• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

موقوفہ قبرستان میں اپنے پیسے سے لگائے درختوں کی آمدنی کا حکم

استفتاء

ایک قبرستان میں بہت درخت تھے پھر ان درختوں کو بیچ دیا گیا اب ان درختوں کے پیسوں کو قبرستان میں ہی لگانا ضروری ہے یا کہیں اور بھی لگا سکتے ہیں؟ جیسا کہ گاؤں کے لیے ایک پانی کے نالے کو پکا کرنےکی ضرورت تھی تو کیا وہاں ان پیسوں کو لگا سکتے ہیں جو قبرستان کے تھے  یا نہیں؟

وضاحت مطلوب ہے: قبرستان وقف ہے یا مملوک؟ (2) یہ درخت کسی نے لگوائے تھے یا خود بخود اگے  تھے؟ اگر کسی نے لگوائے تھے تو اپنے خرچے سے لگوائے تھے یا قبرستان کے پیسوں سے؟

جواب وضاحت:  (1) وقف ہے۔ (2)  کسی نے اللہ کی رضا کے لیے اپنے خرچے سے لگوائے  تھے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں  ان  پیسوں کو قبرستان میں ہی لگانا ضروری ہےکسی اور جگہ  لگانا درست نہیں۔

ہندیہ (2/473) میں ہے:

رجل وقف ضيعته على جهة معلومة أو على قوم معلومين ‌ثم ‌إن ‌الواقف ‌غرس ‌شجرا قالوا: إن غرس من غلة الوقف أو من مال نفسه لكن ذكر أنه غرس للوقف يكون للوقف وإن لم يذكر شيئا وقد غرس من مال نفسه يكون له ولورثته بعده ولا يكون وقفا، كذا في فتاوى قاضي خان.

المحیط البرہانی (6/223) میں ہے:

وسئل هو أيضاً عن رجل غرس تالة في مسجد فكبرت بعد سنين ‌فأراد ‌المتولي ‌أن ‌يصرف هذه الشجرة إلى عمارة بئر في هذه السكنة والغارس يقول: هي لي فإني ما وقفتها على المسجد قال: الظاهر أن الغارس جعلها للمسجد فلا يجوز صرفها إلى البئر ولا يجوز للغارس صرفها إلى حاجة نفسه

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved