• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

شریعت میں باپ کا بیٹی سے ملنے کا حق

استفتاء

6 ماہ سے سابقہ اہلیہ اپنے والدین کے گھر پر مقیم ہیں اور میری بیٹی انہی کے پاس ہے جو کہ تقریبا د وسال کی ہے اور اس 6 ماہ کے عرصہ  کے اندر انہوں نے میری دو سالہ بیٹی سے نہ ملوایا ہے اور نہ ہی ملنے دیا ہے۔ اس دوران  بیٹی سے ملنے کی میں نے کئی بار کوشش کی ہے۔ براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ شریعت میں باپ کا ملنے کا  کیا حق ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں باپ بچی کو روزانہ دیکھنے کا اور اس کی دیکھ بھال کا  حق رکھتا ہے ۔

ہندیہ (1/543) میں ہے:

الولد متى كان ‌عند ‌أحد ‌الأبوين لايمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده كذا في التتارخانية  ناقلا عن الحاوي

شامی(5/281) میں ہے:

وفي الحاوي: ‌له ‌إخراجه ‌إلى ‌مكان يمكنها أن تبصر ولدها كل يوم كما في جانبها فليحفظ

وفى الشامية: ‌الولد ‌متى ‌كان ‌عند ‌أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعهده. اهـ. ولا يخفى أن السفر أعظم مانع. (قوله: كما في جانبها) أي كما أنها إذا كان الولد عندها لها إخراجه إلى مكان يمكنه أن يبصر ولده كل يوم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved