- فتوی نمبر: 34-379
- تاریخ: 14 اپریل 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تحقیقات حدیث
استفتاء
سورہ اخلاص کے فضائل وبرکات
روزانہ دو سو مرتبہ باوضو پڑھنے سے نو فائدے حاصل ہوتے ہیں
(1)اللہ رب العزت 300 دروازے غضب کے بند کردے گا مثلا دشمنی، قہر، فتنہ وغیرہ (2) 300 دروازے رحمت کے کھول دے گا (3) 300 دروازے رزق کے کھولے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے غیب سے رزق دے گا (4) بغیر محنت کے اللہ پاک اپنے علم سے علم دے گا اپنے صبر سے صبر اور اپنی سمجھ سے سمجھ دے گا (5) 66 مرتبہ قرآن شریف ختم کرنے کا ثواب دے گا (6) 50 سال کے گناہ معاف ہوں گے۔ (7) اللہ پاک جنت میں 20 بنگلے دے گا جو یاقوت، زمرد، مرجا ن کے بنے ہوں گے۔ ہر بنگلے میں ستر ہزار دروازے ہوں گے۔ (8) دو ہزار رکعات نفل پڑھنے کا ثواب ملے گا (9) جب بھی مریں گے تو جنازے میں ایک لاکھ دس ہزار فرشتے شمولیت کریں گے۔
کیا سورۂ اخلاص کے مذکورہ فضائل ثابت ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ فضائل میں سے 1 نمبر تا 4 نمبر اور 8 نمبر ہمیں نہیں ملے ۔ باقی سب ثابت ہیں۔
فضلیت نمبر 5 کا ثبوت:
وأخرج أيضا عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من قرأ {قل هو الله أحد} فكأنما قرأ ثلث القرآن ومن قرأ {قل هو الله أحد} مرتين فكأنما قرأ ثلثي القرآن ومن قرأ {قل هو الله أحد} ثلاث مرات فكأنما قرأ جميع ما أنزل الله [الدر المنثور 8/676]
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جس نے سورۂ اخلاص پڑھی، گویا اس نے ایک تہائی قرآن پڑھا۔اور جس نے سورۂ اخلاص دو مرتبہ پڑھی ، گویا اس نے دو تہائی قرآن پڑھا۔اور جس نے سورۂ اخلاص تین مرتبہ پڑھی، گویا اس نے وہ تمام (قرآن) پڑھ لیا جو اللہ نے نازل فرمایا ہے۔
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ تین مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھنے سے ایک قرآن کا ثواب ملے گا لہٰذا اگر کوئی 200 مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھے تو اس کا ثواب 66 مرتبہ قرآن پڑھنے کے برابر بنتا ہے۔
فضیلت نمبر 6 کا ثبوت:
وأخرج ابن الضريس والبزار وسمويه في قوائده والبيهقي في شعب الإيمان عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من قرأ {قل هو الله احد} مائتي مرة غفر له ذنوب مائتي سنة [الد المنثور،8/671]
ترجمہ: حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے سورۂ اخلاص دو سو مرتبہ پڑھی اس کے دو سو سال کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔
وأخرج الترمذي وأبو يعلى ومحمد بن نصر وابن عدي والبيهقي في الشعب واللفظ له عن أنس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من قرأ كل يوم مائتي مرة {قل هو الله أحد} كتب الله له ألفا وخمسمائة حسنة ومحا عنه ذنوب خمسين سنة إلا أن يكون عليه دين [الدر المنثور،8/672]
ترجمہ: حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص ہر روز دو سو مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ڈیڑھ ہزار نیکیاں لکھ دیتا ہے اور اس کے پچاس سال کے گناہ مٹا دیتا ہےسوائے اس کے کہ اس پر کوئی قرض ہو۔
وأخرج ابن عدي والبيهقي في الشعب عن أنس رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من قرأ {قل هو الله احد} مائتي مرة غفر له خطيئة خمسين سنة إذا اجتنبت أربع خصال: الدماء والأموال والفروج والأشربة [الدر المنثور ، 8/673]
ترجمہ: حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے سورہ ٔ اخلاص دو سو مرتبہ پڑھی، اس کے پچاس سال کے گناہ بخش دیے جائیں گے، بشرطیکہ وہ چار چیزوں سے پرہیز کرے(1) خون بہانے (ناحق قتل) سے،(2) مال (ناجائز طور پر لینے) سے،(3) شرمگاہوں (زنا وغیرہ) سے،(4) نشہ آور مشروبات سے۔
فضیلت نمبر 7 کا ثبوت:
عن إسحق بن عبد الله بن أبي فروة قال: بلغنا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من قرأ {قل هو الله أحد} فكأنما قرأ ثلث القرآن ومن قرأها عشر مرات بنى الله له قصرا في الجنة فقال أبو بكر إذن نستكثر يا رسول الله فقال: الله أكثر وأطيب رددها مرتين [الدر المنثور8/676]
ترجمہ: حضرت اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہؒ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے سورۂ اخلاص پڑھی گویا اس نے قرآن کا ایک تہائی حصہ پڑھ لیا۔اور جس نے اسے دس مرتبہ پڑھا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک محل بنائے گا۔اس پر حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا تو پھر ہم زیادہ پڑھیں گے، اے اللہ کے رسول!آپ ﷺ نے فرمایا:اللہ (کے خزانے) زیادہ بھی ہیں اور بہتر بھی۔یہ بات آپ ﷺ نے دو مرتبہ دہرائی۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دس مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھنے سے جنت میں ایک محل ملے گا لہٰذا اگر کوئی 200 مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھے گا تو اسے 20 محل ملیں گے۔
نوٹ: مذکورہ حدیث میں صرف محل کا ذکر ہے اس محل کے یاقوت، زمرد، مرجان کے بنے ہونے کا اور اسی کے ستر ہزار دروازے ہونے کا ذکر نہیں۔
فضیلت نمبر 9 کا ثبوت:
وأخرج الطبراني عن أبي أمامة قال: أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم جبريل وهو بتبوك فقال: يا محمد اشهد جنازة معاوية بن معاوية المزني فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم ونزل جبريل في سبعين ألفا من الملائكة فوضع جناحه الأيمن على الجبال فتواضعت ووضع جناحه الأيسر على الأرضين فتواضعت حتى نظر إلى مكة والمدينة فصلى عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم وجبريل والملائكة فلما فرغ قال يا جبريل: ما بلغ معاوية بن معاوية المزني هذه المنزلة قال: بقرائته {قل هو الله أحد} قائما وقاعدا وراكبا وماشيا [الدر المنثور8/674]
ترجمہ: طبرانی نے حضرت ابو امامہؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام تبوک میں تشریف لائے اور کہا اے محمد! معاویہ بن معاویہ المزنی کے جنازے میں حاضر ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نکلے، اور جبرائیل علیہ السلام ستر ہزار فرشتوں کے ساتھ نازل ہوئے۔ انہوں نے اپنا دایاں پر پہاڑوں پر رکھا تو وہ جھک گئے، اور بایاں پر زمینوں پر رکھا تو وہ بھی جھک گئیں، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے مکّہ اور مدینہ کو دیکھ لیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ، جبرائیلؑ اور فرشتوں نے ان (معاویہ بن معاویہ) کی نمازِ جنازہ ادا کی۔جب فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے پوچھا:اے جبرائیل! معاویہ بن معاویہ المزنی کو یہ بلند مقام کیسے ملا؟ حضرت جبرائیلؑ نے کہا:وہ سورۂ اخلاص کھڑے ہوکر، بیٹھ کر، سواری پر، اور چلتے ہوئے (ہر حالت میں) پڑھا کرتے تھے۔
نوٹ: اس حدیث میں چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے سورۂ اخلاص پڑھنے کا تذکرہ تو ہے تاہم 200 مرتبہ پڑھنے کا تذکر ہ نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved