• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ملازمت کے وقت میں ذاتی کام کرنا

استفتاء

1۔میں اسکول ٹیچر ہوں، گورنمنٹ اسکول میں پڑھاتا ہوں اساتذہ کی تنخواہ اور کمائی کے بارے میں شرعی مسئلہ پوچھنا ہے جو اساتذہ کرام اسکول وقت پر نہیں آتے یا وقت سے پہلے اسکول سے چلے جاتے ہیں ۔

2۔اسکول آتے بھی ہیں وقت پر آتے ہیں اور اسکول سے وقت پر گھر جاتے ہیں مگر سٹوڈنٹس کی  پڑھائی پر مکمل توجہ نہیں دیتے جتنی تنخواہ گورنمنٹ انہیں  دیتی ہے اس کے مطابق وہ پڑھائی کا معیار نہیں دیتے اور محنت نہیں کرتے جبکہ اسکول میں بیٹھ کر اپنے دیگر کاموں میں مشغول رہتے ہیں جیسا کہ آن لائن  کام  میں مصروف رہنا اس بارے میں شرعی مسئلہ کیا ہے ؟ کیا ایسے لوگوں کی تنخواہ حلال ہے یا نہیں ؟

3۔ کیا وہ لوگ ان طلباء (جن کے لیے گورنمنٹ اساتذہ کو تنخواہ دیتی ہے ان ) کے مجرم ہیں اور آخرت میں اللہ کے ہاں بھی ان کا  کوئی مواخذہ ہوگا یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔جتنا لیٹ آنے اور وقت سے پہلے جانے کی اسکول کے قانون کی طرف سے اجازت نہ ہو اتنے وقت کی تنخواہ لینا جائز نہیں ہے۔ اگر ممکن ہو تو اتنی رقم کو محکمہ تعلیم میں واپس جمع کرائے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو کسی دوسرے سرکاری محکمے میں وہ رقم جمع کریں اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو کسی رفاہ عام کے کام میں لگا دیں۔

2۔ اساتذہ اور حکومت کا تعلق اجارے کا ہے اور اور اساتذہ اجیر خاص ہیں۔ اجیر خاص عمل کے وقت میں دستیاب رہنے کی وجہ سے اجرت کا مستحق ہوتا ہے چاہے اس کو عمل کی نوبت نہ آئے۔ مذکورہ صورت میں اساتذہ اگر عمل کے وقت سکول میں موجود رہتے ہیں اور وقت آنے پر سبق پڑھاتے ہیں تو اس صورت میں وہ اجرت کے حقدار ہیں اور ان کی تنخواہ حلال ہے اور اگر وہ سکول میں موجود رہنے کے باوجود سبق کے وقت پر سبق نہیں پڑھاتے تو اس صورت میں وہ اتنے وقت کی تنخواہ کے حقدار بھی نہیں ہیں الا یہ کہ معمولی تاخیر ہو جائے جو کہ عرف میں معاف سمجھی جاتی ہے اور جس وقت ان کے اسباق نہیں ہوتے اس وقت میں اپنا ذاتی کام کرنے کی تفصیل یہ ہے کہ حکومت چونکہ اساتذہ کو وقت کی تنخواہ دیتی ہے اس لیے ان کو اس وقت میں بھی ذاتی کام کرنے کی اجازت نہیں ہے لیکن اگر وہ کام معمولی ہو کہ جس کو عرف میں معاف سمجھا جاتا ہو تو اس کی اجازت ہوگی۔

الجوہرة النيرة على مختصر القدوری  (1/ 265) میں ہے:

(قوله: ‌والأجير ‌الخاص هو الذي يستحق الأجرة بتسليم نفسه في المدة، وإن لم يعمل كمن استأجر رجلا شهرا للخدمة، أو لرعي الغنم) وإنما سمي خاصا؛ لأنه يختص بعمله دون غيره؛ لأنه لا يصح أن يعمل لغيره في المدة

شامی (6/ 70) میں ہے:

‌وليس ‌للخاص ‌أن ‌يعمل ‌لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل

«قوله ولو عمل نقص من أجرته إلخ) قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة»

فتاوی محمودیہ(572/16) میں ہے:

سوال: تنخواہ دار مدرس اجیر خاص ہوتا ہے یہ اجیر مشترک؟

جواب: جب مدرس کے لیے اوقات متعین کر دیے گئے تو ان اوقات میں وہ اجیر خاص ہے ان اوقات میں اس کو دوسرا کام اجارہ پر کرنا جائز نہیں۔

3۔ سرکاری سکول ٹیچر کا معاہدہ حکومت کے ساتھ ہے نہ کہ طلباء کے ساتھ اس لیے وہ بلا واسطہ حکومت کے مجرم ہیں لیکن چونکہ حکومت نے انہیں عوام کی فلاح کی خاطر عوام کی ضرورت پوری کرنے کے لیے  بٹھایا ہے اس  لیے بالواسطہ وہ عوام  وطلباء کے بھی مجرم ہیں  اور بدعہدی کے مرتکب ہیں۔بد عہدی کرنا آخرت میں وبال اور مواخذہ کا سبب ہے ۔

سورہ بنی اسرائیل( آیت نمبر 34) میں ہے:

واوفوا بالعهد إن العهد كان مسؤولا

ترجمہ: اور پورا کرو عہد کو، بے شک عہد کی پوچھ ہوگی۔

تشریح: اس میں سب عہد داخل ہیں خواہ  اللہ سے کیے جائیں یا بندوں سے بشرطیکہ غیر مشروع نہ ہوں۔ حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ کسی کو قول و قرار صلح کا دے کر بد عہدی کرنا اس کا وبال ضرور پڑتا ہے۔ (تفسیر عثمانی 389/2)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved