- فتوی نمبر: 35-72
- تاریخ: 09 اپریل 2026
- عنوانات: مالی معاملات > متفرقات مالی معاملات
استفتاء
1۔ بینکوں کے لاکرز سسٹم کی شرعی حیثیت کیا ہے؟جائز ہے یا ناجائز ہے؟ اگر قباحت ہے تو کونسی صورتیں ناجائز ہیں اور کونسی صورتیں جائز ہیں؟نیز اس میں اسلامک بینک ہونے یا سودی بینک ہونے سے بھی فرق پڑے گا یا نہیں ؟
2۔ کسی حادثہ کی صورت میں مثلالاکرز کی چوری ،آگ لگ جانا،زلزلہ کی وجہ سے عمارت کا منہدم ہوجانا،ایسی صورت میں نقصان کا حامل کون ہوگا ؟بینک یا لاکرمیں اپنی چیز رکھوانے والا یا دونوں نقصان کے حامل ہوں گے؟
لاکرز کی شرائط وضوابط:
میزان بینک کے سیف ڈپازٹ لاکر کی شر ائط و ضوابط (Locker & Cs)
یہ شرائط و ضوابط ( جنہیں لاکر کی شرائط و ضوابط ” کہا گیا ہے ) وہ قواعد ہیں جن کے تحت Meezan Bank Limited (“بینک” یا “مؤجر “) لاکر کی سہولت اُن افراد (“مستاجر “) کو فراہم کرتا ہے جو لا کر کی درخواست فارم میں درج ہیں۔ لاکر کے آپر یشن بینک کی پالیسی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ہدایات اور ان شرائط کے مطابق ہوں گے۔ جب تک کہ واضح طور پر کچھ اور نہ کہا جائے ، اکاؤنٹ کے آپریشن کے شرائط لا کر پر بھی اسی طرح لاگو ہوں گے۔
1۔لاکر کی مدت ابتدائی طور پر ایک (1) سال کے لیے ہو گی اور اس کے بعد یہ خود بخود ہر سال تجدید ہو تا رہے گا جب تک کہ اسے ختم نہ کیا جائے۔
2۔مستاجر لا کر تک صرف بینک کے کاروباری اوقات کے دوران رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ بینک اپنی صوابدید پر مستاجر کی تحریری ہدایت پر نامز د افراد کو بھی رسائی دے سکتا ہے۔
3۔اگر لا کر دو یا زیادہ افراد ( زیادہ سے زیادہ 4) کے مشتر کہ نام پر حاصل کیا گیا ہو ، تو مستاجر واضح طور پر بتائیں گے کہ رسائی انفرادی طور پر ہوگی یا مشترکہ طور پر یا کسی مخصوص امتزاج کے ساتھ۔
4۔ اگر مشتر کہ اکاؤنٹ کھولا گیا ہو تو بینک کو اختیار ہو گا کہ تمام یا کسی ایک مستاجر کو رسائی دے۔ کسی بھی تنازع کی صورت میں، بینک لاکر کا استعمال صرف تمام مستاجرین کے مشترکہ طور پر کرنے تک محدود کر سکتا ہے۔
5۔مستاجر لا کر کو نہ تو کرائے پر دے سکتا ہے، نہ ہی اس میں مندرجہ ذیل ممنوعہ اشیاء رکھ سکتا ہے:
مائع یا خراب ہونے والی اشیاء،خطر ناک، دھما کہ خیز یا نقصان دہ چیزیں،غیر قانونی، ناجائز یا ٹیکس چوری سے حاصل کی گئی چیزیں،نقدر قم یا اس کے مساوی چیزیں ( یہ رکھنے سے پر ہیز کیا جائے )
اگر بینک کو شک ہو کہ لاکر میں ممنوعہ اشیاء رکھی گئی ہیں، تو وہ معائنہ کر سکتا ہے۔ تعاون نہ کرنے کی صورت میں، بینک لاکر توڑنے اور معاہدہ ختم کرنے کا حق رکھتا ہے۔ ایسے کسی نقصان کی صورت میں بینک کوئی تحفظ ( تکافل ) فراہم نہیں کرے گا۔
6۔مستاجر سالانہ مدت ختم ہونے سے ایک ہفتہ پہلے لا کر واپس کر کے معاہدہ ختم کر سکتا ہے۔ بینک بھی پیشگی اطلاع دے کر معاہدہ ختم کر سکتا ہے۔ اگر چابی وقت پر واپس نہ کی گئی تو لا کر اگلے سال کے لیے تجدید سمجھا جائے گا اور کرایہ چارج کیا جائے گا۔
7۔چابی جمع رقم اور لاکر کا کرایہ بینک کی موجودہ چار جز کی فہرست کے مطابق وصول کیا جائے گا۔
8،9۔ اگر ایک سے زائد مستاجر ہوں تو تمام کی مالی ذمہ داری مشتر کہ ہو گی۔ بینک کو اختیار ہو گا کہ وہ لاکر کے واجبات کسی بھی اکاؤنٹ سے بغیر اطلاع کے منہا کر سکے۔
10۔بینک کو لاکر کے مواد پر “لین” (حق) حاصل ہو گا، لاکر کا کرایہ یا دیگر اخراجات نہ دینے کی صورت میں بینک مواد کو فروخت کر کے رقم وصول کر سکتا ہے۔
11۔ ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں بینک ایک ماہ کا نوٹس دے گا، اس کے بعد لا کر توڑ کر مواد نکال سکتا ہے اور اسے محفوظ مقام پر رکھ سکتا ہے یا واپس کر سکتا ہے، اور سالانہ کرایہ چارج کیا جائے گا۔
12۔اگر مستاجر چابی کھو دے تو فوری اطلاع دینا ضروری ہے۔ چابی توڑنے اور نئی لگانے کا خرچ مستاجر کو برداشت کرنا ہو گا۔
13۔اگر بینک لا کر کو کسی اور مقام پر منتقل کرنا چاہے تو کم از کم ایک (1) ماہ کا نوٹس دیا جائے گا۔ ہنگامی حالات میں بغیر اطلاع کے بھی منتقلی کی جاسکتی ہے۔
14۔ مستاجر اپنا پتہ تبدیل کرے تو فوراً تحریری اطلاع دے۔ بینک کی طرف سے پچھلے درج شدہ پتے پر بھیجی گئی اطلاع مؤثر سمجھی جائے گی۔
15۔ غیر معمولی حالات میں بینک لا کر کی سہولت کو عارضی طور پر معطل کر سکتا ہے۔
16۔ مستاجر چابی اور پاس ورڈ محفوظ رکھے۔ لاکر کا دروازہ کھلا رہ جانے کی صورت میں بینک ذمہ دار نہیں ہو گا۔
17،18۔ کسی مستاجر کی وفات کی صورت میں لاکر کا استعمال بند کر دیا جائے گا۔ قانونی ورثاء کو لا کر دیکھنے یا کھولنے کی اجازت قانونی دستاویزات ( وراثتی سرٹیفکیٹ، پروبیٹ ، وغیرہ) کی بنیاد پر دی جائے گی۔
19۔بینک کو لا کر کے شرائط و ضوابط میں تبدیلی کا اختیار ہے۔ اگر تبدیلی قبول نہ ہو تو مستاجر معاہدہ ختم کر کے لا کر واپس کر سکتا ہے۔ تبدیلی کی اطلاع مناسب ذرائع سے دی جائے گی۔
20۔بینک کو ” بیلی ” ( ذمہ دار نگہبان ) تصور نہیں کیا جائے گا۔ لا کر مستاجر کے اپنے خطرے پر ہے۔
21۔اگر مستاجر اپنا اکاؤنٹ بند کر دے، تو بینک لا کر کا معاہدہ ختم کر سکتا ہے اور مستاجر کو لا کر خالی کرنا ہو گا۔
22۔ بینک نے تکافل (اسلامی انشورنس) کی سہولت فراہم کی ہے، جو لاکر کے سائز پر منحصر ہے۔ صرف اسی صورت میں کلیم قبول کیا جائے گا جب مستاجر ملکیت اور اشیاء کی قیمت کا ثبوت پیش کرے۔ نقد رقم، پرائز بانڈز، چیک، وغیرہ پر کوئی کلیم نہیں دیا جائے گا۔
23۔مستاجر چاہے تو اضافی تکافل انشورنس اپنی مرضی سے کسی کمپنی سے لے سکتا ہے، مگر بینک اس کے کلیم کی ذمہ داری نہیں لے گا۔
24۔بینک لا کر میں رکھی اشیاء کے جزوی یا مکمل نقصان، چوری، ڈاکہ، آگ یا کسی بھی قدرتی آفت کی صورت میں کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔
25۔میں / ہم تصدیق کرتے ہیں کہ ہم نے یہ شرائط و ضوابط پڑھ لیے ہیں، انہیں سمجھا ہے اور ان سے اتفاق کیاہے۔
26۔ یہ دستاویز انگریزی زبان میں تیار کی گئی ہے، اردو ترجمہ صرف سہولت کے لیے ہے۔ اگر اردو اور انگریزی میں کسی قسم کا فرق ہو ، تو انگریزی متن کو حتمی سمجھا جائے گا۔
تنقیح : لاکرز کے بارے میں بینک کے افراد سے جو معلومات لی گئی ہیں ان کے مطابق بینک لاکر کرایہ پر دیتا ہے اور صرف لاکر کا کرایہ لیتا ہے یعنی حفاظت کی ذمہ داری نہیں لیتا بلکہ اس کے بارے میں امین شمار ہوتا ہے یعنی اگر بینک کی اپنی کوتاہی سے نقصان ہو تو ضامن ہوتا ہے اور اس میں اصول یہ ہے کہ جتنی مالیت کا لاکر لیا گیا ہو بینک کی طرف سے صرف اتنی مقدار تک کی مالیت کی چیز اس میں رکھنے کی اجازت ہوتی ہے اور اتنی مالیت تک ہی بینک ضامن ہوتا ہے اور اس نقصان کو پورا کرنے کے لیے بینک نے انشورنس اور تکافل کروا رکھا ہوتا ہے جس کا لاکر لینے والے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا نہ ہی اس سے اس مد میں کوئی رقم لی جاتی ہے ،اور نقصان قدرتی آفت سے ہو تو بینک اس کا ذمہ دار نہیں ہوتا ۔
نوٹ : سائل نے تین بینکوں کی شرائط وضوابط بھیجے تھے لیکن چونکہ تمام بینک اسٹیٹ بینک کے تابع ہوتے ہیں اور اس کے اصولوں کے پابند ہوتے ہیں اس لیے شرائط وضوابط سب کی ایک جیسی ہی ہیں کوئی خاص فرق نہیں اس لیے سوال میں صرف ایک بینک (میزان بینک) کی شرائط وضوابط ذکر کردی گئی ہیں ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔ بینک سے لاکر لینا جائز ہے اور اس میں اسلامی بینک یا کنوینشنل بینک میں کوئی فرق نہیں ۔
توجیہ : بینک سے لاکر لینے کی حیثیت لاکر کو کرایہ پر لینے کی ہے اور اس میں اگرچہ کچھ شرائط ایسی ہیں جو شرط فاسد بنتی ہیں (مثلا کچھ چیزیں جیسے کیش نہ رکھنے کا اجازت دینا یا ایک حد کی مالیت سے زیادہ کی اشیاء کو نہ رکھنا وغیرہ ) لیکن چونکہ اب ان شرائط کا عام عرف ہے نیز بعض شرائط حکومت (اسٹیٹ بینک) کی طرف سے مصلحت کی بناء پر لاگو ہیں اس لیے ان کی گنجائش ہے اور ان کی وجہ سے عقد فاسد نہیں ہوگا۔
2۔ جن صورتوں میں بینک نقصان کی ذمہ داری از خود لیتا ہے ان صورتوں میں نقصان کا ذمہ دار بینک ہوگا اور جن صورتوں میں بینک از خود نقصان کی ذمہ داری نہیں لیتا ان میں یہ تفصیل ہے کہ اگر نقصان کسی قدرتی آفت سے ہو تو بینک اس کا ذمہ دار نہیں ہوگا بلکہ وہ صارف کا نقصان سمجھا جائے گا اور اگر نقصان بینک کی کمی کوتاہی سے ہو تو بینک ذمہ دار ہوگا۔
البحر الرائق (7/530) میں ہے:
(قوله يفسد الإجارة الشرط) أي الشروط المعهودة المتقدمة في باب البيع الفاسد التي ليست من مقتضى العقد لا كل شرط لأن الإجارة عقد معاوضة محصنة تقال وتفسخ فكانت كالبيع فكل ما أفسد البيع أفسدها
شامی (ص417) میں ہے:
«(و) لا (بيع بشرط)………….. (لا يقتضيه العقد ولا يلائمه وفيه نفع لاحدهما أو) فيه نفع (لمبيع) هو (من أهل الاستحقاق) للنفع بأن يكون آدميا، فلو لم يكن كشرط أن لا يركب الدابة المبيعة لم يكن مفسدا كما سيجئ (ولم يجر العرف به و) لم (يرد الشرع بجوازه) أما لو جرى العرف به كبيع نعل مع شرط تشريكه أو ورد الشرع به كخيار شرط فلا فساد»
شرح المجلہ (1/342) میں ہے:
الوديعة امانة في يد المودع فاذا هلكت بلا تعد منه وبدون صنعه وتقصيره في الحفظ لا يضمن ولكن اذا كان الايداع باجرة فهلكت او ضاعت بسبب يمكن التحرز عنه لزم المستودع ضمانها
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved