- فتوی نمبر: 35-160
- تاریخ: 07 مئی 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تحقیقات حدیث
استفتاء
عن ابن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن أبي جعفر قال: خطب عمر إلى علي ابنته، فقيل: إنها صغيرة، فقيل لعمر: إنما يريد بذلك منعها، قال: فكلمه، فقال علي: أبعث بها إليك، فإن رضيت فهي امرأتك، قال: فبعث بها إليه قال: فذهب عمر فكشف عن ساقها، فقالت: أرسل، فلولا أنك أمير المؤمنين لصككت عينك [مصنف عبدالرزاق، رقم الحديث: 10352]
مذكوره بالا روايت ميں فكشف عن ساقها کا کیا جواب دیا جاسکتا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ واقعہ کی تمام روایات کو سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ” فكشف عن ساقها ” سے پہلے حضرت علیؓ اپنی اس صاحبزادی کا نکاح حضرت عمر ؓسے کر چکے تھے لیکن صاحبزادی کو اس نکاح کا علم نہ تھا اس لیے صاحبزادی نے مذکورہ جملے کہے چنانچہ جب یہ واقعہ صاحبزادی نے حضرت علیؓ کو آکر سنایا تو حضرت علیؓ نے فرمایا ” فإنه زوجك” [ترجمہ: وہ تمہارا شوہر ہے] (اور شوہر کے لیے بیوی کے جسم کو دیکھنا یا چھونا جائز ہے)۔
الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (8/ 339) میں ہے:
«أم كلثوم بنت علي بن أبي طالب ، ولدت قبل وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم، أمها فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم، خطبها عمر بن الخطاب إلى علي، فقال له: إنها صغيرة، فقال له عمر: زوجنيها يا أبا حسن؛ فإني أرصد من كرامتها ما لا يرصده أحد، فقال له علي: أنا أبعثها إليك؛ فإن رضيتها فقد زوجتكها، فبعثها إليه ببرد، وقال لها: قولي له: هذا البرد الذي قلت لك، فقالت ذلك لعمر، فقال: قولي له: قد رضيت رضي الله عنك، ووضع يده على ساقها، فكشفها، فقالت: أتفعل هذا؟ لولا أنك أمير المؤمنين لكسرت أنفك، ثم خرجت حتى جاءت أباها، فأخبرته الخبر، وقالت: بعثتني إلى شيخ سوء، فقال: يا بنية، فإنه زوجك، فجاء عمر إلى مجلس المهاجرين في الروضة، وكان يجلس فيها المهاجرون الأولون، فجلس إليهم، فقال لهم: رفئوني، فقالوا: بماذا يا أمير المؤمنين؟ قال: تزوجت أم كلثوم بنت علي بن أبي طالب، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: “كل نسب وسبب وصهر منقطع يوم القيامة إلا نسبي وسببي وصهري”، فكان لي به عليه السلام النسب والسبب، وأردت أن أجمع إليه الصهر، فرفئوه.
ترجمہ:حضرت ام کلثوم بنت علی بن ابی طالب رسول اللہ ﷺ کی وفات سے پہلے پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ تھیں۔حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح طلب کیا۔ حضرت علی ؓنے فرمایا: وہ ابھی کم عمر ہیں۔ حضرت عمر ؓنے کہا: اے ابو الحسن! ان کا نکاح مجھ سے کر دیجئے، کیونکہ میں ان کی عزت و شرف کا وہ لحاظ رکھوں گا جو کوئی اور نہیں رکھ سکتا۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا: میں انہیں آپ کے پاس بھیج دیتا ہوں، اگر آپ ان سے راضی ہیں تو تحقیق میں نے اس کا نکاح آپ سے کردیا ۔چنانچہ حضرت علی ؓ نے انہیں ایک چادر دے کر حضرت عمر ؓ کے پاس بھیجا اور کہا کہ ان سے کہنا، یہ وہ چادر ہے جس کا میں نے ذکر کیا تھا۔جب وہ حضرت عمر ؓ کے پاس پہنچیں اور پیغام دیا تو حضرت عمر ؓ نے کہا اپنے والد سے کہنا میں راضی ہوں، اللہ آپ سے راضی ہو۔ اور حضرت عمر ؓنے ان کی پنڈلی پر ہاتھ رکھا اور اسے کھول دیا۔ حضرت ام کلثوم ؓنے کہا: کیا آپ ایسا کرتے ہیں؟ اگر آپ امیر المؤمنین نہ ہوتے تو میں آپ کی ناک توڑ دیتی۔پھر وہ واپس اپنے والد کے پاس آئیں اور سارا واقعہ بتایا اور کہا: آپ نے مجھے ایک برے بوڑھے کے پاس بھیجا ہے۔ حضرت علی ؓنے فرمایا: بیٹی! وہ تمہارے شوہر ہیں۔پھر حضرت عمرؓ مہاجرین کی مجلس میں گئے اور کہا: مجھے مبارکباد دو۔ انہوں نے پوچھا: کس بات کی؟ حضرت عمر ؓنے کہا: میں نے ام کلثوم بنت علی سے نکاح کر لیا ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے:”قیامت کے دن ہر نسب اور سسرالی تعلق ختم ہو جائے گا سوائے میرے نسب اور سسرالی تعلق کے۔“لہٰذا میرا آپ ﷺ سے نسب اور تعلق تو تھا، میں نے چاہا کہ سسرالی تعلق بھی قائم ہو جائے۔چنانچہ لوگوں نے انہیں مبارکباد دی۔
سير أعلام النبلاء (3/ 501) میں ہے:
«قال أبو عمر بن عبد البر: قال عمر لعلي:زوجنيها أبا حسن، فإني أرصد من كرامتها ما لا يرصد أحد. قال: فأنا أبعثها إليك، فإن رضيتها، فقد زوجتكها يعتل بصغرها .قال: فبعثها إليه ببرد، وقال لها: قولي له: هذا البرد الذي قلت لك. فقالت له ذلك، فقال: قولي له: قد رضيت رضي الله عنك .ووضع يده على ساقها، فكشفها، فقالت: أتفعل هذا؟ لولا أنك أمير المؤمنين، لكسرت أنفك. ثم مضت إلى أبيها، فأخبرته، وقالت: بعثتني إلى شيخ سوء!قال: يا بنية! إنه زوجك .
الوافی بالوفيات (24/ 272) میں ہے:
«أم كلثوم بنت علي بن أبي طالب ولدت قبل وفاة النبي صلى الله عليه وسلم أمها فاطمة خطبها عمر بن الخطاب رضي الله عنه إلى علي رضي الله عنه فقال إنها صغيرة فقال عمر زوجنيها يا أبا حسن فإني ارصد من كرامتها ما لا يرصده أحد فقال علي أنا أبعثها إليك فإن رضيتها فقد زوجتكها فبعث إليها ببرد وقال لها قولي له هذا البرد الذي قلت لك فقالت ذلك لعمر فقال فقولي له قد رضيت رضي الله عنك ووضع يده على ساقها فكشفها فقالت أتفعل هذا لولا أنك أمير المؤمنين لكسرت أنفك
ثم خرجت فجاءت أباها وقالت بعثتني إلى شيخ سوء قال يا بنية فإنه زوجك فجاء عمر إلى مجلس المهاجرين في الروضة فقال لهم رفئوني فقالوا بم ذا قال تزوجت أم كلثوم بنت علي سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول كل نسب وسبب وصهر منقطع يوم القيامة إلا نسبي وسبي وصهري فكان لي به عليه السلام النسب والسبب وأردت أأجمع إليه الصهر فرفأوه وتزوجها على مهر أربعين ألفا وولدت لعمر زيد بن عمر الأكبر ورقية»
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved