- فتوی نمبر: 34-138
- تاریخ: 07 دسمبر 2025
- عنوانات: خاندانی معاملات > وقف کا بیان > مساجد کے احکام
استفتاء
سوال یہ ہے کہ ایک آدمی کا کسی جگہ پر فارم تھا اور اس نے وہاں مزدوروں کے نماز پڑھنے کے لیے ایک چھوٹی مسجد بنوائی اپنے رقبہ میں اور اب وہ فارم ختم ہو چکا ہے اور وہ مسجد بھی اب غیر آباد ہے اور وہاں اس وقت آبادی بھی نہیں ہے تو اس مسجد کے لیے اس شخص نے 3 کنال رقبہ دیا تھا جس میں یہ مسجد بنوائی تھی اور اب وہ 3 کنال وقف شدہ رقبہ ایک آدمی خرید نا چاہتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ میں گھر بناؤ ں گا اور مسجد کو آباد کروں گا اس صورت کے علاوہ اس مسجد کی آبادی کے لیے اور کوئی صورت نہیں بن رہی تو جو اس کی قیمت ملے گی کیا وہ دوسری مسجد پر لگا سکتے ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جو جگہ ایک دفعہ مسجد کے لیے وقف کر دی جائے اور اس جگہ مسجد بھی بنا دی جائے تو اس کی خرید و فروخت جائز نہیں رہتی لہذا مذکورہ صورت میں تین کنال وقف جگہ کو بیچنا جائز نہیں۔
تو جیہ : جو جگہ ایک دفعہ وقف کر دی جائے وہ بندہ کی ملک سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملک میں چلی جاتی ہے اور اس میں بندے کا اختیار باقی نہیں رہتا۔
درمختار مع ردالمحتار(6/546)میں ہے:
فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك
(قوله: لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه
الفقہ الاسلامی وادلتہ (10/7612) میں ہے:
إذا صح الوقف خرج عن ملك الواقف، وصار حبيساً على حكم ملك الله تعالى، ولم يدخل في ملك الموقوف عليه، بدليل انتقاله عنه بشرط الواقف (المالك الأول) كسائر أملاكه.وإذا صح الوقف لم يجز بيعه ولا تمليكه ولا قسمته
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved