- فتوی نمبر: 32-373
- تاریخ: 08 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
دادا اور دادی کا انتقال ہوچکا ہے، پہلے دادا فوت ہوئے، گھر دادی کے نام ہے، دادا اور دادی کا انتقال 1970 اور 1980 کے درمیان ہوا۔ ان کا ایک بیٹا (یعنی میرے والد صاحب) تھا ان کا انتقال 1995 میں ہوچکا ہے، ان (دادا، دادی) کی کوئی بیٹی نہیں تھی۔
میری والدہ بھی انتقال فرماچکی ہیں، میری والدہ کے والدین یعنی میرے نانا، نانی میری والدہ سے پہلے انتقال کرگئے تھے۔ ہم 3 بھائی اور دو بہنیں ہیں جن میں سے ایک بھائی کا انتقال ہوگیا ہے، بھائی کا انتقال 2021 میں ہوا۔ والدہ کا انتقال بھائی سے پہلے ہوا تھا۔ دو بہنیں شادی شدہ ہیں ، جس بھائی کا انتقال ہوچکا ہے اس کی بیوی اس (شوہر) سے پہلے فوت ہوچکی ہے، ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے، بیٹی شادی شدہ ہے ہم بھائی قانونی طور پر مکان اپنے نام کرواکر فروخت کرنا چاہتے ہیں۔شرعی طور پر رقم کتنے فیصد کے حساب سے تقسیم ہوگی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں گھر یا اس کی قیمت کے 40 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 10 حصے (25 فیصد) آپ کو ، 10 حصے (25 فیصد) آپ کے بھائی کو، 5 حصے (12.5 فیصد) آپ کی ہر بہن کو، 4 حصے (10 فیصد) آپ کے مرحوم بھائی کے ہر بیٹے کو اور 2 حصے (5 فیصد) مرحوم بھائی کی بیٹی کو ملیں گے۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
8×5=40
| پوتا | پوتا | پوتا | پوتی | پوتی |
| 2 | 2 | 2 | 1 | 1 |
| 2×5 | 2×5 | 1×5 | 1×5 | |
| 10 | 10 | 5 | 5 |
5×2=10 2×5=10
| بیٹا | بیٹا | 1 بیٹی |
| 2 | 2 | 1 |
| 2×2 | 2×2 | 1×2 |
| 4 | 4 | 2 |
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved