- فتوی نمبر: 34-378
- تاریخ: 14 اپریل 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > تعلیم و پڑھائی سے متعلق مسائل
استفتاء
محترم علمائے دین، آپ سے ایک مسئلہ کے بارے میں دریافت کرنا تھا۔ میں ایک اسکول ٹیچر ہوں اور او لیول اور اے لیول کے طلبہ کو پڑھاتا ہوں، جنہیں ہم عرف عام میں دسویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کہتے ہیں۔ میں اکنامکس (معیشت) کا مضمون پڑھاتا ہوں، جو دو بڑے حصوں پر مشتمل ہے۔
پہلا حصہ انفرادی معیشت سے متعلق ہے، جس میں ہم یہ پڑھتے ہیں کہ اشیاء کی قیمتیں کن عوامل پر منحصر ہوتی ہیں۔ اس میں اشیاء کی طلب و رسد (ڈیمانڈ اور سپلائی) کو سمجھایا جاتا ہے اور یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ حکومت مارکیٹ پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے، یعنی کن اشیاء پر حکومت ٹیکس لگاتی ہے، کون سی اشیاء مفت فراہم کرتی ہے اور کون سی اشیاء کو سستا کرتی ہے۔ ہم ان پالیسیوں کے فوائد اور نقصانات پر بھی بات کرتے ہیں۔
انفرادی معیشت کے تحت ہم یہ بھی پڑھتے ہیں کہ تنخواہیں کس طرح مقرر کی جاتی ہیں، کس کو زیادہ اور کس کو کم تنخواہ ملتی ہے، اور یہ سب طلب و رسد کے قانون (ڈیمانڈ اور سپلائی) کے تحت کیسے طے ہوتا ہے۔ مزید برآں، ہم کمپنیوں کے انتظامی معاملات پر بھی بات کرتے ہیں، جیسے کہ ان کے اخراجات، ان اخراجات کو کم کرنے کی تدابیر اور کمپنیوں کے مختلف اہداف کچھ زیادہ منافع کمانا چاہتی ہیں، جبکہ کچھ زیادہ فروخت پر توجہ دیتی ہیں۔
دوسرا حصہ قومی اور عالمی معیشت سے متعلق ہے، جسے انگریزی میں میکرو اکنامکس کہا جاتا ہے۔ اس میں ہم یہ پڑھتے ہیں کہ حکومت کے کچھ بڑے معاشی اہداف ہوتے ہیں، جن میں مہنگائی پر قابو پانا، بے روزگاری کو کم کرنا، مجموعی ملکی پیداوار (GDP) میں اضافہ، ملک میں ترقی لانا اور غربت کا خاتمہ شامل ہیں۔
ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے حکومت کے پاس چند مروجہ طریقے ہوتے ہیں۔ پہلا طریقہ مالیاتی پالیسی (Fiscal Policy) کہلاتا ہے، جس کے تحت حکومت ٹیکس اور اپنے اخراجات کا انتظام کرتی ہے۔ اگر حکومت طلب (ڈیمانڈ) کو بڑھانا چاہے تو وہ ٹیکس کم کرتی ہے اور ترقیاتی منصوبے زیادہ شروع کرتی ہے تاکہ عوام کے ہاتھ میں زیادہ پیسہ آئے اور وہ زیادہ خرچ کریں، جس سے مجموعی طور پر معیشت میں طلب میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ مالیاتی پالیسی کے استعمال کی ایک مثال ہے، لیکن حکومت کے پاس اس کے اور بھی کئی طریقے ہوتے ہیں۔
دوسرا طریقہ مانیٹری پالیسی (Monetary Policy) کہلاتا ہے، جس میں حکومت شرح سود کو اوپر نیچے کرتی ہے اور پیسے کی رسد (Supply of Money) کو بڑھاتی یا کم کرتی ہے تاکہ اپنے معاشی اہداف حاصل کر سکے۔
یہ تمام موضوعات ہم بچوں کو پڑھاتے ہیں کیونکہ یہی آج کی مروجہ معیشت ہے اور او لیول و اے لیول کے نصاب میں بھی یہی شامل ہے۔
امتحانی طریقہ کار اور طلبہ کی تیاری:
نیز ہمارا کام صرف پڑھانے تک محدود نہیں، بلکہ ہم طلبہ کو امتحانات کی تیاری بھی کراتے ہیں۔ امتحان میں کئی طرح کے سوالات آتے ہیں۔
مثال کے طور پر، ایک بنیادی سوال یہ ہو سکتا ہے: “حکومت قیمتیں کیسے کم کر سکتی ہے؟
اس سوال کے جواب میں طلبہ کو یہ لکھنا ہوتا ہے کہ حکومت شرح سود میں اضافہ کر دے، تاکہ لوگوں کے پاس پیسہ کم رہے۔ جب شرح سود زیادہ ہوگی، تو لوگ زیادہ پیسہ بینکوں میں جمع کرائیں گے، جس سے مجموعی طور پر معیشت میں طلب کم ہوگی اور قیمتیں نیچے آ جائیں گی۔
ٹیکس میں اضافہ کر دے، کیونکہ اس سے بھی عوام کے پاس خرچ کرنے کے لیے کم پیسہ بچے گا، جس کے نتیجے میں معیشت میں طلب کم ہوگی اور قیمتیں کم ہو جائیں گی۔
معیشت میں رسد (سپلائی) بڑھا دے، کیونکہ جب اشیاء کی دستیابی زیادہ ہو جائے گی تو قیمتیں خود بخود کم ہو جائیں گی۔
یہ ایک چھ نمبر کے سوال کا جواب ہے، جو او لیول کے امتحانات میں گیارہویں جماعت کے طلبہ کو لکھنا ہوتا ہے۔ اس سوال میں جانچ یہ ہوتی ہے کہ کیا طالب علم سکھائے گئے مواد کو صحیح طریقے سے استعمال کر سکتا ہے یا نہیں۔
مشکل اور طویل سوالات میں مزید تفصیل درکار ہوتی ہے۔
اگر سوال زیادہ نمبروں (8 یا 12) پر مشتمل ہو، تو طلبہ کو صرف پالیسیوں کے فوائد ہی نہیں بلکہ ان کے نقصانات بھی لکھنے ہوتے ہیں۔ مثلاً:
شرح سود بڑھانے کے نقصانات: اس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں اور کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ شرح سود میں اضافے کے باوجود طلب کم نہیں ہوتی، کیونکہ لوگ مستقبل کے بارے میں پرامید ہوتے ہیں اور بلند شرح سود کے باوجود کاروبار جاری رکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں قیمتیں کم نہیں ہوتیں۔
ٹیکس بڑھانے کے نقصانات: اگر ٹیکس زیادہ ہو جائے تو عوام پر مالی بوجھ بڑھ سکتا ہے، جس سے کاروبار سست ہو سکتے ہیں۔
شرح سود کم کرنے کے فوائد اور نقصانات: اگر شرح سود کم کر دی جائے تو سرمایہ کاری میں اضافہ ہو سکتا ہے، لیکن اس سے مہنگائی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
نتیجہ اخذ کرنا (Evaluation)
اس طرح کے بڑے سوالات میں آخر میں طالب علم کو اپنا تجزیہ پیش کرنا ہوتا ہے، جسے انگریزی میں Evaluation کہا جاتا ہے۔ موجودہ تعلیمی نظام میں فیصلہ سازی کی صلاحیت کو خاص اہمیت دی جاتی ہے، اس لیے طلبہ کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی پالیسی کے بارے میں دلائل دیں، اس کے خلاف دلائل کا جواب دیں اور آخر میں یہ طے کریں کہ آیا یہ پالیسی مؤثر ہوگی یا نہیں۔ ظاہر ہے کہ بچے یہ کام اسی وقت کر سکیں گے جب معیشت کے مضمون پر ان کی گرفت مضبوط ہوگی اور حالات و واقعات سے نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت ان میں کما حقہ ہوگی ۔ یہاں یہ ضروری نہیں کہ ان کا فیصلہ کسی خاص رائے کے مطابق ہو، بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ منطقی انداز میں اپنا مؤقف پیش کر سکتے ہیں یا نہیں۔
میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا میرے لیے اس مضمون کو پڑھانا جائز ہے یا نہیں، کیونکہ یہ میرا ذریعہ معاش ہے۔ میں جب بھی سود کے متعلق پڑھاتا ہوں تو طلبہ کو اس کی حرمت واضح کر دیتا ہوں اور اگر موقع ملے تو قرآن و حدیث کی روشنی میں جہاں ممکن ہو سود کے بارے میں وعیدیں بھی سناتا ہوں۔ میں طلبہ کو سودی نظام کی تباہ کاریوں سے بھی آگاہ کرتا ہوں کہ کس طرح اس نظام سے غریب لوگ مزید دب جاتے ہیں اور کس طرح سود کے ذریعے دنیا میں لوٹ مار ہوتی ہے۔
جن اداروں میں میرا پڑھانا ہوتا ہے، وہاں اکثر اساتذہ کا جھکاؤ لبرل نظریات کی طرف ہوتا ہے، لہٰذا ضروری نہیں کہ میرے علاوہ کوئی اور استاد بچوں کو سود کے بارے میں اسلامی احکامات سے آگاہ کرے۔ اس کے علاوہ، میرے طلبہ اکثر ایسے گھروں سے آتے ہیں جہاں دینی شعور زیادہ نہیں ہوتا۔
اس حوالے سے آپ میری رہنمائی فرمائیں کہ کیا او لیول اور اے لیول کے طلبہ کو معیشت (اکنامکس) کا مضمون پڑھانا اور انہیں ایسے امتحانات کی تیاری کرانا جائز ہے، جن میں بعض سوالات کا تذکرہ میں نے اوپر کیا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
آپ کی ذکر کردہ تفصیل سے واضح ہوتا ہے کہ آپ کا کام صرف سود کی تعلیم یا صرف سود کے فوائد و نقصانات بتلانا نہیں ہے بلکہ طلبہ کو جدید معیشت و تجارت کے مکمل فن کی تعلیم دینا ہے۔ اگرچہ اس فن میں جائز امور کے ساتھ ساتھ سود کی تعلیم اور اس کی شرح کی کمی و بیشی کے فلسفہ کی تعلیم اور اس کے فوائد کا تذکرہ بھی شامل ہے۔ لہذا آپ کو چاہیے کہ طلبہ کے ذہنوں میں سود کے نقصانات اور اس کی شناعت اس طرح اجاگر کریں کہ وہ بجائے فائدہ کی چیز کے اسے نقصان کی چیز سمجھیں لیکن اگر آپ اس طرح سے اس کی شناعت اجاگر نہیں کرتے جس کی وجہ سے طلباء اس کو اپنے فائدہ کی چیز سمجھنے لگ جائیں گے تو آپ کا جدید معیشت وتجارت کے فن میں سے سود پر مشتمل حصے کی تعلیم دینا درست نہیں ہے۔ باقی موجودہ دور کی معیشت و تجارت کو سکھانا منع نہیں ہے۔
امداد الفتاویٰ (7/34) میں ہے:
سوال : احقر سرکاری مدرسہ میں درجہ سوم و چہارم کی تعلیم دیتا ہے، اور درجہ چہارم کو ہرسال میں چارماہ سود کے نکالنے کا قاعدہ بتلانا پڑتا ہے، اور سوالات مشقیہ حل کرانے پڑتے ہیں ، علاوہ اس کے باقی عرصہ میں اور اس عرصہ میں اور حساب بھی سِکھلاتا ہوں ،اور مدرسہ میں ہندو اور مسلمان سب قسم کے طلبہ ہیں ، لہٰذا اس درجہ کو تعلیم دینا میرے واسطے جائز ہے یا نہیں درجہ سوم میں اور حساب کی تعلیم ہے سود کی نہیں ہے فقط؟
الجواب: آپ قبل تعلیم یہ کہہ دیا کریں کہ میں جو لفظ سود کہوں گا مراد میری وہ نفع جائز ہوگا جو کہ بلا شرط خود نیت کرلے کہ میں جب اس کا قرض ادا کروں گا تو میں اپنے دل سے اور خوشی سے بدون اس کے استحقاق ومطالبہ کے اتنے حساب سے تبرعاً زیادہ دے دوں گا پس اتنا کہہ کر پھر وہ حساب سکھلادیں ، تعلیم کا گناہ تو اسی وقت جاتا رہا، اب اس سے اگر ناجائز طور پر کوئی کام لے گا تو اس پر وبال ہوگا ۔ فقط
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved