- فتوی نمبر: 31-391
- تاریخ: 03 مئی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > صریح الفاظ سے طلاق کا حکم
استفتاء
بیوی کا بیان:
میرا نام فاطمہ ہے، میری عمر 50 سال ہے، میں قسم کھاتی ہوں کہ جو تحریر میں لکھ رہی ہوں اس کے لکھنے میں مجھ پر کسی بھی قسم کا کوئی ذہنی دباؤ نہیں ہے یہ میری اپنی تحریر ہے، میرے اور شوہر کے درمیان تین رمضان 14 مارچ 2024 رات 10 بجے جھگڑا ہوا ہم دونوں میاں بیوی بہت زیادہ غصہ میں تھے کہ اسی دوران میرے شوہر نے میرے دیور جس کا نام زید ہے اس کو بلایا اور اس کے سامنے لڑائی کے دوران یہ لفظ بولے کہ ’’میں نے تجھے طلاق دی‘‘ یہ لفظ دو دفعہ کہے ہیں تیسری دفعہ میں نے نہیں سنا، کیونکہ دو دفعہ سننے کے بعد میں بہت زیادہ غصہ میں آ گئی تھی ، میں نے کہا ایک دفعہ تم پہلے کی لڑائی کا کہتے ہو کہ میں نے ایک دفعہ کہا ہوا ہے اور دو بار اب کہہ دیا ہے چلو میری تین طلاق تو ہو گئی ہے اب میرا تم سے کوئی تعلق نہیں رہا، در اصل شوہر سے 15 سال پہلے بھی ایک جھگڑا ہوا تھا جس میں اس نے کہا تھا کہ ’’خاموش ہو جاؤ کہیں میرے منہ سے طلاق نہ نکل جائے‘‘اس لڑائی میں انہوں نے یہ الفاظ کہے تھے جو کہ اس وقت میں نے نہیں سنے تھے وہاں موجود لوگوں نے بعد میں مجھے بتائے تھے، اور جس وقت اب جھگڑا ہو رہا تھا اس وقت میری بیٹی جو کہ 12 سال کی ہے وہ بھی موجود تھی، میں دو سال سے رحم کے کینسر کی مریض ہوں جس کی وجہ سے دو سال سے حیض نہیں آئے اور میرا ابھی علاج ہو رہا ہے مجھے کیموتھراپی کے کورس لگتے ہیں اس بیماری کی وجہ سے میرے ذہن پر کافی اثر ہوا ہے میں کچھ باتیں اور چیزیں وغیرہ بھی بھول جاتی ہوں۔
شوہر کا بیان :
میں بکر خان یہ بیان دے رہا ہوں، اس کا ایک ایک لفظ سچ ہے، ہماری شادی کو تقریبا 28 سال ہو گئے ہیں، اب میری بیوی سخت بیمار ہے، وہ کینسر کی مریضہ ہے، جب ہمارا جھگڑا ہوا اسے کیمو تھراپی کے کورس لگ رہے تھے اس کا دماغ کام نہیں کرتا تھا ، جھگڑا بہت زیادہ ہو گیا وہ بہت بول رہی تھی میں نے اسے دو دفعہ طلاق دے دی، تیسری نہیں دی کیونکہ میری ایک بیٹی ہے جو 12 سال کی ہےاور پھر میری بیوی بیمار بھی ہے، 15 سال پہلے بھی ہمارا جھگڑا ہوا تھا تو میں نے اسے طلاق کی دھمکی دی تھی طلاق نہیں دی تھی، اب جھگڑے میں وہ یہ بول کر چلی گئی تھی کہ تم نے دو دفعہ اب طلاق دی ہے اور ایک دفعہ پہلے دی تھی میری تین طلاقیں پوری ہو گئی ہیں جبکہ میں نے تین طلاقیں نہیں دی ہیں دو طلاقیں دی ہیں اور یہی سچ ہے اللہ کی قسم کھا کر بول رہا ہوں کہ میرا ایک ایک لفظ سچ ہے۔
تنقیح: اس واقعہ کے بعد میاں بیوی علیحدہ رہے، فون پر بھی کوئی بات نہیں ہوئی، تاہم شوہر کا کہنا ہے کہ اس طلاق کے چند دن بعد ہی جب بھی کسی نے پوچھا تو میں نے یہی کہا کہ ’’میں نے صرف دو طلاقیں دی ہیں وہ اب بھی میری بیوی ہے‘‘ اور اس میں نیت یہی ہوتی تھی میں اس کو رکھنا چاہتا ہوں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگر واقعتاً ان دو طلاقوں سے پہلے شوہر نے کوئی طلاق نہیں دی تھی اور نہ ہی کسی موقع پر ایک طلاق دینے کا اقرار کیا تھا تو دو رجعی طلاقیں واقع ہو گئی ہیں پھر چونکہ شوہر نے عدت میں رجوع کر لیا تھا اس لیے نکاح باقی رہا۔
نوٹ: آئندہ کے لیے شوہر کے پاس صرف ایک طلاق کا حق باقی ہے۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں شوہر نے 15 سال جو الفاظ کہے تھے کہ ’’خاموش ہو جاؤ کہیں میرے منہ سے طلاق نہ نکل جائے‘‘ ان سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، پھر شوہر نے بیوی کو جو دو بار کہا کہ ’’میں نے تجھے طلاق دی‘‘ تو ان الفاظ سے دو رجعی طلاقیں واقع ہو گئیں اور طلاق کے کچھ دن بعد عدت میں رجوع کر لینے کی وجہ سے نکاح باقی رہا کیونکہ یہ الفاظ کہ ’’ وہ اب بھی میری بیوی ہے‘‘ رجوع کی نیت سے کہے جائیں تو رجوع ہو جاتا ہے۔
درمختار مع ردالمحتار(4/509) میں ہے:
كرر لفظ الطلاق وقع الكل.
(قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق.
بدائع الصنائع (283/3) میں ہے:
أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد، فأما زوال الملك، وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال، وإنما يثبت في الثاني بعد انقضاء العدة، فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت.
فتاوی عالمگیری (458/1) میں ہے:
(ألفاظ الرجعة صريح وكناية) (فالصريح) : راجعتك في حال خطابها أو راجعت امرأتي حال غيبتها وحضورها أيضا ومن الصريح ارتجعتك ورجعتك ورددتك وأمسكتك ومسكتك بمنزلة أمسكتك فهذه يصير مراجعا بها بلا نية.
(والكناية) : أنت عندي كما كنت وأنت امرأتي فلا يصير مراجعا إلا بالنية كذا في فتح القدير
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved