- فتوی نمبر: 31-351
- تاریخ: 08 اپریل 2026
- عنوانات: عبادات > زکوۃ و صدقات > مصارف زکوۃ کا بیان
استفتاء
میں نے گھر میں مدرسہ کا آغاز کیا ہے جس میں عورتیں اور بچے پڑھنے کے لیے آتے ہیں پھر قریب میں ایک مکان کرایہ پر لیا ہے اور وہاں تعلیم کا آغاز کیا ہے اور مزید اساتذہ بھی رکھے ہیں بچوں سے فیس بھی لی جاتی ہے اور اساتذہ کو تنخواہیں بھی دی جاتی ہیں۔
عرض یہ کرنی ہے کہ مدرسہ کے عطیات ، زکوٰۃ ، صدقہ وغیرہ کو مدرسے کے مصارف (کرائے مکان، تپائی، بجلی بل) میں کیسے خرچ کیا جائے؟ اور کونسی رقم کس مصرف میں خرچ کرنا بہتر رہے گا؟
غرض یہ کہ مالی انتظامات کے بارے میں ایک شرعی لائحہ عمل بتادیں تاکہ مدرسہ کے نظم میں اس پر عمل پیرا ہوں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
فیس، عطیات، صدقات نافلہ کو مدرسہ کے کسی بھی مصرف میں خرچ کیا جاسکتا ہے البتہ زکوٰۃ اور صدقات واجبہ مثلا صدقہ فطر ، قربانی کی کھالوں کے پیسے ، منت کے پیسے، عشر وغیرہ مستحق زکوٰۃ طلباء کو براہ راست دیں اور اگر براہ راست نہ دے سکیں تو کسی ایک مستحق زکوٰۃ طالبعلم یا استاد کو براہ راست دیدیں جو عاقل ، بالغ ہو اور یہ سمجھتا ہو کہ میں ان کا مالک ہوں اور پھر وہ یہ زکوٰۃ وغیرہ مدرسہ کو عطیہ کردے اور آپ مدرسہ کے کسی بھی مصرف میں خرچ کردیں۔
شامی (2/344) میں ہے:
ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه)
وفى الشامية: (قوله: نحو مسجد) كبناء القناطر والسقايات وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه زيلعي (قوله: ولا إلى كفن ميت) لعدم صحة التمليك منه
المحیط البرہانی (2/282) میں ہے:
ولا يصرف فى بناء مسجد وقنطرة ………… والحيلة لمن أراد ذلك أن يتصدق بمقدار زكاته على فقير، ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه، فيكون لصاحب المال ثواب الصدقة، ولذلك الفقير ثواب هذه القُرَب
النہایہ فی شرح الہدایہ (5/82) میں ہے:
والحيلة فى بناء المسجد بمال الزكاة او اعتاق لعبد وغيره لمن اراد ذلك ان يتصدق مقدار زكاته على فقير ثم يأمره بعد ذلك بالصرف الى هذه الوجوه فيكون لصاحب المال ثواب الصدقة ولذلك الفقير ثواب هذه القرب
مجمع الانہر (1/222) میں ہے:
(ولا تدفع) الزكاة (لبناء مسجد) ؛ لأن التمليك شرط فيها ولم يوجد وكذا بناء القناطير وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا يتملك فيه، وإن أريد الصرف إلى هذه الوجوه صرف إلى فقير ثم يأمر بالصرف إليها فيثاب المزكي والفقير
البحر الرائق (2/261) میں ہے:
(قوله وبناء مسجد وتكفين ميت وقضاء دينه وشراء قن يعتق) وعدم الجواز لانعدام التمليك الذي هو الركن في الأربعة والحيلة في الجواز في هذه الأربعة أن يتصدق بمقدار زكاته على فقير ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه فيكون لصاحب المال ثواب الزكاة وللفقير ثواب هذه القرب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved