• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

وراثت کی تقسیم کی ایک صورت

استفتاء

زید کا انتقال ہوا ہے ، زید کی کوئی اولاد نہیں ہے، زید کے ورثاء میں  بیوہ، ایک بہن، ایک بھتیجا اور تین بھتیجیاں ہیں،   زید كا  ایک ہی بھائی خالد تھا جو زید کی زندگی میں فوت ہوگیا تھا۔ ان میں وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟

وضاحت  مطلوب ہے: (1) سائل کا سوال سے کیا تعلق ہے؟(2) زید کے والدین حیات ہیں یا فوت ہوچکے ہیں؟ اگر فوت ہوچکے ہیں تو کب  فوت ہوئے ہیں  پہلے  یا بعد میں ؟

جواب وضاحت: (1) سائل بھتیجا ہے۔ (2) پہلے ہی فوت ہوچکے ہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں زید کی کل جائیداد کے 4 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 1 حصہ (25 فیصد) بیوی کو، 2 حصے (50 فیصد) بہن کو اور 1 حصہ (25 فیصد)  بھتیجے کو ملے  گا۔ بھتیجیوں کو کچھ نہیں ملے گا۔

صورت تقسیم درج ذیل ہے:

4

بیویبہن1 بھتیجا3 بھتیجیاں
ربعنصفعصبہمحروم
121

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved