• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

وراثت کی تقسیم کی ایک صورت

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مذکورہ مسئلہ کے بارے میں  کہ  میرے چچا کا انتقال ہو چکا ہے، چچا  کے ترکہ میں  45 مرلہ زمین ہے ، چچا کے ورثاء میں ایک بیوہ ، چھ بیٹے ہیں اور تین  بیٹیاں ہیں ۔ چچا کے انتقال کے وقت ان کے والد حیات نہیں تھے، ان کی والدہ حیات تھیں ، ان کا انتقال چچا کے بعد ہوا،  دادی کے 8 بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔  آٹھ بیٹوں میں سے دو بیٹے دادی سے پہلے فوت ہوگئے تھے اور دادی کے انتقال کے وقت ان کے والدین میں سے کوئی بھی حیات نہیں تھا۔ اب ان ورثاء میں ترکہ کیسے تقسیم  ہوگا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں میت کے کل ترکہ کے 4680 حصے کیے جائیں گے جن میں سے مرحوم کی بیوی کو 585 حصے (12.5 فیصد)، مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو 442 حصے (9.44 فیصد فی کس)، مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو 221 حصے (4.72 فیصد فی کس)، مرحوم کے چھ بھائیوں میں سے ہر ایک بھائی کو 120 حصے (2.56 فیصد فی کس) اور بہن کو 60 حصے (1.28 فیصد) ملیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved