- فتوی نمبر: 35-25
- تاریخ: 21 جنوری 2026
- عنوانات: عبادات > حج و عمرہ کا بیان > احرام کا بیان
استفتاء
میری عمر سترہ سال ہے ،میں تیسرے مہینے عمرہ کی ادائیگی کے لیے گیا تھا ،یہاں ائر پورٹ سے عمرہ کی نیت کرکے احرام باندھا لیکن وہاں جاکر میری طبیعت خراب ہوگئی اور میں عمرہ ادا نہ کرسکا اور عمرہ کی ادائیگی کیے بغیر ہی احرام کھول دیا اور سوگیا پھر جب صبح اٹھا تو طبیعت بہتر ہونے پر دوبارہ مسجدِ عاشہؓ گیا اور دوبارہ نیت کرکے احرام باندھااور عمرہ ادا کیا ،برائے مہربانی میری راہنمائی فرمائیں کہ پہلے والی نیت پر دم واجب ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں آپ پر ایک دم اور ایک عمرے کی قضاء لازم ہے۔
توجیہ:مذکورہ صورت احرام علی الاحرام علی التعاقب کی ہے یعنی مذکورہ صورت میں ایک عمرے کا احرام باندھ کر اس سے نکلے بغیر دوسرے عمرے کا احرام باندھا ہے کیونکہ مذکورہ صورت میں پہلے عمرے سے صرف احرام کھولنے سے آپ احرام سے نہیں نکلے بلکہ احرام سے نکلنے کے لیے طواف وسعی کرکے حلق یا قصر ضروری تھا جوکہ آپ نے نہیں کیا لہٰذا پہلا احرام باقی رہا اور احرام علی الاحرام علی التعاقب میں یہ تفصیل ہے کہ اگر پہلے عمرے کی سعی سے فارغ ہونے سے پہلے دوسرے عمرے کا احرام باندھا ہے تو دونوں عمرے لازم ہوجائیں گے اور دوسرا عمرہ ترک ہوجائے گا اور اس ترک کرنے کی وجہ سے ایک دم لازم ہوگا اور متروکہ عمرہ کی قضا ء لازم ہوگی ،مذکورہ صورت میں بھی چونکہ پہلے عمرے کا احرام باندھ کر اس سے نکلے بغیر دوسرے عمرے کا احرام باندھا ہے لہذا ایک عمرے کی قضاء اور ایک دم لازم ہوگا۔
مناسک ملا علی قاری(ص:324)میں ہے:
(فلو أحرم بعمرة فطاف لها شوطاً أو كله) أي بطريق الأولى (أو لم يطف شيئاً) كان الأخصر حذف هذه الجمل والاكتفاء بقوله : (ثم أحرم بأخرى قبل أن يسعى للأولى لزمه) أي خلافاً لمحمد (رفض الثانية ودم للرفض وقضاء المرفوض)الأولى المرفوضة لأنها العمرة، ولعله ذكره باعتبار كونه نسكاً.
شامی (3/714) میں ہے:
وفي اللباب: كل من عليه الرفض يحتاج إلى نية الرفض إلا من جمع بين حجتين قبل فوات الوقوف أو بين العمرتين قبل السعي للأولى، ففي هاتين الصورتين ترتفض إحداهما من غير نية رفض، لكن إما بالسير إلى مكة أو الشروع في أعمال أحدهما اهـ.
غنیۃ الناسک(ص:372)میں ہے:
فصل:في الجمع بين إحرامي عمرتين فأكثر
بأن يحرم بهما معا أو على التعاقب أو على التراخي، الحكم فيه كالحكم في الحجتين في اللزوم والرفض ووقت الرفض وغير ذلك مما يتصوّر في العمرة، فإذا أحرم بهما معا أو على التعاقب بأن أحرم بأخرى قبل أن يفرغ من السعي للأولى لزمه جميع ذلك، ويرفض إحداهما في المعية، والثانية في التعاقب، فعند أبي يوسف” كما فرغ من إحراميها، وعند أبي حنيفة” إذا سار في إحداهما إلى مكة، وقيل: «إذا شرع في عملها.
وأما عند “محمد” فلم يلزمه إلا إحداهما في المعية، والأولى في التعاقب، وعليه دم الرفض، وقضاء المرفوضة، ولو في ذلك العام؛ لأن تكرار العمرة في سنة واحدة جائزة بخلاف الحج.
معلم الحجاج(ص:365)میں ہے:
دو عمروں کا احرام اکٹھا باندھا یا اول ایک کا احرام باندھا اس کے بعد پہلے عمرہ کی سعی سے فارغ ہونے سے پیشتر دوسرے عمرہ کا احرام باندھا تو دونوں عمرے لازم ہو گئے ۔ پہلی صورت میں غیر معین طور پر ایک ترک ہو گا اور دوسری صورت میں بعد والا اور ترک کرنے کی وجہ سے ایک دم اور متروک کی قضا لازم ہو گئی جس وقت چاہے کرلے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved