- فتوی نمبر: 35-101
- تاریخ: 18 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
میرے شوہر زید 23 ستمبر 2025 کو وفات پا گئے۔ ان کے انتقال کے بعد وراثت کی تقسیم کے سلسلے میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔ تمام ورثاء درج ذیل ہیں:
1۔ بیوہ( عائشہ) 2۔ بیٹی(زینب )3۔ چار بہنیں( کلثوم زوجہ بکر ، حفصہ زوجہ خالد ، مریم زوجہ عمر ، خدیجہ[غیر شادی شدہ])
ترکہ کی تفصیل:
1۔ پانچ مرلے کا مکان جو مرحوم زید کے نام پر رجسٹرڈ ہے ۔
2۔ ایک پانچ مرلے کے پلاٹ کی فائل جس کی کچھ اقساط ادا کی گئی ہیں اور نومنی بیوی عائشہ درج ہے۔
3۔ کمپنی کی جانب سے بیوہ کے نام 886,883 روپے (گریجویٹی) کا چیک جاری ہوا ہے۔
4۔ بینک اکاؤنٹ میں رقم 297,000 روپے ہے۔
5۔ 96,650 روپے کے برتن غیر شادی شدہ بہن کے جہیز کے لیے خریدے گئے جو ابھی اس گھر میں موجود ہیں۔
6۔ مرحوم کے گھر میں شادی سے پہلے جو کچھ سامان تھا اس کی تفصیل درج ذیل ہے: فریج، واشنگ مشین ، ڈرائر ، ایئر کولر ، پلنگ ، صوفہ سیٹ ، سیلنگ فین ، سلائی مشین ، ڈرل مشین ، تخت ، میز ، چوکیاں ، کچن کے استعمال کے برتن و دیگر سامان۔
7۔ شادی کے بعد بیوہ کے جہیز کے علاوہ مرحوم زید اور اس کی بیوی نے اپنے گھر اور اپنے استعمال کے لیے جو چیزیں خریدی ان کی تفصیل درج ذیل ہیں: بائیک، اے سی ، گیزر ، سولر سسٹم ، پنکھا ، گیس ہیٹر ، کچن کے استعمال کا سامان، گھریلو استعمال کا سامان ، ایک عدد فون اور لیپ ٹاپ۔
براہ کرم فقہ حنفی کی روشنی میں یہ ارشاد فرمایا جائے کہ:
1۔ مذکورہ تمام املاک و رقوم کی تقسیم شرعاً کس تناسب سے ہوگی؟
2۔ ہر وارث کا حصہ قرآن و سنت کی روشنی میں کس قدر ہوگا؟
3۔ کمپنی کے چیک اور بینک اکاؤنٹ کی رقم کا شرعاً کیا حکم ہے؟
4۔ مرحوم کے اپنی زندگی میں جو کچھ بیوی کو گفٹ کیا مثلا شادی کے دن منہ دکھائی میں سونا اس کے حوالے سے شرعاً کیا حکم ہے؟
5۔ مرحوم کے والد کی پینشن جو کہ مرحوم کی غیر شادی شدہ بہن کے نام پر تھی لیکن بہن کی کفالت مرحوم خود کرتا تھا۔ اس حوالے سے کوئی ثبوت نہیں کہ مرحوم وہ پینشن کے پیسے استعمال کرتا تھا یا اپنی طرف سے سب کرتا تھا۔ اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا بھائی کی وراثت میں وہ بھی شامل کیا جائے؟
6۔ عدت کے دوران بیوہ اور بیٹی کا خرچہ شرعاً کس کے ذمے ہے؟
وضاحت مطلوب ہے:1۔ مرحوم زید کا والد، یا دادا یا چچا یا چچا کے بیٹوں میں سے کوئی زندہ ہے؟ 2۔ جس چیک کا آپ نے ذکر کیا ہے وہ کس کمپنی کی طرف سے جاری ہوا ہے اور بیوہ کے نام کیوں جاری ہوا ہے؟ 3۔ بینک اکاؤنٹ کس کے نام ہے؟ 4۔بیوہ کے والد یا بھائیوں میں سے کوئی زندہ ہے؟
جواب وضاحت: 1۔ چچا کا ایک بیٹا زندہ ہے اسکے علاوہ کوئی نہیں۔2۔ میرے مرحوم شوہر *** کمپنی میں کام کرتے تھے۔ کمپنی کی پالیسی کے مطابق کمپنی کا چیک بیوہ کے نام بنا۔3۔ بینک اکاونٹ مرحوم زید کے نام تھا۔ 4۔بیوہ کے والد کا انتقال ہو چکا ہے۔ اور بیوہ کے تین بھائی ہیں۔
وضاحت مطلوب ہے: سوال میں نمبر 5 کو مزید واضح کریں۔ سوال پوچھنے کا مقصدکیا ہے؟
جواب وضاحت: مرحوم کے والد کی پنشن کے حوالے سے پوچھا ہے ۔ابھی مرحوم کی غیر شادی شدہ بہن کے نام آتی ہے۔ اس میں پوتی کا حق ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1،2۔ مذکورہ صورت میں مرحوم زید کے کل مال کے 32 حصے کیے جائیں گے جس میں سے 16 حصے(٪50) بیٹی کو ، 4 حصے (٪12.5) بیوہ کو اور 3،3 حصے(9.37 فیصد،9.37 فیصد) چاروں بہنوں میں سے ہر بہن کو ملیں گے۔ نیز میت کی وراثت میں جتنی بھی چیزیں ہیں یعنی مکان ، جہیز کے لیے خریدے گئے برتن، مرحوم کا شادی سے پہلے کا ملکیتی سامان اور شادی کے بعد کا ملکیتی سامان سب میراث میں تقسیم ہوں گے۔ پلاٹ کی جتنی اقساط مرحوم نے ادا کی ہیں وہ مرحوم کا ترکہ ہے باقی اقساط جو ادا کرے گا وہ باقی پلاٹ کا حقدار ہوگا۔ مرحوم نے اپنی زندگی میں جو کچھ بیوی کو گفٹ کرکے اس کے حوالہ کردیا وہ بیوی کا ہے مرحوم کا ترکہ نہیں ہے۔
مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کی ایک صورت تو یہ ہے کہ ان کو فروخت کر کے ان کے پیسے تقسیم کر لیے جائیں اور یہ صورت بھی ہو سکتی ہے کہ فروخت کرنے کی بجائے کوئی وارث انہیں اپنے پاس رکھ لے اور باقی ورثا کو ان کے حصے کے بقدر یا تو پیسے دے دے یا کسی دوسری چیز میں حصہ دے دے۔ بالغ ورثاء میں سے کوئی ایک یا سب کسی وارث کو اپنی رضامندی سے اپنا پورا حصہ یا اس میں سے کچھ دینا چاہیں تو شرعاً منع نہیں ہے۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
8×4=32
| بیوی | 1بیٹی | 4 بہنیں |
| 8/1 | 2/1 | عصبہ |
| 1 | 4 | 3 |
| 1×4 | 4×4 | 3×4 |
| 4 | 16 | 12 3+3+3+3 |
3۔گریجوٹی چیک حکومت کی طرف سے عطیہ ہے اور اسے حکومت کی قوانین کے مطابق مرحوم کے زیر کفالت افراد میں تقسیم کیا جائے گا۔ ہماری معلومات کے مطابق زیر کفالت افراد میں مرحوم کی بیوی، بیٹی اور غیر شادی شدہ بہن بھی شامل ہے لہذا یہ رقم مذکورہ افراد میں برابر تقسیم ہوگی۔ جبکہ بینک اکاؤنٹ مرحوم کے نام پر ہے لہذا وہ مرحوم کے مال میں شامل ہو کر وراثت میں تقسیم ہوگا۔
4۔ مرحوم نے جو کچھ بیوی کو اپنی زندگی میں ہبہ کیا تھا وہ بیوی کی ملکیت ہے۔
5۔ مذکورہ پینشن گورنمنٹ کی پالیسی کے مطابق چونکہ بہن کے نام ہے لہذا وہ اسی کی ملکیت ہے اور وراثت میں تقسیم نہ ہوگی۔
6۔ بیوہ اور بیٹی اپنا خرچہ خود برداشت کریں۔ میت کی میراث سے جو حصہ ملا ہے اس سے نفقہ کا انتظام کریں۔ اگر وہ ناکافی ہو تو دیگر رشتہ دار نفقہ کا انتظام کریں۔
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص263) میں ہے:
(لا) تجب النفقة بأنواعها (لمعتدة موت مطلقا)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (4/ 228) میں ہے:
«ولقريب محرم فقير عاجز عن الكسب بقدر الإرث لو موسرا) أي تجب النفقة للقريب إلى آخره؛ لأن الصلة في القرابة القريبة واجبة دون البعيدة والفاصل أن يكون ذو رحم محرم، وقد قال تعالى {وعلى الوارث مثل ذلك} [البقرة: 233]»…..وقيد بالفقر؛ لأن الغني نفقته على نفسه وقيدنا بالعجز عن الكسب وهو بالأنوثة مطلقا وبالزمانة والعمى ونحوها في الذكر فنفقة المرأة الصحيحة الفقيرة على محرمها فلا يعتبر في الأنثى إلا الفقر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved