔
جواب وضاحت: *****
دارالافتاء کے نمبر سے شوہر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے کہا کہ میں نے صرف یہ الفاظ بولے ہیں کہ “تم میری طرف سے فارغ ہو ” اور نیت یہ تھی کہ” تم دماغ سے فارغ ہو” اور باقی الفاظ میں نے استعمال نہیں کیے ۔(رابطہ کنندہ: محمد سلیمان)
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں بیوی کے حق میں ایک بائنہ طلاق واقع ہو گئی ہے جس کی وجہ سے سابقہ نکاح ٹوٹ گیا ہے لہذا اب اگر میاں بیوی دوبارہ اکٹھے رہنا چاہیں تو کم از کم دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نکاح کر کے رہ سکتے ہیں۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں شوہر کے یہ الفاظ کہ “تم میری طرف سے فارغ ہو” کنایات طلاق کی تیسری قسم میں سے ہیں جن سے غصہ یا مذاکرہ طلاق میں نیت کے بغیر بھی بیوی کے حق میں طلاق واقع ہو جاتی ہے چونکہ مذکورہ صورت میں شوہر نے یہ الفاظ غصے کی حالت میں بولے تھے لہذا بیوی کے حق میں ایک بائنہ طلاق واقع ہو گئی ہے جس کی وجہ سے سابقہ نکاح ٹوٹ گیا ہے اور اس کے بعد باقی الفاظ چونکہ کنایات طلاق میں سے ہیں لہٰذا البائن لا يلحق البائن کے تحت بیوی کے حق میں ان الفاظ سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
در مختار(521/4) میں ہے:
(وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا
والحاصل أن الأول يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة، والثاني في حالة الرضا والغضب فقط ويقع في حالة المذاكرة بلا نية، والثالث يتوقف عليها في حالة الرضا فقط، ويقع حالة الغضب والمذاكرة بلا نية
الدر المختار مع ردالمحتار (4/516) میں ہے:
(ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) و هي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب
(قوله قضاء) قيد به لأنه لا يقع ديانة بدون النية، ولو وجدت دلالة الحال فوقوعه بواحد من النية أو دلالة الحال إنما هو في القضاء فقط كما هو صريح البحر وغيره.
در مختار (5/42) میں ہے :
وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع.
بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:
”فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد“
احسن الفتاوی(5/188) میں ہے:
سوال: کوئی شخص بیوی کو کہے “تو فارغ ہے” یہ کون سا کنایہ ہے……. حضرت والا اپنی رائے سے مطلع فرمائیں۔بینوا توجروا۔
جواب : بندہ کا خیال بھی یہی ہے کہ عرف میں یہ لفظ صرف جواب ہی کے لیے مستعمل ہے۔ اس لیے عند القرینہ بلا نیت بھی اس سے طلاق واقع ہو جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
