• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

وراثت کی تقسیم کی ایک صورت

استفتاء

ایک شخص 2022 میں  فوت ہوا ، اس کی ملکیت میں پونے 5 مرلہ کا مکان تھا ، اس کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی، 2024  میں اس شخص کی بیوی کا انتقال ہوا،2013ء میں والد کی زندگی  میں ہی دو بیٹوں میں سے ایک بیٹے کا انتقال ہوگیا ، جس بیٹے کا انتقال ہوا اس کے ورثاء میں ایک بیٹااور ایک بیٹی ہے۔ والد کی زندگی میں ہی  بیٹی بھی بیوہ ہوگئی۔

سوال یہ ہے کہ2022ء میں  فوت ہونے والے مذکورہ شخص  کی میراث کس طرح تقسیم ہوگی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں  اس کی میراث کے 3 حصے کیے جائیں گے جن میں سے  2 حصے اس کے بیٹے کو اور  ایک حصہ اس کی  بیٹی کو ملے گا۔

صورت تقسیم درج ذیل ہے:

3

بیٹابیٹی
21

شامی(10/543)میں ہے:

‌أن ‌شرط ‌الإرث وجود الوارث حيا عند موت المورث   

در مختار (10/550)میں ہے:

ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف: جزء الميت، ثم أصله، ثم جزء أبيه، ثم جزء جده. (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب، فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل).

نوٹ (1): جو بيٹا اپنے والد   کی زندگی میں ہی  وفات پاچکا تھا اس کو اپنے  والد اوروالدہ  کی وراثت میں سے کچھ حصہ نہیں ملے گا کیونکہ وارث بننے کے لیے ضروری ہے کہ وارث اپنے مورث کی وفات کے وقت زندہ ہو نیز  اس فوت ہونے  والے بیٹے کی اولاد (ایک بیٹے اور ایک بیٹی یعنی پوتے پوتی) کوبھی اپنے دادا دادی کی میراث میں سے شرعاً  کچھ نہیں ملے گا کیونکہ قریبی وارث کی موجودگی میں دور والاوارث  شرعاً محروم ہوتا ہے۔

نوٹ(2): مذکورہ صورت میں مرحوم کی بیوی  کی وراثت بھی چونکہ ان ہی  ورثاء میں تقسیم ہونی تھی جن میں خودمرحوم کی وراثت تقسیم ہونی ہے  لہٰذا بیوی کا حصہ نکال کر اس کو  دوبارہ سے تقسیم نہیں کیا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved