- فتوی نمبر: 35-129
- تاریخ: 20 اپریل 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تحقیقات حدیث
استفتاء
تبلیغی حضرات ایک حدیث بیان کرتے ہیں “ایک سنت زندہ کرنے پر سو شہیدوں کا ثواب ملتا ہے”کیا یہ صحیح ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ حدیث درست ہے البتہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص کسی ایسی سنت پر عمل کرےجس کے مقابلے میں بدعت رائج ہوچکی ہو ، تو اس کو مذکورہ فضیلت حاصل ہوگی۔ نیز جہاں پہلے ہی کسی سنت پر عمل ہو رہا ہو اس کے مقابلے میں کسی دوسری سنت پر عمل کرنے سے مذکورہ حدیث کی فضیلت حاصل نہ ہوگی۔
مرقاة شرح مشكاة (1/ 262) میں ہے:
(وعن أبي هريرة) رضي الله عنه (قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (من تمسك) أي: عمل (بسنتي عند فساد أمتي) أي: عند غلبة البدعة والجهل والفسق فيهم (فله أجر مائة شهيد: لما يلحقه من المشقة بالعمل بها بإحيائها وتركهم لها كالشهيد المقاتل مع الكفار لإحياء الدين بل أكثر.
فيض القدير (6/ 261) میں ہے:
(المتمسك بسنتي) تمثيل للمعلوم بالمحسوس تصوير للسامع كأنه ينظر إليه ليحكم اعتقاده متيقنا فينجو (عند فساد أمتي) حين يكون كما قال فتن القاعد فيها خير من القائم والقائم خير من الماشي والماشي خير من الساعي فمن تمسك بها حينئذ (له أجر شهيد) وفي رواية البيهقي في الزهد مئة شهيد وذلك لأن السنة عند غلبة الفساد لا يجد المتمسك بها من يعينه بل يؤذيه ويهينه فيصيره على ما يناله بسبب التمسك بها من الأذى يجازى برفع درجته إلى منازل الشهداء
قال الطيبي: وقال عند فساد أمتي ولم يقل فسادهم لأن أبلغ كأن ذواتهم قد فسدت فلا يصدر منهم صلاح ولا ينجع فيهم وعظ
(طس عن أبي هريرة) قال الهيثمي: فيه محمد بن صالح العدوي ولم أر من ترجمه وبقية رجاله ثقات انتهى وقد رمز المصنف لحسنه
ملفوظات حکیم الامت(3/311)میں ہے:
فرمایا :مولانا اسماعیل شہیدؒ نے جب دہلی میں آمین بالجہر اور رفع یدین پر عمل کرانا شروع کیا تو لوگوں کی شکایت کی وجہ سے ان کو حضرت شاہ عبدالقادر صاحبؒ نے بلا کر کہا : ایسا کیوں کرتے ہو ؟ کہا : میں سنت ِمردہ کو زندہ کرتا ہوں اور ایسی سنت کے احیاء سے سو شہیدوں کا ثواب ملتا ہے ـ فرمایا اسماعیل تم سمجھے نہیں ، یہ ثواب اس سنت میں ہے جس کے مقابل بدعت ہو اور جس کے مقابل دوسری سنت ہو وہاں احیاء سنت بہر صورت بدستور قائم رہتا ہے ـ مولانا شہیدؒ بالکل خاموش ہو گئے ـ حضرت والا نے فرمایا عجیب تحقیق غامض ہے ـ
فقہی مضامین مولفہ ڈاکٹر مفتی عبد الواحد صاحبؒ (ص 224) میں ہے:
سو شہیدوں کا ثواب اس سنت کو زندہ کرنے میں ملتا ہے جس کے مقابلے میں بدعت رائج ہو گئی ہو اور جہاں ایک حدیث کی جگہ دوسری حدیث پر عمل ہو رہا ہو یا حدیث کی ایک احتمالی صورت کی جگہ دوسری احتمالی صورت پر عمل ہو رہا ہو تو وہ موقع اس فضیلت کا محل نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved