- فتوی نمبر: 34-360
- تاریخ: 08 اپریل 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
کالے بکرے کی سری وار کر قبرستان میں رکھنا اسلام میں کیسا ہے ؟ چاہے صدقہ کے طور پر ہو ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جائز نہیں ۔
تو جیہ: اول تو کالے بکرے کی تخصیص پھر اس کی سری کی تخصیص پھر اسے مریض کے یا جس کی طرف سے صدقہ کیا جارہا ہے اس پر وارنے کی تخصیص اور پھر اسے قبرستان میں رکھنے کی تخصیص جائز نہیں کیونکہ عوام عموما اور عاملین خصوصاً ان تخصیصات کو دفع مرض و بلا میں کسی نہ کسی درجہ میں مؤثر مانتے ہیں جبکہ ان میں سے کسی بھی تخصیص کا مؤثر ہونا کسی معتبر دلیل سے ثابت نہیں لہذا یہ لا تقف ما لیس لک بہ علم میں داخل ہو کر منہی عنہ اور ناجائز ہے ۔
امدادالفتاوی جدید مطول (11/445) میں ہے:
سوال:اس علاقے کے عوام و خواص سب لوگوں کے درمیان یہ رواج ہے کہ جب کسی کو کوئی مرض لاحق ہوتا ہے یا کوئی مصیبت آتی ہے مریض کے سر پر یا کوئی ناگہانی واقعہ پیش آتا ہے تو بلا ٹالنے کے لیے بنیت صدقہ جانور ذبح کرتے ہیں یا کہتے ہیں کہ اے رب العالمین اس مریض کو شفا عطا فرما ہم تیرے واسطے جانور ذبح کریں گے چونکہ اس وقت مقصود اللہ تعالی کے خاص رحم و کرم کا نزول ہوتا ہے نہ کہ جانور پر غضب ڈھانا تو کیا اس قسم کا رواج اور رسم جائز ہے یا نہیں اور خیر القرون کے زمانے میں اس کا رواج تھا یا نہیں ؟
جواب : اگرچہ اس عادت کا خیر القرون میں ہونا نظر سے نہیں گزرا مگر شریعت کے قواعد کلیہ کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ چیز فی نفسہ مباح اور جائز ہے مگر چند عوارض کی بنا پر اس کے بدعت ہونے کا فتوی دینا میرا معمول ہے اور وہ عوارض یہ ہیں کہ اکثر لوگ اس عمل کو کرتے وقت نفس صدقہ کو مقصود اور نفع بخش نہیں سمجھتے بلکہ خاص ذبح کرنے اور خون بہانے کو مریض کا فدیہ گمان کرتے ہیں اوریہ بالکل نامعقول بات ہے اور ایسا کرنے کے لیے نص کا ہونا ضروری ہے اور نص ہے نہیں اور ایسا اعتقاد رکھنے کی دلیل یہ ہے کہ یہ لوگ اس جانور کی قیمت کے برابر روپے صدقہ کرنے پر کبھی راضی نہیں ہوتے۔
امداد الفتاوی (3/570) میں ہے:
اور دوسری صورت یہ ہے کہ خود ذبح ہی مقصود ہو اور ذبح ہی کو بخصوصہ طریقہ شکر وقربت سمجھے سو قواعد سےیہ درست معلوم نہیں ہوتا اسی طرح خصوصیت کے ساتھ اکثر عوام بلکہ ممتاز لوگوں میں یہ رسم ہے کہ مریض کی طرف سے جانور ذبح کرتے ہیں یا وبا وغیرہ کے دفع کے لیے ایسا ہی کرتے ہیں سوچونکہ قرائن قویہ سے ان موقع پر بھی معلوم ہوتا ہے کہ خود ذبح ہی مقصود ہوتا ہے اور اسی کو موثر فی دفع البلا خصوصا مرض کی حالت میں اس ذبیحہ کو من حیث الذبح فدیہ سمجھتے ہیں سو اس کا حکم بھی قواعد سے عدم جواز معلوم ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved