• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

اڑان کمیٹی کا حکم

استفتاء

اڑان کمیٹی کے شرعی حکم کے حوالے سے دار الافتاء والتحقیق سے جاری شدہ فتوی نمبر 31/246 وصول ہوا۔ استفتاء میں مذکور تفصیلات اور جواب میں درج توجیہ کے حوالے سے کچھ مزید معلومات فراہم کر کے آنجناب سے نظر ثانی کی درخواست ہے۔

اڑان ایک کمپنی ہے جو پاکستان میں کمپنیوں کی نگرانی کرنے والے ادارے SECP کے تحت رجسٹر ڈ ہے اور Crowdfunding (عوامی چندہ جمع کرنا)کے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتی ہے۔ یعنی اڑان ایسے لوگوں کو جن کو پیسوں کی ضرورت ہو، اُن کو کمیٹی / بی سی کے طرز پر ایسے لوگوں سے پیسے وصول کر کے دیتی ہے جو کمیٹی / بی سی میں حصہ ڈالنا چاہتے ہوں۔ اڑان اپنی کمیٹی کی اس پراڈکٹ میں مختلف لوگوں سے پیسے وصول کرنے اور دوسرے لوگوں تک پیسے پہنچانے کا کام سر انجام دیتی ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کمیٹی یا بی سی حاصل کرنا چاہے تو وہ اڑان کے پاس اپنے آپ کو رجسٹر ڈ کرواتا ہے۔ اڑان اس شخص سے اس کی مطلوبہ کمیٹی کی مدت ( پانچ مہینے یا چھ مہینے ) معلوم کرتی ہے۔ اگر وہ شروع کی باریوں میں سے کسی ایک میں کمیٹی کی رقم حاصل کرنا چاہتا ہو تو اڑان اس شخص کے بارے میں تمام تر ضروری تحقیقات سر انجام دیتی ہے جیسے اس شخص کے شناختی کارڈ کی تصدیق، اس کے علاقے، محلے وغیرہ کی تصدیق، فون کال کے ذریعہ اس سے معلومات کی تصدیق، اس کی رسک اسسمنٹ یعنی اس چیز کا اندازہ  کہ یہ شخص مکمل ادائیگیاں کرتارہے گا یا نہیں وغیرہ۔

اسی طرح وہ لوگ جو کمیٹی یابی سی میں بعد کی یا آخری باری لینا چاہتے ہوں وہ بھی اڑان کے پاس اپنے پیسے جمع کرواسکتے ہیں۔ اڑان پہلی دس تاریخوں میں لوگوں سے وصولی کرتی ہے اور پھر دس تاریخ یا مقررہ ادائیگی کی تاریخ پر جمع شدہ پیسے منتخب لوگوں کے اکاؤنٹ میں بھیجتی  ہے۔ اس کے علاوہ اڑان وقت مقررہ پر ادائیگی کرنے کے لیے یاددہانی اور رابطہ بھی کرتی ہے، نیز اڑان نے اس کے لیے ایک سافٹ وئیر بھی تیار کیا ہے جو ان مختلف کاموں میں استعمال ہوتا ہے۔

1۔اڑان ان سب حقیقی خدمات کی اجرت وصول کرتا ہے جو کہ حسب معاہدہ (یعنی Terms and Conditions) سب ممبران کے لیے یکساں ہے تاہم اڑان اپنے اختیار سے بعض کمیٹی ممبران کو یہ اجرت معاف کر دیتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی مہینے کوئی شخص اپنی ادا ئیگی بر وقت نہ کرے تو اڑان اس سے اس مہینے کی اجرت معاف کرنے کی بجائے وصول کر لیتا ہے۔

2۔ نیز حقیقی خدمات کی اجرت فریقین باہمی رضامندی سے طے کر سکتے ہیں اور اس بناء پر اگر پہلی باری والے سے اجرت زیادہ بھی وصول کی جائے تو شرعا کوئی قباحت معلوم نہیں ہوتی۔ معاملہ کرنے سے پہلے عقد کے اصول و ضوابط ہر کمیٹی ممبر قبول کرتا ہے اور یہ بات اصول و ضوابط (Term and Conditions) میں مذکور ہے۔

حاصل یہ کہ اڑان کمیٹی ممبر ان کے وکیل کے طور پر کمیٹی کو چلانے اور اس سے متعلقہ تمام امور سر انجام دیتی ہے۔

3۔ نیز کمیٹی کا یہ سلسلہ کئی سالوں سے چل رہا ہے ، جب پہلی دفعہ یہ کمیٹی شروع ہوئی تھی تو اس وقت پہلی باری چاہنے والے ہر شخص کو فیس لے کر رقم  ادانہیں کی گئی بلکہ کمیٹی مکمل ہونے کے بعد ہی اس شخص کو پیسے ملتے تھے ، نیز اب یہ سلسلہ کئی سالوں سے مسلسل چل رہا ہے جس میں ہر مہینے کچھ لوگ شامل ہوتے ہیں اور کچھ اپنی کمیٹی مکمل کر کے نکل جاتے ہیں۔ لہذا پہلی باری والے کو ملنے والے پیسے اڑان اپنی جیب سے ادا نہیں کرتی بلکہ ایک مسلسل چلنے والی کمیٹی  ہے جس میں پہلے سے لوگ اپنا حصہ ڈال رہے ہیں ، وہ پیسے اڑان نئے آنے والے ممبر ان کو دے دیتی ہے۔

4۔نیز یہ بھی واضح رہے کہ اڑان قانو نا کسٹمر سے ڈیپازٹ وصول کرنے اور مدیونیت قائم کرنے کی مجاز نہیں ہے۔ لہذا اڑان کو  کسی کو پیسے دے کر اس پر نفع یا سود وصول کرنے کی قانوناً اجازت نہیں ہے۔ بلکہ اڑان کا کمیٹی ممبر ان کے ساتھ معاملہ وکالت کا ہوتا ہے نہ کے مقرض اور مستقرض کا۔

مذکورہ بالا تفصیل کی روشنی میں آنجناب سے درخواست کی جاتی ہے کہ اڑان کی کمیٹی کا شرعی حکم بیان فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ تفصیل کے بعد بھی  ہمارا جواب وہی ہے جو پہلے فتوی میں ذکر کیا گیا ہے ۔  آپ نے جو نکات بیان کیے ہیں ان کو ذکر کر کے ان کا جواب  ذکر کیا جاتا ہے ۔

1۔” اڑان ان سب حقیقی خدمات کی اجرت وصول کرتا ہے جو کہ حسب معاہدہ (یعنی Terms and Conditions) سب ممبران کے لیے یکساں ہے تاہم اڑان اپنے اختیار سے بعض کمیٹی ممبران کو یہ اجرت معاف کر دیتا ہے”

یہ بات حقیقت کے خلاف ہے کیونکہ جب کمپنی کی شرائط میں باقاعدہ ذکر ہے کہ  کس  سے فیس لی جائے گی اور کس سے نہیں لی جائے گی اور کس سے کتنی لی جائے گی  تو یہ کہنا   کہ اصلا سب کے لیے برابر فیس طے ہے پھر کمپنی اپنی مرضی سے فیس کم یا معاف کرتی ہے      خلاف  حقیقت  بات ہے  ،چنانچہ فیس کے  بارےمیں کمپنی کا ضابطہ حسب ذیل ہے جو طے شدہ ہے (آخر میں اس کی تصویر  لگا دی گئی ہے )

2۔”نیز حقیقی خدمات کی اجرت فریقین باہمی رضامندی سے طے کر سکتے ہیں اور اس بناء پر اگر پہلی باری والے سے اجرت زیادہ بھی وصول کی جائے تو شرعا کوئی قباحت معلوم نہیں ہوتی”

یہ بات اصولاً تو  درست ہے لیکن مذکورہ صورت میں جبکہ   جب سب  صارفین کے ساتھ  معاملہ برابر درجہ کا  ہے کہ سب  کمپنی کے پاس (بقول کمپنی کے) کمیٹی ڈال رہے ہیں تو صرف اس بنا پر کمپنی کا یہ کہنا کہ اگر کمیٹی پہلے لینی ہے تو زیادہ فیس بنے گی اور بعد میں کم اور ایک  درجہ کے بعد بالکل بھی نہیں یہ بات معقول نہیں  ورنہ تو بینکوں کا یہ کہنا کہ ہم بینک سے قرض لینے والوں سے فیس لیتے ہیں اور جو جتنا زیادہ قرض لے گا اس سے باہمی رضامندی سے اتنی زیادہ فیس لی جائے گی   کیونکہ اس کے بارے میں اتنی زیادہ تحقیق  کرنی  پڑتی ہے جائز ہونا چاہیے ولاقائل بہ احد  چنانچہ فقہ البیوع(ص:1115)  میں  ایل سی کے مسئلہ میں فیس کو  رقم کی مقدار کے ساتھ منسلک کرنے  کے بارے میں  ذکر ہے ۔

ولكن الذي يظهر أن هذه الفكرة إنما يؤخذ بها إذا لم يؤد إلى الربوا، وإلا فللمقرض أن يقول: ليس علي إلا الإقراض. أما كتابة وثيقة القرض، والأعمال الإدارية لإجراء القرض، فليس مما أتبرع به، فآخذ أجرة الكتابة والأعمال الإدارية مرتبطة بمبلغ القرض. وفساد هذا القول ظاهر ، فلا يجوز ربط أجرة كتابة وثيقة القرض قياساً على أجرة الحكاك والثقاب، لأنه يستلزم ربواً.

3۔”نیز کمیٹی کا یہ سلسلہ کئی سالوں سے چل رہا ہے ……….”

یہ بات کمیٹی کی حقیقت(جس کی کمپنی دعویدار ہے) کے خلاف ہے کیونکہ کمیٹی کی حقیقت یہ ہے کہ چند مخصوص بندے باہمی رضامندی سے    باری باری ایک دوسرے کو قرض دیتے ہیں  نہ  يہ کہ یہ ایک چین چلی ہوئی ہے کہ لوگ آ  رہے ہیں  قرض لے رہے ہیں اور پھر واپس کر رہے ہیں  نہ یہ پتہ کہ کس سے قرض لیا اور نہ یہ پتہ کہ کس کو قرض دیا   ۔

4۔نیز یہ بھی واضح رہے کہ اڑان قانو نا کسٹمر سے ڈیپازٹ وصول کرنے اور مدیونیت قائم کرنے کی مجاز نہیں ہے۔۔۔

فقہ کا ضابطہ مسلم ہے کہ عقود میں اعتبار معانی کا ہوتا ہے  نہ کہ الفاظ(ظاہری بنیاد) کا لہذا قانونا اجازت کا نہ ہونا معاملہ کی حقیقت کو نہیں بدل سکتا ۔ قانون بعض دفعہ چیزوں کو اور انداز سے دیکھتا ہے جبکہ شرعی حقیقت اور ہوتی ہے۔ اس لیے محض قانون کی بات کو کسی عقد کی شرعی حقیقت طے کرنے میں حوالہ نہیں بنایا جاسکتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved