• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بیوی کو طلاق کا تحریری میسج بھیجنے کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری شادی کو تقریبا 16 سال ہو گئے ہیں اور میرے چار بچے ہیں، میرے بیوی میکے گئی ہوئی تھی اور واپس نہیں آ رہی تھی،  میں نے اسے واٹس ایپ پر تحریری میسج بھیجا جس کے الفاظ یہ تھے کہ ’’طلاق دیتا ہوں‘‘ میری طلاق دینے کی نیت بالکل نہیں تھی، میں نے اسے ڈرانے کے لیے میسج کیا تھا تاکہ وہ واپس آ جائے، جب میں نے یہ میسج کیا اس وقت  نارمل حالت تھی، نہ تو غصہ  تھا اور نہ ہی بیوی نے طلاق کا مطالبہ کیا تھا، کیا اس میسج سے میری بیوی کو طلاق ہو گئی ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگر واقعتا آپ کی طلاق کی نیت نہیں تھی تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، تاہم طلاق کی نیت نہ ہونے پر آپ کو اپنی بیوی کے سامنے قسم کھانی ہو گی، اگر آپ قسم کھانے سے انکار کریں گے تو بیوی اپنے حق میں ایک رجعی طلاق شمار کرے گی، رجعی طلاق کا حکم یہ ہے کہ  اگر شوہر رجوع کرنا چاہے تو عدت کے اندر رجوع کر سکتا ہے، اگر شوہر نے عدت کے اندر رجوع نہ کیا تو عدت گزرنے سے رجعی طلاق بائنہ بن جائے گی  جس کی وجہ سے سابقہ نکاح ختم ہو جائے گا تا ہم کم از کم دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح ہو سکے گا۔

توجیہ:ہماری تحقیق میں میسج کی تحریر کتابت مستبینہ غیرمرسومہ ہے اور کتابت مستبینہ غیرمرسومہ سے شوہر کی طلاق کی نیت ہو یا شوہر نے غصہ یا مذاکرہ طلاق میں طلاق لکھی ہو تو طلاق واقع ہوتی ہے، اور اگر طلاق کی نیت نہ ہو اور نارمل حالت میں طلاق لکھی ہو  تو طلاق واقع نہیں ہوتی، تاہم نیت نہ ہونے پر شوہر کو قسم دینی پڑتی ہےاگر شوہر قسم نہ دے تو بیوی اپنے حق میں طلاق سمجھنے کی پابند ہے،  مذکورہ صورت میں چونکہ میسج کے ان الفاظ سے کہ ’’ طلاق دیتا ہوں‘‘ شوہر کی طلاق کی نیت نہیں تھی اور غصہ یا مذاکرہ طلاق بھی نہیں تھا، لہذا  اگر شوہر طلاق کی نیت نہ ہونے پر قسم دے دے تو مذکورہ صورت میں کوئی طلاق واقع نہ ہو گی اور اگر قسم دینے سے انکار کر دے تو بیوی کے حق میں ایک رجعی طلاق واقع ہو جائے گی۔

فتاوی شامی (442/4) میں ہے:

قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق یقع وإلا لا.

ہدایہ (67/4) میں ہے:

وفي كل موضع ‌يصدق ‌الزوج على نفي النية إنما يصدق مع اليمين لأنه أمين في الإخبار عما في ضميره والقول قول الأمين مع اليمين

بنایہ شرح ہدایہ (372/5) میں ہے:

م: (ثم في كل موضع ‌يصدق ‌الزوج على نفي النية) ش: أي يصدق م: (وإنما يصدق مع اليمين لأنه أمين في الإخبار عما في ضميره، والقول قول الأمين مع اليمين) ش: لنفي التهمة عنه، وبه قال الشافعي، وقال مالك وأحمد في الكنايات الخفية كذلك لا في الظاهر، واشتراط اليمين لأن في قوله إلزامًا على الغير وفيه ضعف، فاحتيج إلى المؤكد وهو اليمين

فتح القدیر (65/4)میں ہے:

(قوله: وفي كل موضع ‌يصدق ‌الزوج في نفي النية إنما يصدق مع اليمين إلخ) قدمنا بيانه ونقله من الكافي للحاكم ولزوم اليمين لما فيه من الإلزام على الغير بعد ثبوت احتمال نفيه بالكناية فيضعف مجرد نفيه فيقوى باليمين، والأقرب أنه لنفي التهمة أصله حديث تحليف ركانة المتقدم.

بحرالرائق (529/3) میں ہے:

وفي الهداية: وفي كل موضع ‌يصدق ‌الزوج على نفي النية إنما يصدق مع اليمين لأنه أمين في الإخبار عما في ضميره، والقول قول الأمين مع اليمين اهـ وسيأتي إن شاء الله تعالى في الاستحلاف أن القول له مع اليمين إلا في عشر مسائل لا يمين على الأمين وهي في القنية.

درمختار مع ردالمحتار (455/4) میں ہے:

وكذا يا طال بكسر اللام وضمها لأنه ترخيم أو أنت طال بالكسر وإلا توقف على النية،

(قوله وإلا توقف على النية) أي وإن لم يكسر اللام في غير المنادى توقف الوقوع على نية الطلاق: أي أو ما في حكمها كالمذاكرة والغضب كما في الخانية. وفي كنايات الفتح أن الوجه إطلاق التوقف على النية مطلقا لأنه بلا قاف ليس صريحا بالاتفاق لعدم غلبة الاستعمال ولا الترخيم لغة جائز في غير النداء، فانتفى لغة وعرفا فيصدق قضاء مع اليمين إلا عند الغضب أو مذاكرة الطلاق فيقع قضاء أسكنها أو لا، وتمامه فيه.

درمختار مع ردالمحتار (455/4) میں ہے:

(و) يقع (بباقيها) أي باقي ألفاظ الكنايات المذكورة، فلا يرد وقوع الرجعي ببعض الكنايات أيضا نحو: أنا بريء من طلاقك وخليت سبيل طلاقك وأنت مطلقة بالتخفيف، وأنت أطلق من امرأة فلان، وهي مطلقة، وأنت ط ا ل ق وغير ذلك مما صرحوا به (خلا اختاري) فإن نية الثلاث لا تصح فيه أيضا ولا تقع به ولا بأمرك بيدك ما لم تطلق المرأة نفسها كما يأتي (البائن إن نواها أو الثنتين)

(قوله بالتخفيف) أي تخفيف اللام، أما بالتشديد فهو صريح يقع به بلا نية كما مر في بابه (قوله وأنت أطلق من امرأة فلان) فإن كان جوابا لقولها إن فلانا طلق امرأته وقع ولا يدين لأن دلالة الحال قائمة مقام النية؛ حتى لو لم تكن قائمة لم يقع إلا بالنية نهر في باب الصريح عن الخلاصة فليس من الصريح وإلا لم يتوقف على النية، وعلله في الفتح بأن أفعل التفضيل ليس صريحا فافهم (قوله وهي مطلقة) أي والحال أن امرأة فلان مطلقة وإلا فلا يقع، وهذا القيد ذكره في البحر، لكن في الفتح في أول باب الصريح أنه لا فرق بين كونها مطلقة أو لا. قال: والمعنى عند عدم كونها مطلقة لأجل فلانة، يعني أن (من) في قوله من امرأة فلان للتعليل (قوله وأنت ط ل ق) قدمنا في باب الصريح عن الذخيرة تعليله بأن هذه الحروف يفهم منها ما هو المفهوم من صريح الكلام إلا أنها لا تستعمل كذلك، فصارت كالكناية في الافتقار إلى النية.

بدائع الصنائع (283/3) میں ہے:

أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد، فأما زوال الملك، وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال، وإنما يثبت في الثاني بعد انقضاء العدة، فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت.

درمختار (5/42) میں ہے:

(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع)

فقہ اسلامی (مصنفہ ڈاکٹر مفتی عبد الواحد صاحب ، ص:117)میں ہے:

اگر کسی کاغذ پر یا دیوار پر یا زمین پر قلم سے یا انگلی سے صرف اتنا لکھ دیا کہ میری بیوی کو طلاق یا لکھ دیا کہ زینب (نام کی بیوی) کو طلاق تو اگر اعتدال کی (یعنی نارمل) حالت ہو اور طلاق دینے کی نیت سے لکھا ہو تو طلاق ہو گئی۔ اور اگر طلاق کا کر کے لکھا لیکن نیت طلاق دینے کی نہیں بلکہ محض ڈرانے کی یا مذاق کرنے کی نیت تھی تب بھی طلاق ہو گئی۔ اور اعتدال کی حالت میں محض لکھائی کی مشق یا قلم کے تجربہ کی نیت سے لکھا تو طلاق نہیں ہو گی۔ اور اگر بیوی سے لڑائی جھگڑے کی حالت میں لکھا یا بیوی کے مطالبہ طلاق پر لکھا تو اس قرینہ کی وجہ سے بھی طلاق ہو جائے گی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved