- فتوی نمبر: 26-144
- تاریخ: 22 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > صریح الفاظ سے طلاق کا حکم
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ میں نے شوہر سے خلع کا مطالبہ کیا تو میرے شوہر نے تحریری میسج کیا کہ:”میں ایک طلاق دیتا ہوں “یہ ساری گفتگو واٹس ایپ پر ہوئی کیا طلاق واقع ہوگئی؟
تنقیح:شوہر سے رابطہ ہوا تو اس نے بتایا کہ میسج لکھتے وقت میری طلاق کی نیت تھی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں ایک رجعی طلاق واقع ہوچکی ہے جس کا حکم یہ ہے کہ شوہر رجوع کرنا چاہے تو عدت کے اندر رجوع کرسکتا ہے اور اگر شوہرنے عدت کے اندر رجوع نہ کیا تو عدت گزرنے سے رجعی طلاق بائنہ بن جائے گی جس سے سابقہ نکاح ختم ہوجائے گااوردوبارہ اکٹھے رہنے کےلیے کم از کم دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نکاح کرنا ضروری ہوگا۔
توجیہ: ہماری تحقیق کے مطابق میسج کی تحریر کتابت مستبینہ غیر مرسومہ ہے اور کتابت مستبینہ غیر مرسومہ سے شوہر کی طلاق کی نیت ہوتو طلاق واقع ہوجاتی ہے، مذکورہ صورت میں چونکہ شوہر کی طلاق کی نیت تھی اس لیے ایک رجعی طلاق واقع ہوگئی۔
فتاوی شامی(442/4) میں ہے:
قال في الهندية: الكتابة على نوعين مرسومة وغير مرسومة ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا وهو على وجهين مستبينة وغير مستبينة فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكن فهمه وقراءته ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا لا.
فتاوی عالمگیری (470/1) میں ہے:
واذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية اوتطليقتين فله ان يراجعها فى عدتها رضيت بذلك او لم ترض كذا فى الهداية.
بدائع الصنائع (283/3) میں ہے:
أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد.
فتاوی عالمگیری (473/1) میں ہے:
إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved