• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

” اللهم صل على روح محمد فى الارواح ” کی تحقیق

استفتاء

حضورﷺ کے دیدار کا وظیفہ

اللهم صل على روح محمد فى الارواح وعلى جسده فى الاجساد وعلى قبره فى القبور

1۔كيا یہ درود ٹھیک ہے؟

2۔یہ درود کس حدیث سے ثابت ہے اور اس کی فضیلت کیا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔یہ درود شریف  اپنے الفاظ کے لحاظ سے ٹھیک ہے۔

2۔  اس درود شریف کو ابو القاسم  السبتی ؒ نے اپنی کتاب ” الدر المنظم فی المولد المعظم” میں ذکر کیا ہے اور اس کی یہ فضیلت ذکر کی ہے کہ جو یہ درود شریف پڑھے گا وہ مجھے خواب میں دیکھے گا اور جو مجھے خواب میں دیکھے گا وہ مجھے قیامت  کے دن دیکھے گا اور جو مجھے قیامت کے دن  دیکھے گا میں اس کی شفاعت کروں گا اور جس کی میں شفاعت کروں گا وہ میرے حوض سے پانی پیئے گا اور اللہ تعالیٰ اس کے جسم کو آگ پر حرام  کردیں گے ۔ تاہم علامہ سخاویؒ نے اپنی کتاب “القول البدیع” میں اسے ذکر کرکے  کہا ہے کہ مجھے ابھی تک اس کی کوئی اصل نہیں ملی اور ہمیں بھی تلاش کے باوجود  اس کی سند نہیں ملی لہذا  جب تک اس کی  سند نہ ملے اس وقت تک اس  حدیث کے صحیح یا ضعیف یا موضوع (من گھڑت) ہونے کے بارے میں  کچھ نہیں کہہ سکتے۔

الدر المنظم  فی المولد المعظم (ص:149) میں ہے:

ومنها انه صلى الله عليه وسلم قال: من صلى على روح محمد فى الارواح وعلى جسده فى الاجساد وعلى قبره فى القبور رآني في منامه ومن رأني في منامه رأني يوم القيامة، ومن رآني يوم القيامة شفعت له ومن شفعت له ‌شرب ‌من ‌حوضي وحرم الله جسده على النار.

الأعلام للزركلی (5/ 323) میں ہے:

محمد بن أحمد بن محمد بن الحسين العزَفي، أبو القاسم، من نسل ابن أبي عَزفة اللخمي: ‌أول ‌من ‌ولي ‌الإمارة من بني أبي عزفة، بسبتة، ثار فيها، وقتل واليها، وتأمّر، وملك طنجة، ودخل أصيلا (بقرب طنجة ” وهدم سورها. ومات بسبتة. دامت دولته ثلاثين سنة وشهرين و 16 يوما. وكان فقيها فاضلا له نظم. أكمل ” الدر المنظم، في مولد النبي المعظم ” من تأليف أبيه أبي العباس أحمد

القول البدیع (ص:117)  میں ہے:

ويروى عنه  صلى الله عليه وسلم  أنه قال من صلى  على روح محمد في الأرواح وعلى جسده في الأجساد وعلى قبره في القبور رآني في منامه ومن رأني في منامه رأني يوم القيامة، ومن رآني يوم القيامة شفعت له ومن شفعت له ‌شرب ‌من ‌حوضي وحرم الله جسده على النار ذكره أبو القاسم السبتى في كتابه الدر المنظم في المولد المعظم له لكنه لم أقف على أصله إلى الآن.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved