• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

فروخت کرنے کی نیت سے لگائے گئے پودوں پر عشر کا حکم

استفتاء

میری زمین کے ارد گرد پودے ہیں، یہ پودے تقریباً 10 فیصد میں نے اگائے ہیں باقی 90 فیصد خود بخود اگ آئے ہیں،  ہم ان پودوں کی جانوروں وغیرہ سے حفاظت بھی کرتے ہیں۔ تو ان پودوں میں زکوٰۃ ہے یا نہیں؟

اگر تحریری شکل میں فتویٰ بھیج دیں تو بڑی مہربانی ہو گی۔

وضاحت مطلوب ہے: آپ نے مذکورہ پودے کس غرض سے اگائے تھے اور آپ ان سے کیا فائدہ حاصل کرتے ہیں؟

جوابِ وضاحت: یہ پودے اسی غرض سے اگائے تھے کہ جب پودے  بڑے ہو جائیں گے تو بیچ دیں گے۔

مزید تنقیح: وہ خود رو پودے میری ملکیتی زمین میں ہیں اور ہم ان پودوں کو پانی بھی نہیں دیتے بلکہ یہ بارش سے ہی بڑے ہوتے ہیں ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں تمام پودوں پر عشر (دسواں حصہ) دینا واجب ہے۔

توجیہ: مذکورہ صورت میں اگرچہ اکثر پودے خود اگ آئے ہیں لیکن چونکہ تمام پودوں کی حفاظت بھی کی جا رہی ہے اور تمام سے بیچ کر کمائی کرنا ہی مقصود ہے اس لیے تمام پودوں پر عشر  واجب ہو گا۔

شامی (3/316) میں ہے:

فلو استنما أرضه ‌بقوائم ‌الخلاف وما أشبهه أو بالقصب أو الحشيش وكان يقطع ذلك ويبيعه كان فيه العشر.

خیر الفتاویٰ (3/493) میں ہے:

سوال: جانوروں کے چارہ کے لیے جو گھاس اگائی جاتی ہے جیسے برسین، جوار، مٹر وغیرہ اس پر عشر ہے یا نہیں؟ اور فقہ میں جس حشیش کو مستثنیٰ کیا گیا ہے وہ کون سی گھاس ہے؟

الجواب: جس گھاس سے آمدنی مقصود ہو جیسے جوار، برسین وغیرہ اس پر عشر واجب ہے خود رو گھاس پر عشر واجب نہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص خود رو گھاس کی دیکھ بھال شروع کر دے اور بیچ کر کمائی کرے تو اس پر بھی عشر واجب ہو گا۔

ہندیہ میں ہے: فلا عشر في الحطب والحشيش الخ ولو كان يقطعه ويبيعه يجب فيه العشر.

مسائل  بہشتی زیور (1/372)  میں ہے:

مندرجہ ذیل پیداوار پر عشر واجب ہے:

…. جو شخص خود رو گھاس کی دیکھ بھال شروع کر دے اور بیچ کر کمائی کرے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved