- فتوی نمبر: 32-374
- تاریخ: 08 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے شوہر زید صاحب کا 2021 میں انتقال ہو گیا تھا، انہوں نے اپنی وراثت میں 92 ایکڑ زرعی زمین اور چار عدد گھر چھوڑے، جن میں سے دو گھر کوٹ عنایت میں ہیں اور ایک گھر مری میں ہے اور ایک گھر لاہور میں ہے، انہوں نے اپنا یہ ٹوٹل ترکہ چھوڑا، زید صاحب کی پہلی شادی زینب نامی خاتون سے ہوئی تھی اس میں سے زید صاحب کی ایک بیٹی (خدیجہ ) تھی اور ایک بیٹا (خالد ) تھا، زید صاحب نے اپنی زندگی میں اپنے بیٹے کی شادی کر دی اور بیٹے کے ہاں ایک بیٹی (کلثوم ) کی ولادت ہوئی، اس بیٹے کا زید صاحب سے سات سال پہلے انتقال ہو گیا تھا، اور پھر زید صاحب نے حفصہ نامی خاتون سے دوسری شادی کرلی، اس بیوی سے ڈاکٹر صاحب کی کوئی اولاد نہیں ہے ۔ زید صاحب کے دو بھائی تھے، ایک بھائی بچپن میں فوت ہوگیا تھا اور ایک بھائی (عمر ) زندہ ہیں ، ان کی دو بہنیں تھیں جن میں سے ایک بہن زید صاحب کی حیات میں وفات پاگئی تھی جو صاحب اولاد تھی اور ایک بہن (عائشہ ) زندہ ہے۔ زید صاحب کی وفات کے وقت ان کے ورثاء میں دو بیویاں، ایک بیٹی، ایک پوتی، ایک بہو(مریم )، ایک بھائی اور ایک بہن موجود ہیں، شریعت کی روشنی میں مذکورہ میراث کی تقسیم کیسے ہو گی؟
نوٹ: زید صاحب کے والدین زید صاحب سے پہلے فوت ہوچکے ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مرحوم کی جائیداد کے 144 حصے کیے جائیں گے جن میں سے ہر ایک بیوی (زینب ، حفصہ ) کو 9 حصے (6.25 فیصد) ، بیٹی (خدیجہ ) کو 72 حصے (50 فیصد)، پوتی (کلثوم ) کو 24 حصے (16.66 فیصد) ، بھائی (عمر ) کو 20 حصے (13.88 فیصد) اور بہن (عائشہ ) کو 10 حصے (6.94 فیصد) ملیں گے۔ بہو (مریم ) محروم ہوگی۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
24×6=144
| 2 بیویاں | بیٹی | پوتی | 1 بھائی | 1 بہن | بہو |
| 1/8 | 1/2 | 1/6 | عصبہ | محروم | |
| 3×6 | 12×6 | 4×6 | 5×6 | ||
| 18 | 72 | 24 | 30 | ||
| 9+9 | 72 | 24 | 20 | 10 |
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved