• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

زراعت کی ایک صورت کا حکم

استفتاء

1- علاقے میں لوگ کھیتی  کرتے  ہیں (۱)بیج  (۲)ٹریکٹر (۳) پانی سب  مالک  اور کھیتی والے کے اکھٹے ہوتے ہیں  یہ صورت صحیح ہے  یا نہیں؟

2۔ اور جائز صورتیں کون کون سی ہیں ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔مذکورہ صورت فقہ حنفی کی رو سے تو جائز نہیں   کیونکہ فقہ حنفی میں  بیج میں  اشتراک مزارعت کے منافی ہے جبکہ شوافع کے ہاں بیج کا اشتراک مزارعت کے منافی نہیں ہے اس لیے یہ صورت فقہ شافعی کی رو سے جائز ہے اور چونکہ مذکورہ صورت کا رواج ہے اس لیے مذکورہ صورت میں فقہ شافعی  پر عمل کرنے کی گنجائش ہے۔

2۔ باقی صورتوں کا اجمالی جواب دینا مشکل ہے آپ کے ہاں جو صورتیں رائج ہیں ان کی تفصیل بتاکر  حکم معلوم کرلیں۔ نیز  آپ کو مسائل بہشتی زیور  سے متعلقہ حصہ بھیج رہے ہیں  اس کا مطالعہ  فرمالیں۔

بدائع الصنائع(5/261)میں ہے:

ومنها) : ‌أن ‌يشترط ‌في ‌عقد ‌المزارعة أن يكون بعض البذر من قبل أحدهما، والبعض من قبل الآخر، وهذا لا يجوز؛ لأن كل واحد منهما يصير مستأجرا صاحبه في قدر بذره، فيجتمع استئجار الأرض والعمل من جانب واحد وإنه مفسد

نہایۃ المطلب فی درایۃ المذہب للشافعی (8/204)میں ہے:

 ثم الناس مبتلون بصورة المزارعة مع الحرّاثين، فذكر العلماء حيلاً قريبة في تصحيح الغرض، ذكر الشافعي منها حيلتين إحداهما أن يعير مالكُ الأرض نصفَ الأرض من صاحبه، ثم يأتيان ببَذْر من عندهما، ويعملان فيها معاً، فيكون الزرع بينهما نصفين بحكم الاشتراك في ‌البَذْر. وهذا صحيح ولكن عمل مالك الأرض مع الحراث، غيرُ معتاد؛ فالأولى تمهيدُ طريقٍ تُبرىء مالكَ الأرض من العمل  فقال الشافعي في ذلك: يكري مالكُ الأرض نصفَ الأرض بنصف عمل العامل، ونصف منفعة الآلات التي يستعملها العامل إن كانت الآلات له، ويكون ‌البَذْر مشتركا، فيشتركان في الزرع على حسب الاشتراك في ‌البذر، فإن ملك الغلّة يتبع ملكَ ‌البذر في الخلوصِ والاشتراكِ، والعملُ يقع نصفُه عوضاً عن نصف منفعة الأرض، فيعتدل الأمر. وإذا أراد أن يكون الزرع بينهما أثلاثاً، فليكن ‌البذر بينهما كذلك، فالتعويل على ‌البذر.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved