- فتوی نمبر: 31-294
- تاریخ: 05 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وقف کا بیان > مدارس کے احکام
استفتاء
میرے والد ایک بہت اچھے عالم دین تھے انہوں نے ایک قطعہ ارضی اجتماعی چندہ سے خرید کر ایک ادارہ دینی تعلیم کے لیے قائم کیا تھا جو الحمدللہ چلتا رہا اور اس میں علماء وقاری حضرات پڑھاتے رہے اور یہ سارے اخراجات اجتماعی چندہ زکوۃ وخیرات سے چلتے رہے اور کچھ عرصہ سے بظاہر معاشرہ میں ایک بے دینی کی لہر ہے اور غالبا مجھ اور میری ٹیم میں کچھ انتظامی صلاحیتوں کی کمی ہے جس کی وجہ سے طلباء کا رجحان ادارے کی طرف بہت کم ہو چکا ہے جس ادارے کا عملہ اساتذہ اور انتظامی افراد کی تعداد 50 افراد ہیں اور بجلی پانی گیس کے بل بھی اور تنخواہیں بھی ایک بڑی مقدار میں ماہانہ اخراجات ہو رہے ہیں لیکن دینی کتابیں پڑھنے کے لیے رہائشی طالب علم 20-50 ہیں وہ بھی معیاری نہیں، اکثر امتحانات میں فیل ہوتے ہیں، ادارہ میں رہائش اختیار کر کے باہر کہیں کام کاج امامت وغیرہ بھی کرتے ہیں اور دن میں بطور طالب علم سبقوں میں حاضر ہوتے ہیں اور کچھ شہری طلباء بھی پڑھتے ہیں جن کا کھانا رہائش مدرسہ کے ذمہ نہیں ہوتی اس کے علاوہ شعبہ حفظ میں تین چار کلاسیں غیر مقیم طلباء کی چل رہی ہیں اس ساری صورتحال میں درج ذیل سوالات ہیں:
1۔لوگوں کے اجتماعی چندہ زکوۃ خیرات اپنے صحیح مصرف میں خرچ ہو رہے ہیں؟
2۔ ادارہ میں پڑھانے والے اساتذہ آ کر معمول کے مطابق چند طلباء کو سبق پڑھا کر تنخواہ وصول کر رہے ہیں یہ ٹھیک ہو رہا ہے؟ حلال ہے؟ حالانکہ یہ چند طلباء کسی بھی قریبی مدرسہ میں ضم کیے جا سکتے ہیں۔
3۔کیا مجھے بحیثیت مہتمم مدرسہ کا نظام چلاتے رہنا چاہیے یا مدرسہ بند کر کے دینی سکول کے انداز میں کام کرنا چاہیے تاکہ عوام الناس کو فائدہ ہو اور ان میں سکول کے انداز میں دینی محنت کی جائے اور ان کے اموال زیادہ بار آور ہوں۔
4۔اگر عوام الناس جو زکوۃ دے رہے ہیں وہ اپنی زکوۃ کثیرہ کا یہ مصرف دیکھیں تو میں خود ان میں ہوں تو کبھی زیادہ زکوۃ دینے پر راضی نہ ہوں کہ طلباء کے مقابلہ میں ایک رہائشی طالب علم کے مقابلہ میں عملہ کے دو افراد بنتے ہیں اس لحاظ سے عوام الناس کو زیادہ سے زیادہ زکوۃ صدقات وغیرہ مدرسہ کے لیے دینے کی ترغیب دینا۔
برائے مہربانی ان سوالات کے جوابات دیکر عند اللہ ماجور ہوں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جو جگہ دینی تعلیم کے لیے وقف ہو اس میں دینی تعلیم کو ختم کرکے سکول کےانداز میں کام کرنا جائز نہیں۔ اگر آپ سے مدرسہ نہیں سنبھالا جارہا تو کسی اور کے حوالے کردیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved