• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

امام مسجد کی تنخواہ کے بارے میں متفرق مسائل

استفتاء

میں ایک دیہات کی مسجد کی کمیٹی کا ممبر ہوں اور ہماری بستی میں تقریبا 70 یا 80 کے قریب گھر ہیں اور ہر گھر پر مسجد میں امام صاحب کے لیے تنخواہ کی مد میں 300 روپے مقرر کیے ہوئے ہیں  اور مسجد میں صبح و شام تقریباً 100 کے قریب بچے بچیاں ناظرہ پڑھتے ہیں ۔ تنخواہ کے علاوہ مسجد کی آمدن مثلا چندے کی ، غلہ کی ، شادی میں مسجد نام کے یا اس طرح کوئی اور شکل    میں ہوتی ہے وہ جمع شدہ پیسے  الگ سے مسجد کا بجٹ ہے۔  مسجد کی دیگر ضروریات جیسے بل ، ٹوٹیاں، صفیں ، تعمیراتی کام  کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔اب مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ جب امام صاحب کی تنخواہ اکٹھی کی جاتی ہے تو  80 گھروں میں سے تقریبا تین حصوں میں سے ایک حصہ تنخواہ دیتا ہے  باقی لوگ یا تو بالکل دیتے ہی نہیں یا اگلے مہینے یا کچھ ماہ بعد دے دیتے ہیں ۔ امام صاحب کی تنخواہ ہم نے 22 ہزار رکھی ہوئی ہے اس تنخواہ کے علاوہ گاؤں والوں نے کچھ نہیں دیا ہوا ، نہ رہائش نہ بجلی کا بل نہ گندم و چاول وغیرہ ۔

اب صورتحال یہ ہے کہ ہمارے پاس تقریباً 10 یا 12 ہزار جمع  ہو رہے ہیں تو آیا جو جمع ہو رہے ہیں وہی امام صاحب کو دینے چاہیے یا مسجد کے بجٹ  میں  مسجد کے پیسے جمع ہوئے تھے ان میں سے کچھ ملا کر امام صاحب کی  تنخواہ مکمل کر دیں کیونکہ اگر جو جمع ہوئے ہیں وہی دیں تو 10 یا 15 ہزار کم و بیش  میں کوئی بال بچوں والا امام نہیں رہتا۔اور مزید وضاحت کر دوں کہ ہماری جو مسجد کی  کمیٹی بنی ہے 7 بندے اس میں شامل ہیں لیکن مجھ سمیت کسی ایک کو مزید چھوڑ کر باقی کے پاس امام کی تنخواہ اکھٹا کرنے کا ٹائم ہی نہیں ۔ اب اس مسئلے کی وضاحت درکار ہے،سوال یہ ہے کہ:

1۔ کیا مسجد کے پیسوں میں سے جب امام کے لیے الگ سے بستی والوں پر پیسے مقرر ہیں اگر بستی والے سارے وہ پیسے نہیں دیتے تو کیا مسجد کے چندے میں سے جو بستی والے ہی دیتے ہیں تو اس میں سے  امام صاحب کو تنخواہ دی جا سکتی ہے یا نہیں؟

2۔ اگر مسجد کے پیسے سے امام کو تنخواہ مکمل کر کے دی جائے تو تنخواہ کے جمع شدہ پیسے اگلی تنخواہ میں شامل کر سکتے ہیں یا مسجد بجٹ میں شامل کریں ؟

3۔اب جن بندوں نے امام کی تنخواہ کے پیسےبالکل دیے ہی نہیں اور امام کو تنخواہ مکمل مسجد کے کچھ پیسے ملا کر دے دی گئی ہے تو کیا بقایا جات جو مسجد سے ادا ہوئے انکو مسجد کمیٹی معاف کر سکتی ہے  یا نہیں ؟

4۔ جب امام صاحب  نمازیں اور گاؤں والوں کے بچے مسجد میں ہی پڑھا رہا ہے تو کیا مکمل تنخواہ  مسجد کے پیسے سے دی جا سکتی ہے  یا نہیں ؟

5۔اگر مسجد کے پیسوں سے تنخواہ ادا کر دی جائے جیسا کہ آج تک ہوتا آیا ہے نظام بس گزارہ صحیح چل رہا ہے تو گاؤں کے کچھ لوگ کہتے ہیں امام صاحب کو مسجد کے پیسے کیوں دیتے ہوں یا امام صاحب آپ مسجد کے پیسے کھا رہے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔

وضاحت مطلوب ہے: سوال میں مذکور عبارت” بقایا جات جو مسجد سے ادا ہوئے انکو مسجد کمیٹی معاف کر سکتی ہے  یا نہیں ؟” کا کیا مطلب ہے؟

جواب وضاحت:اس سے مراد یہ ہے کہ کمیٹی والے ان  محلے والوں کو پیسے معاف   کرسکتے ہیں جنہوں نے ابھی تک نہیں دیئے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ چندے کی رقم سے بھی امام کو تنخواہ دی جا سکتی ہے کیونکہ امام کو حقیقت میں مسجد کے لیے رکھا ہے لہذا مسجد کے چندے سے امام کو تنخواہ دینا درست ہے۔

2۔ تنخواہ کے جمع شدہ پیسے اگلی تنخواہ کے لیے بھی رکھے جاسکتے ہیں اور مسجد کی ضروت کی جگہ بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

3۔ ان کے ذمے قرض نہیں ہے کہ جو معاف کیا جائے ایک اجتماعی کام میں تعاون ہے جس  کی ترغیب دیتے رہیں  اگر کہیں اور سے پورا ہو جائے تو پھر زور نہ دیں۔

4۔ دی جا سکتی ہے۔

5۔امام صاحب در اصل مسجد کے ملازم ہیں اس لیے مسجد کے  چندے سے تنخواہ لینا مسجد کے پیسے کھانا نہیں بلکہ مسجد  کی خدمت اور امامت کا وظیفہ ہے لہذا یہ لینا جائز ہے۔

درمختار (4/366) میں ہے:

(‌ويبدأ ‌من ‌غلته بعمارته) ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح

البحر الرائق (5/228) میں ہے:

‌لو ‌وقف ‌على ‌مصالح المسجد يجوز دفع غلته إلى الإمام والمؤذن والقيم

البحر الرائق (5/234) میں ہے:

أما إذا اختلف الواقف ‌أو ‌اتحد ‌الواقف واختلفت الجهة بأن بنى مدرسة ومسجدا وعين لكل وقفا وفضل من غلة أحدهما لا يبدل شرط الواقف

فتاوی رشیدیہ (2/393)  میں ہے:

سوال : مسجد کا روپیہ سے باقی رہ گیا ہے اگر اس روپیہ کو با اجازت  چندہ دہندگان اس مسجد میں واسطے جھگڑے جماعت اور پابندی جماعت کے اس روپیہ جمع شدہ چندہ سے  جو بنام مرمت مسجد کے سابقہ میں جمع کیا تھا اور اس مرمت  سے روپیہ باقی رہ گیا  اگر اس روپیہ کی گھڑی یا گھنٹا خرید کیا جائے تو حضور کیا حکم دیتے ہیں؟

 جواب : جو روپیہ مرمت مسجد کے لیے آیا ہے اس میں امام یا مؤذن مقرر کر لینا درست ہے اور گھنٹہ خریدنا بھی درست ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved