• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مجبوری کی صورت میں حکومتی بچت سکیم میں رقم جمع کروانا

استفتاء

عرض ہے کہ میری چھوٹی ہمشیرہ (فاطمہ ) جس کی عمر 41 سال ہے اس کے تین بچے ہیں دو بیٹیاں جن کی عمریں بالترتیب 16 اور 14 سال ہے تیسرا بیٹا جس کی عمر 12 سال ہے، تینوں بچے پڑھ رہے ہیں۔اس کا شوہر  زید  روزی کمانے کے سلسلے میں منع کرنے کے باوجود08 ستمبر 2015 کو کسی ایجنٹ کے ذریعے گروپ کی شکل میں  بلوچستان کے راستے ایران، ترکی، یونان روانہ ہوا ایران کا بارڈر کراس کرنے کے بعد ترکی کا بارڈر کراس کرنے سے پہلے تک  زید  گھر والوں سے رابطے میں تھا پھر رابطہ ختم ہو گیا اسی گروپ کے چند ساتھی لاپتہ ،گرفتار اور مر گئے۔ زید  کا کچھ پتہ نہ چلا ،کسی دوسرے ایجنٹ کے ذریعے معلوم کروایا تو اس کا کہنا تھا کہ آپ کے بندے کا کوئی  پتہ نہیں جیل میں بھی نہیں ہے اب نو سال کا عرصہ گزر گیا ہے اس کے شوہر کا کچھ پتہ نہیں کہ زندہ بھی ہے یا نہیں؟  میری بہن اپنے سسرالی گھر میں اپنے تینوں  بچوں کے ساتھ زندگی بسر کر رہی ہے، یہ گھر اس کے  خاوند اور خاوند کے بھائیوں کی مشترکہ ملکیت ہے ۔

میرے دو بھائی ہیں جو میری بہن کو ماہوار خرچہ دے رہے ہیں لیکن پھر بھی گزارا ناممکن ہو رہا ہے کیونکہ ان کے کاروباری حالات  بھی نارمل جا رہے ہیں ان میں سے ایک بھائی نے اپنی بہن  فاطمہ  کو 14 لاکھ کی رقم دینے کا کہا ہے اور ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ اسی رقم سے گذر اوقات، تعلیم اور شادی کے اخراجات بھی کرنے ہیں اب ان سارے  خصوصی حالات و واقعات کے بعد  آپ سے گذارش ہے کہ شرعی گنجائش بتائی جائے کہ کیا میری یہ بہن اس  رقم کو حکومتی بچت سکیم میں جمع کروا کر اپنی ضروریات پوری کرسکتی ہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں قومی بچت سرٹیفکیٹ میں تو رقم جمع کروانا جائز نہیں ہے البتہ مذکورہ  مجبوری کی وجہ سے کسی اسلامی بینک مثلاً میزان بینک  میں رقم جمع کرواکر نفع لینے کی گنجائش ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved