• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

یوم آزادی پر سجدہ شکر کرنے کا حکم

استفتاء

اپنی طرف سے  انفرادی طور پر یوم آزادی  پرسجدہ شکر کر سکتے ہیں ؟

ڈاکٹر بلال فیلپس کہتے ہیں  اللہ  کی دی ہوئی نعمتوں پر سجدہ شکر کیا کریں۔

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس جب کوئی خوشی کی خبر آتی یا آپ کو بشارت دی جاتی تو آپ اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتے ہوئے سجدے میں گر جاتے تھے۔بحوالہ: ابو داؤد، ترمذی

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

نہیں کرسکتے۔

توجیہ: سجدہ شکر کا موقع خوشی کا اول موقع ہے اس خوشی کے موقع  کا جب تکرار ہے تو وہ تکرار والا وقت سجدہ شکر کا وقت نہیں۔

ہندیہ (1/136) میں ہے:

وسجدة الشكر ……. هي ‌قربة ‌يثاب عليها وصورتها عندهما أن من تجددت عنده نعمة ظاهرة أو رزقه الله تعالى ولدا أو مالا أو وجد ضالة أو اندفعت عنه نقمة أو شفي مريض له أو قدم له غائب يستحب له أن يسجد شكرا لله تعالى مستقبل القبلة يحمد الله فيها ويسبحه ثم يكبر أخرى فيرفع رأسه كما في سجدة التلاوة …….. وأما إذا سجد بغير سبب فليس بقربة ولا مكروه وما يفعل عقيب الصلوات مكروه؛ لأن الجهال يعتقدونها سنة أو واجبة وكل مباح يؤدي إليه فمكروه

شامی (2/119) میں ہے:

وسجدة الشكر: مستحبة به يفتي

(قوله وسجدة الشكر) كان الأولى تأخير الكلام عليها بعد إنهاء الكلام على سجدة التلاوة ط وهي لمن تجددت عنده نعمة ظاهرة أو رزقه الله تعالى مالا أو ولدا أو اندفعت عنه نقمة

احسن الفتاویٰ (3/62) میں ہے:

سوال : شریعت مطہرہ کا حکم اس بارہ میں کیا ہے کہ خارج نماز میں سجدۃ تلاوت کے سوا اور کسی قسم کا سجدہ جائز ہے یا نہیں  ؟………. الخ

الجواب: قال شارح التنوير رحمه الله تعالى وسجدة الشكر مستحبة وبه يفتى ……. عبارات بالا سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوئے :

1۔سجدہ شکر کواگرچہ بعض نے مکروہ لکھا ہے مگر مفتیٰ بہ قول پر یہ صرف اس وقت مستحب ہے جب کسی خاص نعمتِ جدیدہ کا ظہور ہو ، بدون اس کے مستحب نہیں ، اگرچہ مکروہ بھی نہیں  …………. الخ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved