- فتوی نمبر: 31-325
- تاریخ: 07 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وقف کا بیان > مساجد کے احکام
استفتاء
میں نے دارالافتاء میں ایک سوال بھیجا تھا جس کا استفتاءنمبر 2/8044 تھا اس کا مجھے فتویٰ کی صورت میں جواب دیا گیا جس کا فتویٰ نمبر 25/177 تھا اس کے متعلق میں نے مزید پوچھنا تھا کہ میں نے کھیت والی زمین ساری فروخت کر دی۔ کیا میرے ذمہ دس مرلے زمین کی قیمت مسجد کو دینا ضروری ہے جبکہ وقف مکمل نہیں ہوا۔فی الحال میں ساری رقم مکان کی تعمیر میں خرچ کر چکا ہوں ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذكوره صورت میں دس مرلے زمین کی قیمت دوسری مسجد کو دینا ضروری ہے آپ کا اس رقم کو ذاتی تعمیر میں خرچ کرنا جائز نہیں ہے۔
توجیہ:امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک محض قول سے ہی وقف ہو جاتا ہے اور زمین واقف کی ملکیت سے نکل جاتی ہے لیکن طرفین کے قول پر فتوی اس لیے دیا تھا کیونکہ زمین جس جگہ موجود تھی وہاں مسجد کی ضرورت نہ تھی اور وقف کا نفع اسی میں تھا کہ زمین بیچ کر رقم کسی اور مسجد میں لگادی جائے لہذا سابقہ فتوی کی وجہ سے مسجد کی زمین کی رقم سائل کے لیے اپنے استعمال میں لانا جائزنہیں۔
الدر المختار (6/521)میں ہے:
(وركنه الألفاظ الخاصة ك) أرضي هذه (صدقة موقوفة مؤبدة على المساكين ونحوه) من الألفاظ كموقوفة لله تعالى أو على وجه الخير أو البر واكتفى أبو يوسف بلفظ موقوفة فقط قال الشهيد ونحن نفتي به للعرف۔
فتاوی شامی (6َ/539)میں ہے:
واختلف الترجيح والأخذ بقول الثاني أحوط وأسهل ۔بحر۔وفي الدرر وصدر الشريعة: وبه يفتى، وأقره المصنف۔
قوله:(واختلف الترجيح) مع التصريح في كل منهما بأن الفتوى عليه،لكن في الفتح أن قول أبي يوسف أوجه عند المحققين۔
المبسوط (12/43،44) میں ہے:
وكان القاضي أبو عاصم – رحمه الله – يقول قول أبي يوسف من حيث المعنى أقوى لمقاربته بين الوقف والعتق من حيث أنه ليس في كل واحد منهما معنى التمليك ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکذلك المسجد ۔
فتح القدیر (6/193) میں ہے:
(قوله وإذا كان الملك يزول عندهما يزول بالقول عند أبي يوسف وهو) قول الأئمة الثلاثة وقول أكثر أهل العلم لأنه إسقاط الملك كالعتق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ كان قول أبي يوسف أوجه عند المحققين. وفي المنية: الفتوى على قول أبي يوسف وهذا قول مشايخ بلخ۔
الاسعاف فی احکام الاوقاف (ص39) میں ہے:
ثم أن أبا يوسف رحمه الله قال يصير وقفا بمجرد القول لأنه بمنزلة الإعتاق عنده وعليه الفتوى ۔
البحر الرائق (5/329) میں ہے:
فالحاصل أن الترجيح قد اختلف والأخذ بقول أبي يوسف أحوط وأسهل ولذا قال في المحيط ومشايخنا أخذوا بقول أبي يوسف ترغيبا للناس في الوقف ۔
فتاوی محمودیہ (14/267،268) میں ہے:
سوال :۔ اگر بغیر رجسٹر ی شدہ زبانی وقف کی زمین میں مسجدبنائی گئی تو نماز پڑھنا اس میں جائز ہے یانہیں ؟
الجواب حامداًومصلیاً: وقف صحیح ہونے کے لئے رجسٹری ہونا شرط نہیں ، زبانی وقف بھی درست اورکافی ہوتاہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved