• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ورثاء میں سونے کی تقسیم

استفتاء

28 سال پہلے شوہر کی وفات ہوئی۔ اس وقت ان کی الماری سے تقریبا آٹھ ماشے کا سونا نکلا اور کچھ چاندی نکلی اس وقت ورثاءمیں بیوی ، تین بیٹیاں،  والدہ،  تین بھائی اور ایک بہن حیات تھیں۔  وہ سونا اور چاندی میں نے لے لیا تھا ابھی تک اس کے بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتایا اب کیا کیا جائے؟

وضاحت مطلوب ہے: ابھی فی الحال شوہر کے ورثاء میں کون کون زندہ ہے اور جن کی وفات ہوئی ہے ان سب کی تاریخ وفات بالترتیب ارسال کریں اور جو جو فوت ہوئے ہیں ہر ایک کے ورثاء کو بھی بالترتیب ذکر کریں۔

جواب وضاحت: ایک بھائی فوت ہوا ، فوت شدہ بھائی کے ورثاء میں بیوی، تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ پھر والدہ کا انتقال ہوا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں مرحوم کی الماری سے جو زیورات ملے تھے ان میں تمام ورثاء  کا حصہ ہے لہذا ان زیورات کو موجودہ ورثاء  میں اس طرح تقسیم کیا جائے گا  کہ زیورات کےکل  16128 حصے کیے جائیں گے جن میں سے مرحوم کی بیوی کو 2016حصے(12.5 فیصد) ، تین بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کو 3584  حصے(22.22فیصد فی کس) دو بھائیوں میں سے ہر بھائی کو 1280 حصے (7.94 فیصدفی کس)،  بہن کو 640 حصے ( 3.97 فیصد)،  مرحوم کے فوت شدہ بھائی کی بیوہ کو 24 حصے(0.15 فیصد) اس کے تین بیٹوں میں سے  ہر بیٹے کو 34 حصے (0.21فیصد فی کس) اور  دو بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کو 17 حصے  (0.105فیصد فی کس) ملیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved