- فتوی نمبر: 32-326
- تاریخ: 06 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
میرے ماموں فوت ہوئے ہیں ،ان کی دو بیٹیاں ہیں اور میرے ماموں کے چار بھائی اور ایک بہن حیات ہے، ان کے والدین، ان کی بیوی اور ایک بہن اور بھائی پہلے ہی فوت ہوچکے ہیں۔ والدہ 2023 میں، والد 2012 میں اور ان کی بیوی 2014 میں فوت ہوئیں۔ورثاء میں ماموں کی دو بیٹیاں، ماموں کے چار بھائی اور ایک بہن موجود ہے اور سب صاحب اولاد ہیں۔ ماموں کی وراثت تقسیم کرنی ہے ۔اس سلسلے میں آپ کی رہنمائی چاہیے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں کل جائیداد کے 27 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 9 حصے(33.33 فیصد) ہر بیٹی کو ، 2 حصے (7.40 فیصد) ہر بھائی کو اور 1 حصہ (3.70 فیصد) بہن کو ملے گا۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
3×9=27
| 2 بیٹیاں | 4 بھائی | 1 بہن |
| ثلثان | عصبہ | |
| 2 | 1 | |
| 2×9 | 1×9 | |
| 18 | 9 | |
| 9+9 | 2+2+2+2 | 1 |
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved