• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

اللہ تعالیٰ کو گالیاں نکالنے سے نکاح کا حکم

استفتاء

میرا سوال یہ ہے کہ مجھ سے ایک بہت بڑا گناہ ہوا ہے جس کے بارے میں میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ دراصل کچھ عرصہ سے میرا کام بالکل بھی نہیں چل رہا تھا کام اتنا ٹھنڈا ہو گیا تھا کہ میں لگاتار قرض کے نیچے آتا جا رہا تھا اللہ پاک سے بہت دعائیں مانگیں نفل پڑھے تسبیح وظائف ہر چیز کی مگر کچھ بھی فرق نہیں پڑ رہا تھا اس کے بعد  مجھے جوئے کی لت لگ گئی جوئے سے قرض اتارنے کی بہت کوشش کی مگر لگاتار قرض بڑھتا ہی گیا جب بھی ہارتا تو اللہ پر بہت غصہ آتا غصے نے اس قدر پاگل کر دیا کہ غصے میں اللہ کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا حتی کہ اللہ پاک کو نعوذ باللہ ماں بہن کی  گالیاں بھی نکالنا شروع کر دیں، اللہ کی وحدانیت کا انکار نہیں کیا لیکن یہ ضرور کہا کہ اللہ ہندوؤں کو پتہ نہیں کیوں دیتا ہے جبکہ وہ اس کے دشمن ہیں اللہ ہندوؤں پر اتنی زیادہ پیسوں کی برسات کرتا ہے مجھ پر کیوں نہیں کرتا مجھ سے کیا ہے میرے لیے اللہ کے پاس  ہر چیز ختم کیوں ہو جاتی ہے یا شاید اللہ کو مجھے دینے کا حوصلہ ہی نہیں ہے۔

میری رہنمائی فرمائیں کہ ان الفاظ کے بعد کیا میں دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا ؟کیا میرا نکاح فسخ ہو گیا اور مجھے نکاح دوبارہ کرنا پڑے گا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں  اگر آپ کی دماغی کیفیت ٹھیک تھی اور آپ نے اپنے ہوش وحواس میں مذکورہ باتیں کہی ہیں تو آپ اسلام سے خارج ہوگئے ہیں اور آپ کا نکاح ختم ہوگیا ہے لہٰذا آپ پر لازم ہے کہ سچے دل سے توبہ واستغفار کریں اور تجدید  ایمان اور تجدید نکاح کریں۔

ہندیہ (3/535) میں ہے:

(ومنها ‌ما ‌يتعلق ‌بذات ‌الله تعالى وصفاته وغير ذلك) يكفر إذا وصف الله تعالى بما لا يليق به، أو سخر باسم من أسمائه، أو بأمر من أوامره، أو نكر وعده ووعيده، أو جعل له شريكا، أو ولدا، أو زوجة، أو نسبه إلى الجهل، أو العجز، أو النقص ويكفر بقوله يجوز أن يفعل الله تعالى فعلا لا حكمة فيه ويكفر إن اعتقد أن الله تعالى يرضى بالكفر.

البحر الرائق (5/139) میں ہے:

فيكفر إذا وصف الله تعالى بما لا يليق به أو سخر ‌باسم ‌من ‌أسمائه أو بأمر من أوامره وأنكر وعده أو وعيده أو جعل له شريكا أو ولدا أو زوجة أو نسبه إلى الجهل أو العجز أو النقص.

فتاویٰ محمودیہ (2/484) میں ہے:

سوال: نادانستگی میں زید نے اللہ میاں کو چند ناشائستہ کلمات کہہ دیئے، اللہ پاک کو ماں بہن کی گالی دی، دل میں یہ خیال پیدا ہو اکہ عبادت وغیرہ سے کچھ نہیں ہوتا ہے، جتنی نماز پڑھو اور دعامانگو اتنا ہی الٹا ہوتا ہے سفر میں بالو ریت کا راستہ تھا سائیکل بگڑ گئی تھی، پریشان تھے، اس وقت یہ مندرجہ بالا الفاظ منہ سے نکلے تو اسکے بعد ایمان رہا یا کفر لازم ہو گیا؟ اگر زید شادی شدہ ہے تو اس کا نکاح قائم رہا یا تجدیدِ نکاح کی ضرورت ہے؟

جواب: زید کو لازم ہے کہ تجدیدِ ایمان کرے اس کا نکاح بھی ختم ہو گیا۔

خیر الفتاویٰ (1/202) میں ہے:

سوال: ،زید  جو اپنے آپ کو مسلمان کہلواتا ہے اور سنت نبوی پیروکاری کی بھی خدمت کرتا ہے اس کے باوجود مالک حقیقی اللہ جل شانہ کی شان اقدس میں گستاخی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو العیاذ باللہ ماں بہن  کی گالیاں دیتا ہے، ایسے شخص کا کیا حکم ہے؟ …………

جواب: وفى العالمگيرية:يكفر إذا وصف الله تعالى بما لا يليق به أو سخر ‌باسم ‌من ‌أسمائه أو بأمر من أوامره، روایت بالا سے معلوم ہوا کہ اگر مذکور نے واقعی اللہ جل شانہ کی شان اقدس میں وہ الفاظ استعمال کیے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہیں تو پھر ایسا شخص (زید) مسلمان نہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved