• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

وقف نامہ کی تصدیق

استفتاء

میں نے آپ کے ادارے سے گھر کے وقف کے حوالہ سے ایک فتوی (نمبر 33/295) حاصل کیا تھا ۔ اس فتوے  کی روشنی میں یہ وقف نامہ تحریر کیا ہے  ۔ اگر یہ درست ہے تو اس پر مہر تصدیق ثبت فرمادیں ۔ جزاکم اللہ خیرا ۔

وقف نامہ کی عبارت:

منکہ مسمی  زید ولد  خالد  جو کہ ساکن ***** لاہور  کا ہے   اپنے زیر رہائش  مملوکہ  گھر   ***   رقبہ دس مرلہ  میں سے اپنا حصہ جو کہ  اس  گھر کا نصف یعنی پانچ مرلہ    ہے اور باقی پانچ مرلہ کی رجسٹری میرے مرحوم بھائی  بکر  صاحب کے نام ہے  میں   اپنے حصہ  کے گھر  کو مکمل ہوش و حواس کے ساتھ  بغیر جبر واکراہ کے  اللہ کے نام پر ہمیشہ کے لیے وقف کرتا ہوں اس شرط پر کہ تا حیات مجھے اس گھر میں رہائش   رکھنے اور اس کے تمام منافع  استعمال کرنے کا اختیار ہوگااور میرے انتقال کے بعد میری اہلیہ کو یہاں رہنے اور اس گھر کے  تمام منافع  استعمال کرنے  کا حق ہوگا  ۔ میرے اور میری اہلیہ کے انتقال کے بعد   جتنی جلدی ہوسکے  اسے فروخت کرکے حاصل  ہونے والی رقم        مسلک علماء دیوبند سے وابستہ کسی مسجد یا   مسلک علماء دیوبند سے وابستہ کسی مدرسہ یا رائے ونڈ تبلیغی مرکز کے کسی تعمیری کام میں لگا  دی جائے۔ اس بات کا خیال رہے کہ یہ رقم مذکورہ بالا  جگہوں میں سے کسی جگہ بھی  صرف    طویل المدتی  تعمیری کام میں ہی صرف کی جائے ان کے فنڈ اور اخراجات  میں  نہ خرچ کی جائے ۔ واضح رہے کہ اپنی زندگی میں اس وقف کا متولی میں خود ہوں گا  اور اس وقف کی شرائط  ،تفصیلات اور اس کے مصرف  میں ہر  قسم کی تبدیلی  اور ترمیم کرنے کا مجاز ہوں گا ۔ میرے بعد اس وقف کے متولی مولوی ****  ہوں گے  اور حافظ ****، حافظ **** اور حافظ *** ان کے معاون اور مشیر ہوں گے جو اس کو مذکورہ  ہدایات کے مطابق   اس کے مصرف میں  خرچ کرنے کے  پابند ہوں گے ۔نیز یہ بات بھی اہم ہے کہ اگر  میری زندگی میں ہی اس گھر کے فروخت ہونے کی صورت بن جائے  تو اس کی رقم سے جو جگہ خرید کر وقف کی جائے اس میں رہائش رکھنے کا بھی مجھے اور میری اہلیہ کو تاحیات  حق حاصل ہوگا۔ اگر میرے اور میری اہلیہ کے انتقال کے بعد    میرے مرحوم بھائی   بکر  صاحب کے ورثاء (میرے بھتیجے  )اس دس مرلہ  گھر میں سے اپنے حصے   کو فروخت  کرنے پر فوری طور پر تیار نہ ہوں تو   متولی ان کے ساتھ تعاون کرے اور  میرے وقف کردہ  حصے کو  الگ سے فروخت نہ کرے   اور   ایسی  صورت میں وقف کردہ حصہ میں یا  تو کوئی مدرسہ شروع کرلے یا اس  حصہ   کو کرایہ پر دے کر اس  سے حاصل ہونے والی آمدنی کو  کسی دینی مصرف میں لگاتا رہے تاوقتیکہ یہ گھر فروخت    ہوجائے ۔ میں نے یہ وقف  نامہ دارالافتاء والتحقیق جامعہ دارالتقوی  ٰ  چوبرجی پارک لاہور    سے حاصل کیے گئے  فتوے (فتوی نمبر  33/295) کی روشنی   میں لکھا ہے  جس پر  میرے شیخ حضرت مفتی شیر محمد علوی  صاحب دامت برکاتہم   نے بھی  تائیدی دستخط  فرمادیے ہیں ۔

العبد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   گواہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                        گواہ  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ وقف نامہ شرعاً درست ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved