• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بیت اللہ کے غلاف کو چھونے اور چومنے کا حکم

استفتاء

بیت اللہ کے غلاف (غلافِ کعبہ) کو  چھونا اور چومنا جائز ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جائز ہے۔

شامی (2/524) میں ہے:

(وقبل العتبة) ‌تعظيما ‌للكعبة (ووضع صدره ووجهه على الملتزم وتشبث بالأستار ساعة) كالمستشفع بها

(قوله وتشبث) أي ‌تعلق ‌كما ‌يتعلق عبد ذليل بطرف ثوب لمولى جليل قهستاني

امداد الفتاویٰ (11/398) میں ہے:

سوال :کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ہذا میں کہ شہر موریس کی جامع مسجد میں قبلہ رخ کی دیوار کے ساتھ محراب کے متصل بیت اللہ کے غلاف کا ٹکڑا دوگز لمبا اور سوا گز چوڑا لٹکایا ہوا ہے۔ اور وہاں کے باشندے میمن وغیرہ سب سوداگر لوگ خاص وعام بعد فراغ ہر نماز پنچگانہ کے اس ٹکڑے کو بوسہ دیتے ہیں ۔ اور بعد نماز جمعہ کے تو بوجہ کثرت نمازیوں کے بوسہ دینے میں بہت ہی ہجوم کرتے ہیں ۔ کوئی چار بوسہ دیتا ہے کوئی زیادہ کوئی کم۔ جیسا کہ کسی کا موقع لگا، ویسا ہی اس نے کیا۔ اور کوئی کثرت ہجوم کی وجہ سے محروم بھی رہ جاتا ہے، اور اس امر میں اس کو بہت معظم سمجھ کر کمال کوشش کرتے ہیں ، کسی قدر جاننے والے لوگ تعظیم کا بوسہ دیتے ہیں ، اورعوام کا حال معلوم نہیں کہ وہ کیا سمجھ کر بوسہ دیتے ہیں ، لیکن ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی اس میں بہت مبالغہ کرتے ہیں ، آیا یہ امر شرعاً موجب ثواب ہے یا کسی امر خارجی کی وجہ سے مستوجب عذاب ہے۔ بینوا توجروا۔

الجواب: غلاف کعبہ زاد ہا اللہ تنویراً کے تبرک ہونے اور اس کی تقبیل تبرک کے جواز میں تو کوئی کلام نہیں ۔ اگر بوسہ دینے میں صرف اسی قدر اعتقاد ہو اور کسی کو ایذا بھی نہ ہو تو کچھ مضائقہ نہیں ۔ موجب ثواب و برکت ہے۔ اور غلو کرنا علماً یا عملاً مذموم اور مستوجب عذاب ہے۔ مثلاً اس کی تقبیل کو فرض وواجب کے برابر سمجھنا یا مسلمانوں کو اژدہام سے ایذا دینا، اس غلوا عتقاد کے دفع کے لئے حضرت عمرؓ نے حجر اسود کو خطاب کر کے فرمایا تھا۔ اعلم أنک حجر لا تنفع ولا تضر الحدیث۔ اور اس غلو عملی کے رفع کے لئے آنحضرت محمدﷺ نے حضرت عمرؓ کو ارشاد فرمایا تھا جس کو صاحب ہدایہ نے نقل کیا ہے۔ وهذه عبارتها. واستلمه إن استطاع من غیر أن یوذي مسلما لما روي أن النبي ﷺ قبل الحجر الأسود و وضع شفتيه عليه وقال لعمر رضى الله عنه: إنک رجل أید توذي الضعیف فلا تزاحم الناس علی الحجر ولکن إن وجدت فرجة فاستلمه و إلا فاستقبله وهلل وکبر ولأن الاستلام سنة والتحرز عن أذی المسلم واجب

 جب حجر اسود کی تقبیل میں یہ غلو منع ہے جو جز کعبہ ہے سو غلاف کعبہ کی تقبیل میں بدرجۂ اولیٰ ممنوع ہوگا۔ کہ محض ایک منفصل شے ہے، اگر چہ اقتران سے متبرک ہوگیا۔ واللہ اعلم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved